تلک الایام ندا ولہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلک الایام ندا ولہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلک الایام ندا ولہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  


قرآن کریم کی ایک آیہء مبارکہ ہے : ’’ہم ایام کو (لوگوں ) کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔

قرآن حکیم کی بہت ساری آیات ایسی ہیں جن کے مکمل اور حتمی معانی ابھی تک دنیا والوں کی سمجھ میں نہیں آ سکے۔ وجہ یہ ہے کہ دنیا ابھی اس سماجی اور سائنسی دور کے تحقیقی اوج تک نہیں پہنچی کہ جب ان آیات کے معانی آشکار ہو کر سامنے آ جائیں گے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ان آیات کا موضوع اور مفہوم تاحال ناقابل فہم ہے۔ یا اگر یوں کہئے کہ ’’نافہمی‘‘ کے قریب قریب ہے۔زیادہ درست ہوگا کہ جوں جوں وقت گزرے گا، وہ اسرار و رموزِ کائنات جو ہنوز دنیا والوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، ایک ایک کرکے کھلتے جائیں گے۔یہ وہ وقت ہوگا جب قرآن کی ان آیات، کہ جن کا ذکر میں نے سطور بالا میں کیا ہے، کا مفہوم عمیل طور پر بھی نوشتہ ء دیوار بن جائے گا۔ٹیلی فون کی ایجاد سے پہلے کس کو معلوم تھا کہ اگر کوئی انسانی آواز کسی دوسرے انسان کے حلقہ ء سماعت سے باہر ہو گی تو وہ ناقابلِ سماعت یا ناقابلِ فہم ہوگی یعنی دوسرا انسان اس کو نہ سن سکے گا،نہ سمجھ سکے گا؟

راقم السطور ملٹری ہسٹری کا ایک ادنیٰ طالب علم ہے۔ جنگ و جدال کی دنیا میں انیسویں اور بیسویں صدیوں میں ایسے ایسے حیرت انگیز انکشافات اور ایسی ایسی تحیرخیزایجادات ہوئیں کہ جن کے طفیل فن جنگ کی دنیا میں انقلاب آ گیا۔ لاجسٹک آف وار کی دنیا میں جو انقلاب آیا وہ اول اول بھاپ کے انجن کا مرہونِ احسان تھا۔ بھاپ کی قوت سے چلنے والی ریل گاڑی ایجاد ہوئی تو سب سے پہلا ریل نیٹ ورک جرمنی نے تعمیر و تشکیل کیا۔ ٹرانسپورٹیشن کے اس عاجل (Rapid) وسیلے کے توسط سے فوجیوں کی بڑی بڑی یونٹیں اور فارمشینیں ایک قلیل عرصے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے لگیں۔ جو انفنٹری بٹالین ایک مقام سے صبح سویرے آغازِ سفر کرتی تھی وہ بمشکل دن بھر میں صرف 19،20کا فاصلہ طے کرکے کسی دوسری جگہ پہنچ سکتی تھی۔ذرا تصور کریں صدہا برس تک دستورِ جنگ یہی کچھ رہا۔ لیکن جب ریل گاڑی ایجاد ہوئی، دخانی بحری جہاز ایجاد ہوئے اور پھر ٹرانسپورٹیشن طیارے ایجاد ہوئے تو میدانِ جنگ سکڑ گئے۔ دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک فارمیشنوں کو پہنچانے میں اتنا کم عرصہ لگا کر گزشتہ سارے نظام الاوقات درہم برہم ہو کر رہ گئے۔

پھر صوت و صدا کی دنیا میں بھی ایک انقلاب آیا۔۔۔ ہم ایک مدت تک یہی پڑھتے آئے تھے کہ میدان جنگ جب سجایا جاتا تھا، جب صف بندیاں ہوتی تھیں تو فوج کا کمانڈر ایک اونچے مقام پر بیٹھا ہوتا تھا اور وہاں سے اپنی فوج کا نظارہ کیا کرتا تھا۔ جہاں تک اس کی نگاہ کام کرتی، وہاں تک ہی وہ اپنی فوج کی انفنٹری اور کیولری کو دیکھ سکتا تھا (اس حدِ بصارت سے آگے نہیں) اور دیکھ کر اپنی گرجدار آواز میں احکام جاری کیا کرتا تھا کہ فلاں دستہ فلاں مقام پر پہنچے اور فلاں لشکر فلاں جگہ چلا جائے اور دشمن کے فلاں لشکر سے نبردآزما ہو۔ کمانڈروں کی طرف سے احکامات جاری کرنے کا یہ طریقہ صدہا برس تک قائم رہا۔ حتیٰ کہ جب آرٹلری ایجاد ہوئی تو پھر بھی توپوں کی ٹرانسپورٹیشن اور حرکیت محدود ہی رہی تاآنکہ ٹیلی فون ایجاد ہوا اور یہ تعطل ٹوٹا۔

