ہماری قومی زبان

ہماری قومی زبان
ہماری قومی زبان

  

زبان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتی ہے جو قومیں اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور ورثے کا خیال رکھتی ہیں، وہی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا ممکن نہیں ہوا۔ اردو پاکستان کی قومی زبان اور دنیا میں بولی جانے والی پہلی پانچ زبانوں میں سے ایک ہے،مگر اس زبان کے ساتھ اپنے ہی لوگ سوتیلوں جیسا سلوک کر رہے ہیں اور اگر یہی صورت حال بدستور قائم رہی تو زبان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس اردو دشمنی میں عام آدمی عمومی اور ہمارا اشرافیہ طبقہ خصوصی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارے وہ ادارے جنہیں ہم جدید تعلیم کے نمائندہ ادارے کہتے ہیں اس سلسلے میں پیش پیش ہیں اور اردو زبان کو نظر انداز کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے۔ ان اداروں میں اردو کے مضمون اردو پڑھانے والوں اور اردو بولنے والوں کے ساتھ جانبدارانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اردو کے اساتذہ کا مشاہر ہ اور دیگر مراعات بھی دوسرے اساتذہ کی نسبت کم ہوتی ہیں، بلکہ اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اردو پڑھانے کی ذمہ داری اسلامیات یا کسی دیگر مضمون کے استاد کے سپرد کر دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے طلباء کو اردو کے حوالے سے نہ صرف اچھی بنیاد فراہم نہیں کی جاتی، بلکہ ان کی اردو میں دلچسپی بھی ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ ان اساتذہ کے سطحی معیار کی بناء پر طلباء اردو کے بنیادی اصولوں سے آگاہی حاصل نہیں کر پاتے۔ اس ناروا سلوک کی انتہاء یہ ہے کہ اردو بولنے والے لوگ ان نام نہاد جدید تعلیمی اداروں میں احساس کمتری کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ قابل ِ شرم بات یہ ہے کہ کچھ موقر اداروں میں اردو بولنے پر جرمانہ یا دیگر سزاؤں کا اطلاق بھی کیا جاتا ہے۔

غلط انگریزی بولنے پر فخر اور درست اردو بولنے پر لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ احساس کمتری صرف ان نام نہاد اداروں میں ہی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکا ہے۔ انگریزی کی اندھی تقلید میں ہم حد سے گزر گئے ہیں اور اپنی تہذیب کے ساتھ ساتھ زبان سے بھی دوری کا مظاہرہ معاشرے میں کھلے عام دیکھا جا سکتا ہے۔ ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جسے اپنی ثقافت، تہذیب، رہن سہن، ظاہری بود و باش اور اپنی زبان بولتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ اصل میں یہ ہمارے لئے عزت اور فخر کا باعث ہونا چاہئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی دوسری اقوام کے سامنے اپنے آپ کو منوانے میں ناکام رہے ہیں۔ان نام نہاد جدید تعلیمی اداوں کا اردو کے ساتھ ناروا سلوک ہماری زبان کو تباہی کے دہانے تک لے گیا اور ان اداروں سے فارغ التحصیل طلباء میں بعض اردو میں اپنا نام لکھنے سے بھی قاصر ہیں۔ یہاں شعراء اور شاعری کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اردو کو شجر ممنوعہ کے طور پر گردانا جاتا ہے۔ حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ تقریری اور نظم خوانی کے مقابلوں کا مواد طلباء رومن انگریزی میں لکھتے ہیں۔

