اسلام آباد

اسلام آباد

اسلام آباد سے ملک الیاس

ملک کے دیگر حصوں کی طرح راولپنڈی اسلام آباد میں بھی پٹرول کا بحران عروج پر پہنچ چکا ہے، راولپنڈی کے زیادہ ترپٹرول پمپ بند ہوچکے ہیں جو کھلے ہیں ان پر گاڑیوں،موٹرسائیکلوں کی میلوں لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں،پٹرول کے حصول کیلئے پمپوں پر لڑائی جھگڑے بھی معمول بن گئے ہیں،بعض پمپوں پر گھنٹوں انتظار کے بعد بھی جب پٹرول نہیں ملتا تو لوگ حکومت کیخلاف نعرے بازی شروع کردیتے ہیں، جو صورت حال پہلے سی این جی کے حصول کیلئے دیکھنے کو ملتی تھی اس سے بدترین مناظر اب پٹرول کے حصول کیلئے دیکھنے کو مل رہے ہیں،اسلام آباد راولپنڈی میں صرف پی ایس او کے چند ایک پمپوں پر پٹرول دستیاب ہے جبکہ راولپنڈی کے کچھ علاقوں میں کھلا پٹرول بھی دستیا ب ہے مگر وہاں عوام منہ مانگے دام دیکر پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں ،کھلا پٹرول فروخت کرنیوالوں نے مرضی کے ریٹ مقررکررکھے ہیں 150سے لیکر 200روپے تک فی لیٹر پٹرول فروخت کیا جارہا ہے حیران کن بات یہ ہے کہ پٹرول پمپوں پر پٹرول دستیاب نہیں مگر کھلا پٹرول بیچنے والوں کو ناجانے کیسے مل رہا ہے اس حوالے سے یہ بھی علم میں آیا ہے کہ بعض پٹرول پمپ مالکا ن پمپوں پر پٹرول فروخت کرنے کی بجائے بلیک میں کھلا پٹرول بیچنے والوں کو فروخت کرکے دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے میں مصروف ہیں، پٹرول کے بحران کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے پٹرول پمپ مالکان کی چاندی ہوگئی ہے جو 78 روپے لیٹر والے پٹرول کو ہائی آکٹین بناکر صارفین سے 92 روپے فی لیٹر کھرے کرنے لگے ہیں جبکہ اعتراض کرنے والوں کو الٹی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ لائنوں میں لگے صارفین سے کہا جاتا ہے کہ پٹرول ختم ہوگیا ہے جبکہ ہائی آکٹین (ایم او بی سی) موجود ہے اگر لینا ہے تو لے لو حالانکہ ہائی آکٹین کے نام پر عام پٹرول فروخت کیا جارہا ہے اور صارفین مجبوراً 92 روپے فی لیٹر کے حساب سے پٹرول خرید رہے ہیں۔

عوام اس ساری صورتحال سے پریشان ہیں گیس پہلے ہی بندتھی اگر کچھ علاقوں میں آتی بھی تھی تو صرف چند گھنٹوں کیلئے بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے اس کے ساتھ پٹرول بحران نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے،کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں،سب سے زیادہ مشکلات روزانہ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے اور جانیوالے ملازمت پیشہ افراد،طلباء و طالبات کو درپیش ہیں، طلباء و طالبات کے امتحانات کا آغاز ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ان کی تعلیمی صورتحال بری طرح متاثر ہورہی ہے، تعلیمی اداروں میں بچوں کی حاضری کم ، پرائیویٹ گاڑیوں میں پٹرول نہ ملنے پر مالکان نے گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ بھی خال خال ہی نظر آرہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو سفری مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ،پٹرول کی شدید قلت کے باعث سیکیورٹی اداروں میں بے چینی پائی جارہی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی گاڑیاں کھڑی ہونے لگ گئی ہیں، گشت پر مامور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی کاسنگین مسئلہ پیدا ہو گیا، جب پولیس کا گشت نہیں ہوگا تو جرائم پیشہ افراد آزادانہ وارداتیں کرنے میں مصروف ہو جائیں گے۔

اسلام آباد میں ڈکیتی و چوری کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، نہ کسی کی جان اور نہ ہی گھر محفوظ ہیں، وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی کی جانب سے پٹرول کی قلت کا مسئلہ اسی ہفتے حل ہوجانے کا دعوی کیا جارہا ہے ان کا کہنا تھا کہ پٹرول کی یومیہ سپلائی دگنا کر دی گئی ہے، عوام کی تکلیف اور اپنی ذمہ داری کا احساس ہے، صارفین پٹرول کی زائد خریداری نہ کریں، سپلائی اب مستحکم رہے گی، انہوں نے یکم فروری سے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے یا اس سے زائد کی مزید کمی کی خوشخبریء بھی سنائی ہے لیکن عوام یہ پوچھتے ہیں کہ پٹرول سستا ہونے کاعوام کو اس وقت فائدہ پہنچے گا جب انہیں پٹرول دستیاب ہوگا ،پٹرول کی قلت کی وجہ سے شہر میں اشیاء خوردونوش کی ترسیل بھی بری طرح متاثر ہونے سے اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور اگر یہی صورت حال برقراررہی تو اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں تومزید بڑھیں گی ساتھ ہی ساتھ اشیاء خوردونوش بھی نایاب ہوسکتی ہیں ،حکومت کوفوری طور پر پٹرول بحران سے نمٹنا چاہیے تاکہ پٹرول بحران آگے چل کر کسی اور بحران میں تبدیل نہ ہوجائے۔

تحریک انصاف کا اسلام آباد میں دھرنا کنونشن منعقد کیا گیا ،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا انہوں نے اب پورا زور خیبرپختونخوا میں لگانے اور صوبائی حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کااعلان کیا ہے جو کہ ان کے مثبت طرز سیاست کی نشاندہی کررہا ہے عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ تو شٹرڈاؤن کی کال دینے جارہے تھے مگر حکومت نے پٹرول بند کرکے خود ہی ملک کو بندکرادیا ہے ،انکا کہنا تھا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں وفاقی حکومت کیلئے رکاوٹ نہیں بنیں گے اسلام آباد میں تحریک انصاف کے دھرنا کنونشن سے قبل یہ باتیں گردش میں تھیں کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر احتجاجی سیاست کا آغاز کرنے والی ہے اور اسلام آبا د کا دھرنا کنونشن ایک بار پھر مستقل دھرنے میں بدل سکتا ہے مگر تمام قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں اور تحریک انصاف کی قیادت نے مثبت سوچ کیساتھ اپنی کارکردگی خیبرپختونخوا میں ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے او رخیبرپختونخوا کو دیگر صوبوں کیلئے رول ماڈل بنانیکی کوشش کی جائیگی،وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے دھرنا کنونشن پر خوب تبصرہ کیا انکا کہنا تھا کہ دھرنے سے دھرنا کنونشن تک پاکستان تحریک انصاف کا سفر جھوٹ کی شکست ہے انکا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاست چمکانے کا نہیں بلکہ دہشتگردی کیخلاف کچھ کر دکھانے کا ہے،چاروں حلقے کھل چکے ہیں اور ہر حلقے میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو خفت کاسامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...