ٹیلی فون کی ایجاد کے ساتھ دوربین کی ایجاد نے مل کر وہ کام کیا جو ماضی میں کسی کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا تھا۔ کمانڈر کو دور دور تک دیکھنے اور اپنے احکامات دور دور تک پہنچانے کے ذرائع میسر آئے تو جنگ و جدال کی دنیا میں یہ ایک اور انقلاب تھا۔ اس ٹیلی فون کی جگہ اب موبائل نے لے لی ہے۔ اس کی ایجاد تو ابھی کل کی بات ہے۔ آج سے 15،20 برس پہلے کیا کوئی انسان یہ تصور کر سکتا تھاکہ ہر کس و ناکس کی جیب میں کم از کم ایک ایسا چھوٹا سا کم وزن آلہ ہوگا جس کا ایک بٹن دبانے سے اطرافِ عالم اور اکنافِ کائنات میں ایک انسان دوسرے انسان سے ہم کلام ہو سکے گا؟

ذرا سوچئے جولائی 1969ء میں جب پہلا انسان چاند کی سطح پر اترا تھا تو اس نے جو تاریخی جملہ کہا تھا اس کی گونج روئے زمین پر سنائی دینے میں کتنا وقت لگا تھا؟۔۔۔ اب ستاروں پر کمندیں ڈالی جا رہی ہیں، ایک سیارے کی مخلوق دوسرے سیارے سے ہمکلام ہونے کو ہے، نئی کہکشائیں ہمارے سامنے پھیلتی چلی جا رہی ہیں اور شاعر کے اس مصرع کی تعبیریں مل رہی ہیں کہ : ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

کالم کے آغاز میں، میں نے قرآن حکیم کی جن آیات کی تفسیروں کو ہنوز پردۂ اخفا میں عرض کیا تھا، وہ تفسیریں اب آہستہ آہستہ واشگاف ہوتی جارہی ہیں۔ ان کے معانی آفاق گیر ہوتے جا رہے ہیں اور قرآن کی حقانیت کا ثبوت غیر مسلم اقوام کے سامنے بھی نوشتہء دیوار بنتا جا رہا ہے۔ چنانچہ اگر ’’گزرے کل‘‘ میں مسلمانوں کی ہیبت و قوت اور شان و شوکت اظہر من الشمس تھی تو ’’آج‘‘ غیر مسلموں کی سطوت و صولت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور ’’آنے والے کل‘‘میں کسی اور قوم کے عروج کی داستان کے برسرعام آنے کے امکانات سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ قوموں کے اسی عروج و زوال کو قران حکیم میں یہ کہہ کر امر کر دیا گیا ہے کہ ’’ہم ایام کو انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔۔۔۔ دنیا نہ کبھی پہلے دیروز (Yesterday)میں ایسی تھی کہ جو امروز (Today) میں ہے اور نہ کبھی آنے والے فردا (Tomorrow) میں ایسی ہوگی کہ جو آج ہے۔

تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا

شائد کہ زمیں ہووہ کسی اور فلک کی

قرآن حکیم کا یہ ارشاد بھی ہے کہ ہم اقوام کی حالت کو بیٹھے بٹھائے نہیں بدل دیتے۔ یہ تبدیلی خود اقوام لے کے آتی ہیں۔ فرمانِ خداوندی ہے کہ ’’تقدیر خود انسان کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اس کو اس وقت تک نہیں بدلتے جب تک کوئی انسان (یا کوئی قوم) خود ہماری تقدیر کو بدلنے کا ارادہ نہیں کرلیتا‘‘۔ اسی لئے تو اقبال نے یہ بھی کہا تھا:

عبث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں

تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ دنیا کی سپرپاور ہے اور واحد سپرپاور ہے۔ دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک اس کے دست نگر ہی نہیں کاسہ لیس بھی ہیں۔ امریکی عظمت کا راز اس ایک نکتے میں مضمر ہے کہ وہ اپنے زوال سے غافل نہیں، اپنے عروج کے نشے میں سرمست نہیں اور اپنی آج کی ترقی کو حرفِ آخر نہیں سمجھتی۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اپنے براعظم سے باہر نکل کر دوسری اقوام کے براعظموں پر تاخت و تاراج کررہا ہے۔ اس کو یہ ہمت اور یہ توانائی اس کی جدید ٹیکنالوجی نے فراہم کی ہے، جس میں ’’وار ٹیکنالوجی‘‘ سرفہرست ہے۔ دوسری اقوام جو اس کی ہمسری کی دعویدار ہیں یا جو ارادہ رکھتی ہیں کہ ہم کسی دن امریکہ کو پیچھے چھوڑ جائیں گی، ان کا خوف اور ادراک امریکہ کو اس قدر ہے کہ وہ روئے زمین پر جہاں کہیں بھی اپنی عظمت کے بت کدے میں کسی بت شکن کی بھنک پاتا ہے وہیں اس کے انٹینا کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ اس ’’بھنک‘‘ کو ایک ’’صدائے ہیبت ناک‘‘ تصور کرنے لگتا ہے۔یہ تماشا آئے روز ہمارے سامنے ہوتا رہتا ہے۔۔۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام دورِ موجود کے چند نام ہیں!