اردو کو نقصان پہنچانے میں جہاں جدید تعلیمی اداروں کا کردار ہے وہیں کیمبرج یونیورسٹی اور اس کے امتحانی نظام کا بھی خاصہ عمل دخل ہے۔اگر ہم تھوڑا پیچھے چلے جائیں، تو2000ء میں او لیول میں ایف ایس سی کا مروجہ نصاب پڑھایا جاتا تھا، مگر پھر نصاب میں تبدیلی ہوئی اور پاکستانی کہانیوں کے نام کے نصاب میں ایسے افسانے شامل کئے گئے، جو طلباء کی ذہنی سطح سے بلند تھے۔ ان افسانوں میں انتظار حسین کا افسانہ ’’ کشتی‘‘ اور خالدہ حسین کا ’’ہزار پایہ‘‘ جیسے علامتی افسانے تھے۔علاوہ ازیں منشاء یاد کا افسانہ ’’پانی سے گھرا پانی‘‘ بھی شامل نصاب تھا، جو انتہائی نازک اور حساس موضوع پر لکھا گیا ہے۔ ان کہانیوں کی تفہیم کے لئے پختہ خیالی اور بالغ نظری کی ضرورت تھی، جس کی توقع او لیول کے نو عمر طلباء و طالبات سے کرنا عبث ہے، بلکہ نو عمری میں طلباء کو ایسی کہانیاں پڑھانا بذات ِ خود ایک سوالیہ نشان تھا۔کچھ ایسی صورت حال شاعری کے ساتھ بھی تھی، جس میں اساتذہ کا دقیق کلام شامل کیا گیا تھا۔ یہ نصاب طلباء کی دسترس سے تو باہر تھا ہی، بلکہ خود ساختہ اساتذہ کے لئے بھی ایک بھاری پتھر تھا، جسے اٹھانا ان کے بس میں نہیں تھا۔ یوں اساتذہ اور طلباء اپنے لئے آسان راہیں تلاش کرنے لگے اور اس طرح طلباء کی اردو میں دلچسپی بتدریج کم ہوتی گئی۔

اس طرح ہر تین سال بعد نصاب تبدیل ہوتا رہا اور اسے طوعاً و کرہاً تسلیم کرنا پڑا۔ یہ نصاب کون منتخب کرتا ہے اور کن بنیادوں پہ منتخب کیا جاتا۔ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق اردو کا نصاب پاکستان کی بجائے ’’ ماریشیس‘‘ میں منتخب کیا جاتا ہے، جہاں بھارتی نژاد مسلمان اردو کا نصاب منتخب کرتے ہیں، جس کی تصدیق اس امر سے ہوتی ہے کہ اے لیول کے نصاب میں بھارت میں مقیم ترقی پسند شعراء کا کلام شامل کیا گیا ہے،جو اے لیول کے طلباء کے ذہنی معیار سے چنداں مطابقت نہیں رکھتا، مگر ہم سب کو نہ صرف اس منتخب شدہ نصاب کی پابندی کرنی پڑتی ہے، بلکہ ہر تیسرے سال بے محل تبدیلیوں کو تسلیم کرنے کا کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑتا ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ اس بے محل اور تفہیم سے عاری نصاب کے ساتھ یونیورسٹی طلباء کو اچھے گریڈ دینے میں بھی ضرورت سے زیادہ سخاوت کا مظاہرہ کرتی ہے اور ایک سطحی درجے کی تفہیم رکھنے والا طالب علم بآسانی ’’اے‘‘ گریڈ میں کامیاب ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے طلباء میں اردو پڑھنے اور سمجھنے میں بے توجہی اور لاپرواہی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ پچھلے پانچ سال کے دوران کیمبرج یورنیورسٹی میں شعبہ اردو کا انچارج ہونے کا اعزاز ایک ایسے شخص کو حاصل تھا جس کی تعلیم گویجوایشن سے بھی کم تھی۔اس امر کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی اردو کو کس حد تک اہمیت دے رہی ہے۔

ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ کہ صرف اردو ’’نصاب بی‘‘ کے چناؤ کا اختیار بھی ہوتا ہے، جسے اردو دشمنی کی ایک واضح مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ نصاب بظاہر مبتدی طلباء کے لئے ہے، مگر پاکستان میں طلباء کی کثیر تعداد ’’نصاب اے‘‘ کا انتخاب ہی کرتی ہے اور گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق پاکسان بھر سے 33ہزار طلباء نے ’’نصاب بی‘‘ جبکہ صرف 2700 کے قریب طالب علموں نے ’’نصاب اے‘‘ کا انتخاب کیا۔ یہ تناسب نہ صرف اردو بولنے والی قوم کے لئے شرمناک ہے، بلکہ اردو زبان کے مستقبل کے لئے خطرے کی علامت بھی ہے۔ اب2014ء اور2015ء کے لئے منتخب کیا جانے والا نصاب انتہائی مختصر ہے، جس کی تکمیل کے لئے تین سال کا عرصہ مقرر ہے، جبکہ یہ نصاب ایک سال میں بآسانی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے، مگر قابلِ افسوس امر یہ کہ اس انتہائی آسان اور مضحکہ خیز حد تک کم نصاب ہونے کے باوجود90فیصد طلباء ’’نصاب بی‘‘ کا ہی انتخاب کرتے ہیں، کیونکہ طلباء کی عدم دلچسپی کے علاوہ اکثر اداروں کے پاس ’’نصاب اے‘‘ پڑھانے کے لئے اساتذہ ہی دستیاب نہیں ہیں۔

