بحران سبق سکھاتے ہیں، مگر۔۔۔!

بحران سبق سکھاتے ہیں، مگر۔۔۔!
بحران سبق سکھاتے ہیں، مگر۔۔۔!

  


پٹرول کا بحران آج نہیں تو کل ختم ہو جائے گا۔ کیا اس بحران کے ختم ہونے پر حکومت کو سکھ کا سانس لینا چاہیے، یا اسے ٹیسٹ کیس بنا کر اپنی پالیسیوں اور کارکردگی پر احتسابی نگاہ ڈالنی چاہیے؟ ہر بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی تو اپنائی گئی، اس سے سبق نہیں سیکھا گیا۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ حکومت نے اب تک جتنے اقدامات کئے ہیں، اجلاسوں اور چند معطلیوں کے ذریعے صرف وقت گزارنے کی کوشش کی ہے، تاکہ تیل کی درآمد کے بعد اس بحران پر قابو پایا جا سکے۔ اگر ایسا ہے تو یہ بہت احمقانہ بات ہے۔ پیپلزپارٹی کو لوڈشیڈنگ نے وہ دھچکا پہنچایا تھا کہ عام انتخابات میں عوام نے اسے بُری طرح مسترد کردیا۔ لوڈشیڈنگ تو اب بھی اتنی ہی جاری ہے، البتہ عوام نے اسے تکلیف دہ حقیقت سمجھ کر قبول کر رکھا ہے، لیکن بیٹھے بٹھائے جو پٹرول نہ ملنے کی افتاد ٹوٹی ہے تو لوگ حکومت کے بارے میں منفی انداز سے سوچنے لگے ہیں۔یہ امر مسلم لیگ(ن) کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے، مگر یہاں تو صورت حال ہی مختلف ہے۔

جہاں وزیرخزانہ اسحاق ڈار یہ کہہ کر اس بحران کو ڈسٹ بن میں ڈال دیتے ہیں کہ یہ حکومت کے خلاف سازش ہے، وہاں یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ حکومت اصلاح احوال کا بھی سوچے گی۔ یہ کیسی سازش ہے جو حکومتی عہدیداروں کے سوا کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔ یہ سازش کس نے کی ہے؟ کاش وزیرخزانہ یہ بھی بتا دیتے ۔ معاملہ تین وزارتوں کا ہے، اپوزیشن تو ایسی سازش کر ہی نہیں سکتی کہ اس کے بس میں ایسا کرنا ہے ہی نہیں، یہ تو سرکار کے معاملات ہیں، جن میں فنڈز، فیصلے اور ترجیحات ہی اہم کردار ادا کرتی ہیں، تین محکموں کی تثلیث ہی میں سارا سکینڈل یا سازش پروان چڑھ سکتی ہے۔ اگر کسی وزیر نے دوسرے وزیر کے خلاف سازش کر دی ہے تو ایسا ممکن ہے، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ حکومت کے خلاف باہر سے کسی نے سازش کی ہے تویہ زیب داستان کے سوا اور کچھ نہیں۔ وزارت خزانہ کہتی ہے، بجلی کے واجبات کی مد میں پانچ سو ارب روپے وصول کئے جائیں اور یہ کام وزارت پانی و بجلی کرے۔ وزارت پانی و بجلی کہتی ہے کہ ہمیں فنڈز فراہم کئے جائیں، تاکہ ہم بجلی پیدا کریں۔ رہی پٹرولیم کی وزارت تو وہ پی ایس او کے دیوالیہ ہونے کی دہائی دیتی ہے کہ تیل کی ایل سی کھلوانے کے لئے وزارت خزانہ نے پیسے ہی جاری نہیں کئے۔اس سارے کھیل میں سازش کہاں سے ہوئی اور کس نے کی؟ کوئی گھر کا بھیدی ہی یہ لنکا ڈھا سکتا ہے۔ وزیرخزانہ نے اشارہ تو دے دیا ہے، اب مزید لنکا بھی وہی ڈھا دیں اور سازش کا تانا بانا بھی سامنے لے آئیں، تاکہ عوام بھی جان سکیں کو کس ناہنجار نے ان کی زندگی اجیرن کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس بحران کے بعد وزیراعظم محمد نوازشریف کے چہرے پر جو سنجیدگی نظر آئی، وہ وزراء کے چہروں پر نہیں تھی۔ ٹی وی ٹاک شوز میں وہ اس سارے بحران کو ہی جھٹلانے پر تلے ہوئے ہیں۔ کچھ میڈیا پر برس رہے ہیں اور کچھ یہ تاویل لا رہے ہیں کہ پٹرول پمپوں پر لمبی لمبی قطاروں سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ پٹرول مل رہا ہے۔ گویا ان کے نزدیک عوام کا گھنٹوں قطار میں لگنا کوئی معیوب بات نہیں، اصل بات یہ ہے کہ انہیں پٹرول مل تو جاتا ہے۔ اسے کہتے ہیں جلتی پر تیل ڈالنا، جسے موجودہ حوالے سے جلتی پر پٹرول ڈالنا کہا جا سکتا ہے۔سوائے چودھری نثار علی خان اور خواجہ سعد رفیق کے کسی وزیر کو یہ توفیق نہیں ہو سکی کہ وہ اس بحران پر شرمندگی کا اظہار کرے، حتیٰ کہ اس سکینڈل کی براہ راست زد میں آنے والے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی بھی اس ایک نکتے کو گیند کی طرح اُچھال رہے ہیں کہ مانگ بڑھ جانے کی وجہ سے تیل کی سپلائی میں کمی آئی۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ وزیراعظم اپنے پسندیدہ بیورو کریٹس سے تو بوقت ضرورت آنکھیں پھیر لیتے اور انہیں معطل بھی کر دیتے ہیں، لیکن اپنے دیرینہ اور بااعتماد سیاسی ساتھیوں سے کبھی منہ نہیں پھیرتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک کسی وزیر سے استعفا طلب نہیں کیا اور سارا دباؤ خود ہی برداشت کر رہے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں ان کی حکومتی ساکھ کو اتنا نقصان عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں نے نہیں پہنچایا، جتنا اس پٹرول سکینڈل نے پہنچا دیا ہے۔ جس طرح وزیراعلیٰ شہباز شریف نے سانحہء ماڈل ٹاؤن کے بعد اشک شوئی کے لئے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے استعفا لے لیا تھا، اسی طرح وزیراعظم نوازشریف بھی اگر کم از کم وفاقی وزیر پٹرولیم کو صرف اس لئے ذمہ دار قرار دے کر سبکدوش کر دیں کہ اس معاملے کا تعلق براہ راست ان کی وزارت سے ہے تو ایک اچھا پیغام جائے گا۔ اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا موجودہ حکومت کے وزیر نااہل ہیں، ان کا وزارت کے امور پر کوئی کنٹرول نہیں کہ بحران کی ذمہ داری وزارت کے سیکرٹری اور افسروں پر ڈال کر انہیں فارغ کر دیا گیا ہے۔۔۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہو، جہاں سیاسی حکومتیں یہ سمجھ لیں کہ کسی وزیر کے خلاف کارروائی خود حکومت کے خلاف کارروائی سمجھی جائے گی، وہاں اچھی روایات قائم نہیں ہو سکتیں۔

