مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال بھی رشوت ستانی اپنے عروج پر رہی

مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال بھی رشوت ستانی اپنے عروج پر رہی

جموں(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال بھی رشوت ستانی اپنے عروج پر رہی،106گزیٹیڈ افسران سمیت240سرکاری ملازمین رشوت لینے میں ملوث پائے گئے دوسری جانب رشوت خوری کوتشویشناک قراردیتے ہوئے مقبوضہ وادی گورنر این این وہرا نے کرپشن کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ گورنرنے ڈائریکٹر ویجی لینس شیخ اویس احمد اور عمومی انتظامی محکمہ کے سیکریٹری محمد اشرف بخاری کے ساتھ ایک میٹنگ میں ویجی لینس محکمہ کے کام کاج کا جائزہ لیا۔عمومی انتظامی محکمہ کے سیکریٹری محمد اشرف بخاری نے گورنر کو مطلع کیا کہ کل ملا کر محکمہ کے پاس 16معاملات قانونی چارہ جوئی کیلئے التوامیں پڑے ہیں جن میں سے7کیسوں کا تعلق پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس و خود مختار اداروں سے ہے ۔ڈائریکٹر ویجی لینس سے گورنر کو مطلع کیا کہ گزشتہ برس240سرکاری ملازمین ،جن میں 106گزیٹیڈ افسران شامل ہیں ،کے خلاف79 کیس درج کئے گئے جبکہ 30ملازمین کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں دھر لیا گیااور ان کے خلاف کیس رجسٹر ہوچکے ہیں۔

ان کا کہناتھا تھا کہ اس کے علاوہ قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کے ضمن میں حکومت کو الرٹ نوٹس جاری کئے جارہے ہیں۔گورنر نے مقررہ وقت کے اندر اندر تمام زیر التوا معاملات کی تحقیقات مکمل کرکے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے۔گورنر نے ویجی لینس محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ سرکاری محکموں پر قریبی نظر گزر رکھیں تاکہ سرکاری سروسز کو جوابدہ اور شفاف بنایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 226کے تحت جائزہ کیلئے تمام کیسوں کو معیاد بند مدت کے تحت نامزد کمیٹی کے سامنے پیش کیاجائے۔گورنر نے جی اے ڈی سیکریٹری سے کہا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقررہ وقت کے اندر تمام ملازمین کے سالانہ کارکردگی رپورٹ مکمل ہوں اور اس ضمن میں وہ تمام محکموں کے نام ایک سرکیولر جاری کریں جس میں ان سے کہاجائے کہ وہ ہر محکمہ میں31مارچ2014تک کے اے پی آر 5فروری تک جمع کرائیں۔اس ضمن میں کہا گیا کہ تمام محکمے دفعہ226کے تحت آنے والے کیسوں کو انتظامی سیکریٹری کے پاس جمع کرائیں اور اے پی آر مکمل کرانے کیلئے تربیتی کورسز یقینی بنائیں۔انہوں نے جی اے ڈی کو ہدایت کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام محکمے آر ٹی آئی کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم کریں اور اس کو ویب گاہ پر دستیاب رکھیں جس کو متواتر اپ ڈیٹ کیاجاناچاہئے جبکہ تمام محکمے ملازمین کے غیر منقولہ جائیداد سے متعلق تفاصیل کا جائزہ لیں۔انہوں نے تمام کورپشن معاملات کو زیرو ٹرلرنس کی بنیادوں پر سختی سے نمٹیں۔اس دوران ایک اور جائزہ میٹنگ میں چیف ویجی لینس کمیشنز کلدیپ کھڈااو ر ویجی لینس کمشنرآر کے جیراتھ نے گورنر کو مطلع کیاکہ 1157شکایات کمیشن کو گزشتہ برس موصول ہوئیں جن میں سے 64معاملات کو انتظامی کارروائی کیلئے متعلقہ محکموں کے پاس بھیج دیاگیا جبکہ 26کیسوں میں کیس درج کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔گورنر کو یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران8372شکایات محکمانہ ویجی لینس افسران کو روانہ کی جاچکی ہیں۔گورنر نے چیف ویجی لینس کمشنر پر زور دیا کہ وہ تمام انکوائری معاملات کی معیاد بند کارروائی یقینی بنانے کیلئے محکمانہ ویجی لینس افسران کے ساتھ ماہانہ بنیادوں پر میٹنگوں کا انعقاد عمل میں لائیں۔کھڈانے گورنر کو بتایا کہ محکموں کو متواتر طور ایڈوائزری جاری کی جاتی ہے کہ وہ شفافیت یقینی بنانے کیلئے ای ٹینڈرنگ اور ای ٹرانسفر کو متعارف کریں تاکہ کورپشن کے امکانات محدود ہوسکیں۔گورنر نے کھڈا کو ہدایت دی کہ وہ متواتربنیادں پر تمام زیر التوا انکوائریوں کی نگرانی کرکے سٹیٹ ویجی لینس ایکٹ2011کے تحت قانونی چارہ جوئی کی منظوری بھی دیں۔انہوں ن ے کھڈا سے کہا کہ وہ بے ایمان ملازمین کے خلاف شکایات درج کرانے کیلئے لوگوں کو حوصلہ دینے کی خاطر جانکاری مہم چلائیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...