اس سے بھی خطرناک امر یہ ہے کہ اگلے سال سے لندن یونیورسٹی کی طرف سے اردو نصاب کے نعم البدل کے طور پر صرف دو سوالوں پر مبنی ایک پیپر کی آپشن دی جا رہی ہے جسے تمام نام نہاد تعلیمی اداروں نے اپنانے کا مصمم عزم کر رکھا ہے۔یہ عمل اصل میں اردو کو او لیول کے نصاب سے نکالنے کے مترادف ہے۔ ایسا صرف اس لئے ہو رہا ہے کہ اے گریڈ لینے کی طلب اوردوڑ میں نہ صرف یہ نام نہاد جدید تعلیمی ادارے شامل ہیں، بلکہ والدین کی مرضی بھی اس میں شامل ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کے باسی اپنے بچوں کو اردو پڑھانا چنداں ضروری نہیں سمجھتے اور اردو کو ایک بوجھ کے طور پر برداشت کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک اور رجحان بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اکثر لوگ سٹیج پر یا محفلوں میں یہ بات کہہ کر ماڈرن ہونے کا ثبوت دیتے ہیں کہ ’’میری اردو کمزور ہے‘‘ یہ اعلان آپ نے انگریزی کے حوالے سے شاید ہی کبھی سُنا ہو، حالانکہ اس صورت میں یہ درست بھی ثابت ہو گا۔اردو کی تباہی میں الیکٹرانک میڈیا بھی پیچھے نہیں ہے، اس پر ایک علیحدہ کالم کی ضرورت ہے یہاں پر صرف اتنا ہی کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ عصر حاضر کے ٹی وی چینلوں کو جو اردو کو ہی ذریعہ اظہار بناتے ہیں، زبان دانی اور اغلاط کا چنداں خیال نہیں ر کھتے اور شاید نہ ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ ان کے ہاں میسر عملہ اردو زبان و ادب سے سرے سے بے بہرہ ہے۔

اب آخر مَیں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا بھی ذکر کرتا چلوں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت صرف لاہور میں سرکاری اور غیر سرکاری60سے زائد یونیورسٹیاں (جو اپنے آپ کو یونیورسٹی کہتی ہیں) موجود ہیں، جن میں صرف تین یا چار ایسی یونیورسٹیاں ہیں، جہاں اردو بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے باقی سب اردو کا نام سننے کو تیار نہیں ہیں۔ اس وجہ سے اردو زبان میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے، جو کہ زبان کی بقاء کے لئے خطرے کی علامت ہے۔ لائبریریاں مسدود اور کتاب کا وجود طلباء کی زندگی سے ناپید ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون بھی زبان کو نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ عصر حاضر میں اردو کا قاری ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ آج سے پچاس سال پہلے ادب کی کتاب جتنی تعداد میں چھپتی تھی، آج بھی اتنی ہی چھپتی ہے، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ دوسری طرف ہمارے ادباء اور مصنفین نے بھی اس سلسلے میں کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھایا، بلکہ ایک طویل عرصے سے پُراسرار خاموشی ہے۔ کچھ شعراء روزگار کی خاطر ٹی وی پروگراموں میں مسخروں کا روپ دھارنے پر مجبور ہیں۔

راقم الحروف اس کالم کے ذریعے اربابِ اقتدار سے یہ درخواست کرتا ہے کہ اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی لے کر انقلابی اقدامات کئے جائیں ورنہ اردو زبان صرف بولنے کی حد تک رہ جائے گی اور اس کی تدریس اور تفہیم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کروڑوں کا بجٹ رکھنے والی یونیورسٹیوں کو سرکاری سطح پر پابند کیا جائے کہ وہ اردو کے مضمون کو شامل نصاب کریں اور نام نہاد جدید تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہوئے انہیں اردو زبان کی تعلیم و ترویج کو یقینی بنانے پر مجبور کیا جائے۔ ان اقدامات کے بغیر ہماری قومی زبان جس کی مقبولیت میں پوری دنیا میں اضافہ ہو رہا ہے اپنے گھر میں بے یارو مددگار ہو جائے گی۔ اگر آج اس سلسلے میں مناسب اقدامات سے گریز کیا گیا تو آنے والا وقت اور نسلیں ہم مَیں سے کسی کو معاف نہیں کریں گی،جو اس تباہی کے ذمہ دار ہیں۔

مزید :

کالم -