میرے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ قران حکیم کی تعلیماتِ مقدسہ میں بتائی گئی نشانیوں سے آشنا ہے۔ وہ ہماری طرح صاحبِ کتاب ہو کر بھی نام کا صاحبِ کتاب نہیں۔ اس کے اعمال وہی ہیں جو خدائے ذوالجلال نے اپنی آخری کتاب میں بیان فرمائے تھے۔ مجھے خبر نہیں کہ امریکی ایڈمنسٹریشن میں وہ کون سا شعبہ یا محکمہ ہے جو اس ٹاسک پر مامور ہے کہ قرآن حکیم کی ان آیات کی تفسیر کی ممکنہ تفصیلات پر غور و خوض کر رہا ہے جو آنے والے کل میں امریکی قوم کو اپنا ’’سٹیٹس کو‘‘ برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہوں گی۔ قرآن اترا تو مسلمان قوم پر تھا لیکن یہ ساری دنیا کے لئے سرچشمہ ء ہدایت تھا، اور تاقیامت رہے گا۔اگر ہم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ قرآن چونکہ اسلام کے نام لیواؤں پر اترا تھا اس لئے باقی غیر مسلم اقوام اس سے بہرہ اندوز نہیں ہو سکتیں تو اس میں قرآن کا کیا قصور؟ قرآن کے مخاطبین میں بہت کم ’’مسلمین یا مومنین‘‘ کے الفاظ آئے ہیں، زیادہ تر خطاب ’’الناس‘‘ سے ہے جس میں امریکہ یا ایسی کوئی بھی قوم شامل ہے یا ہو سکتی ہے جو قرآنی آیات کے معانی کی روح میں اتر کر ان پر عمل پیرا ہوتی ہے۔

کئی بار میری سوچ بہت دور تک نکل جاتی ہے۔یقین کیجئے مجھے اپنی ’’دیوانگی‘‘ پر حیرت ہونے لگتی ہے۔ نجانے پاکستان کے ’’فرزانے‘‘ میری اس دیوانگی پر کس ردعمل کا اظہار کریں۔پچھلے دنوں، میں یہ بھی سوچتا رہا کہ امریکہ (یا مغرب) ہمیشہ ہی تو برسرِ عروج نہیں رہ سکتا۔ اس کو بھی تو کبھی نہ کبھی زوال آنا ہے۔ سوچتا ہوں کہ وہ زوال کیسے آئے گا اور کیسے آئے گا، یعنی اس کی ’’موڈس آپرنڈی‘‘ کیا ہوگی، امریکہ کی آج کی سپر ملٹری پاور کس طرح بکھرے گی، اس کی ایجادات کا پھیلا ہوا دیوہیکل نیٹ ورک جو کرۂ ارض کے علاوہ دوسری زمینوں اور آسمانوں کو بھی محیط ہو چلا ہے، وہ کس طرح ٹوٹے گا اور وہ اقوام جو آج روبہ زوال ہیں وہ اپنی زوال آمادگی سے اوپر اٹھ کر کیسے وہ خلاء پُر کریں گی جو امریکی شکست و ریخت کے بعد شروع ہوگا؟۔۔۔

بہت سے قارئین میری اس سوچ کو اگر پاگل پن قرار دیں گے تو وہ مجھے اس قرآنی حقانیت کی تفسیر بھی بتائیں کہ :’’ ہم ایام کو انسانوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔۔۔ جب قران فرماتا ہے کہ ’’پھیرتے‘‘ رہتے ہیں تو امریکہ کا باپ بھی جتنا چاہے زور لگا لے اس ’’پھیر‘‘ سے نہیں بچ سکتا۔ لیکن پھر اگلا سوال یہی ہوگا کہ اس ’’پھیر‘‘ کو حقیقت بننے کے لئے طریقہء کار (SOP) کیا ہوگا۔۔۔ کوئی محترم قاری اس پر مجھے Wise فرمائیں تو ان کا شکر گزار ہوں گا۔

مزید : کالم


loading...