اپنی نوعیت کے اس سنگین اور انوکھے بحران سے حکومت کی ساکھ کو اس لئے بھی شدید نقصان پہنچا ہے کہ اس کے پس پردہ وزارتوں کے درمیان باہمی رابطے کا سنگین فقدان دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بحران راتوں رات پیدا نہیں ہو گیا۔ اس کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہوں گے۔ سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ کسی مرحلے پر بھی بحران کو آخری مرحلے تک جانے سے نہیں روکا گیا۔ گویا حکومتی نظام میں ایسا کوئی آپشن ہے ہی نہیں کہ جو بحران کو پہلے ہی بھانپ کر ایسی تدابیر کرے کہ حالات قابو سے باہر نہ ہو جائیں۔ گزشتہ دنوں وزیر اطلاعات پرویز رشید سے جب ایک صحافی نے پوچھا کہ اگر تحریک انصاف دوبارہ احتجاج شروع کرتی ہے تو حکومت کیسے نمٹے گی۔۔۔ تو انہوں نے فوراً کہا، جیسے پہلے نمٹا ہے۔ پہلے کیسے نمٹا ہے؟ سب جانتے ہیں۔ پورا ملک بے یقینی کا شکار رہا، خود حکومت بار بار یہ کہتی رہی کہ دھرنوں کی وجہ سے معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، کئی سربراہانِ مملکت پاکستان کے دورے پر نہیں آئے اور نظام حکومت عملاً محبوس رہا، اگر پھر اسی طرح نمٹنا ہے تو شاید اس بار یہ نسخہ کارگر نہ ہو سکے، کیونکہ ہمیشہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومت معاملات کو حل کرنے کی بجائے طویل عرصے تک لٹکا دے اور ملک میں بے چینی موجود رہے۔ بات کہیں اور نکل گئی، بتانا یہ مقصود ہے کہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان سے آنکھیں چرانے کا انداز حکمرانی بجائے خود ایک بڑا مسئلہ ہے۔

قارئین کویاد ہوگا کہ جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا تھا اور دھرنے کے خلاف سب متحد ہو گئے تھے تو پیپلزپارٹی کے رہنما چودھری اعتزازاحسن نے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے وزراء کی عادتیں بدلیں، ان کی گردنوں میں تکبر کا جو سریا آیا ہوا ہے، اسے نکالیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کے لئے زیادہ مسائل نااہل وزراء نے پیدا کئے ہیں۔ اس وقت اعتزاز احسن کی بات بڑی توجہ سے سنی گئی تھی اور وزیراعظم نے داد بھی دی تھی، اگرچہ چودھری نثار علی خان نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعتزازاحسن پر سنگین الزامات لگائے تھے، لیکن بالآخر ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے وزیراعظم نے خود اعتزازاحسن سے معذرت کی تھی۔ آج پٹرول بحران کے ضمن میں بھی وزراء کی نااہلی صاف نظر آ رہی ہے اور ایک بار پھر وزیراعظم نوازشریف کو معاملات سنبھالنے پڑ رہے ہیں۔۔۔ایک عام خیال یہ تھا کہ دھرنا سیاست کو پارلیمنٹ کے ذریعے ناکام بنانے کے بعد وزیراعظم محمد نوازشریف اپنی کابینہ میں رد و بدل کریں گے اور نااہل وزراء سے جان چھڑالیں گے، مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ اب ایک بار پھر ایسا بحران آیا ہے کہ جس کی شدت نے حکومت کی صحیح معنوں میں چولیں ہلا دی ہیں۔ کیا اس بحران سے کوئی سبق سیکھا جائے گا یا اس سے نکلنے کے بعد پھر نظام حکمرانی اسی طرح چلتا رہے گا، تاوقتیکہ کوئی نیا بحران پیدا نہ ہو جائے۔

مزید : کالم


loading...