ملتان

ملتان

ملتان سے شوکت اشفاق

تحریک انصاف کے دھرنوں کے خاتمہ کے بعد امید تھی کہ موجودہ حکومت کو مستقبل قریب میں کسی بڑے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن میاں نواز شریف کی حکومت بھی ’’گڈ گورننس‘‘ میں اتنی تاک ہے کہ ابھی سانحہ پشاور کی تعزیتی ختم نہیں ہو سکی تھی کہ پیٹرول بحران نے سر اٹھا لیا حالانکہ یہ ایک ایسا سسٹم ہے جو تواتر سے ایک ڈسپلن میں چل رہا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں پہلی مرتبہ یہ سننے کو ملا کہ پاکستان اسٹیٹ آئیل، جو ملک کی سب سے بڑی آئیل مارکیٹنگ کمپنی ہے بھی بحران کا شکار ہو رہی ہے اور اس کے گردشی قرضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے پہلے پہل یہ 30 سے 40 ارب روپے کے درمیان رہا لیکن یہ کمپنی کسی نہ کسی طور پر مشکلات سے نکلتی رہی، اس بار بھی ایک وقت ایسا آیا کہ پی ایس او نے نہ صرف سرکاری کارپوریشنوں کو تیل کی ترسیل روک دی بلکہ بجلی پیدا کرنے والے یونٹوں کو فرنس آئیل کی فراہمی بھی بند کر دی جس سے بجلی کا ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا اب پی ایس او ایک مرتبہ پھر مالی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے اور اس وقت گردشی قرضوں کا بوجھ 200 ارب سے بڑھ چکا ہے جبکہ پی آئی اے، ریلوے سمیت متعدد سرکاری کارپوریشنوں اور بجلی پیدا کرنے والے یونٹوں نے 300 ارب روپے سے زیادہ رقم پی ایس او کو ادا کرنی ہے یہی وجہ ہے کہ پی ایس او تیل کی خریداری کے لئے بروقت ٹینڈر جمع نہیں کروا سکی جبکہ دوسری وجہ بنکوں کا مزید قرضے کی ادائیگیوں سے انکار بھی تھا۔ اس وقت صورتحال بڑی گھمبیر ہے پی ایس او کے پاس ذخائر زیادہ دنوں کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس بجلی گھروں کو فرنس آئیل کی فراہمی کا کوئی معقول بندوبست ہے یعنی ایک طرف تو عوام اس وقت پٹرول سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف فرنس آئیل کی فراہمی میں تعطل سے، بجلی کا بحران شروع ہو جائے گا۔ اس وقت ہونے والی 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ بڑھ کر 18 سے 20 گھنٹے بھی ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا اندازہ لگانا مشکل ہو گا کہ اس کا عام شہری پر کتنا منفی اثر پڑے گا کاروبار کے ساتھ صنعت اور زراعت کتنی تباہ ہو گی اور اس تباہی کی صورت میں ہونے والے نقصان کا اندازہ کم از کم ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار تو بالکل نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں اندازہ ہوتا تو وہ وزیر پٹرولیم کو بطور خزانہ دار مشورہ دیتے کہ تیل کی فراہمی کا بروقت بندوبست کر لیں اور اگر پی ایس او کو بنک قرضہ نہیں دے رہے تو حکومت ہی اس کے لئے گارنٹی کا بندوبست کر دے لیکن ابھی تو معاملہ چوپٹ ہی لگتا ہے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس پر ایکشن ضرور کیا ہے لیکن بہت دیر سے کیا ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم سمیت ایم ڈی پی ایس او کی معطلی کے ساتھ ساتھ متعلقہ وزیر موصوف کی برطرفی بھی ہو جاتی ممکن تھا کہ عوام اس پر کوئی مثبت اثر لیتے لیکن میاں نواز شریف اپنے وزیروں کے خلاف کوئی بھی اقدام کرنے کو تیار نظر نہیں آتے جس کا تمام منفی اثر مسلم لیگ (ن) پر ہو رہا ہے اور عام آدمی اس طرز حکومت کو پسند نہیں کر رہا جس میں بجلی، گیس کے بعد اب پٹرول کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑے۔ جبکہ باقی سیاسی جماعتیں بھی اس پر کوئی مضبوط موقف اختیار کرنے میں ناکام رہی ہیں اور عوام اب یہ سمجھنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت کم از کم عوامی معاملات کو حل کرنا تو دور کی بات محض سلجھانے کی کوشش بھی نہیں کرتیں، جو انتہائی اذیت ناک ہے۔

جنوبی پنجاب میں بد ترین سیاسی اور انتخابی شکست کے بعد پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر کوشش کی ہے کہ اپنے کارکنوں کو اکٹھا اور متحرک رکھنے کے لئے کوئی لائحہ عمل بنائے لیکن گذشتہ چالیس سالوں سے تو وہ ناکام ہی ہو رہی ہے ہاں البتہ اب سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک اور پھر ٹوئیٹر پر چیدہ چیدہ عہدیدار موجود ہیں اور درخواستیں کرتے پھرتے ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا پر ’’فالو‘‘ کیا جائے۔ لیکن زمینی حقائق کے مطابق کام کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کے پاس ملتان جیسے سیاسی حب میں کوئی باقاعدہ دفتر نہیں ہے آزاد جیتنے والے رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر کے تحریک انصاف میں چلے جانے کے بعد اب ڈاکٹر جاوید صدیقی متحرک ہیں اور ایک عدد دفتر بھی قائم کر چکے ہیں لیکن دوسری طرف مخدوم شہاب الدین قریشی نے جنوبی پنجاب پیپلز پارٹی کی صدارت سے معذرت کر لی ہے تاہم وہ سنٹرل کمیٹی کے رکن کے طور پر کام کرتے رہیں گے ان کی یہ معذرت بھی پارٹی کے لئے جنوبی پنجاب میں کوئی اچھا شگون نہیں ہے کیونکہ وہ پارٹی کے پرانے اور منجھے ہوئے رکن ہیں اور کافی معاملات کو سمجھتے تھے لیکن بوجوہ استعفیٰ دیا ظاہر اس میں ان کے کچھ نہ کچھ تحفظات ضرور ہوں گے کچھ کا تو وہ برملا اظہار بھی کرتے رہے ہیں کہ کچھ معاملات میں پارٹی کی قیادت مشاورت نہیں کرتی خصوصاً ملتان کے ضمنی انتخاب میں ڈاکٹر جاوید صدیقی کو بطور امیدوار ڈکلیئر کرنا بھی شامل ہے دوسری طرف سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کی پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کا صدر نامزد کر دیا گیا ہے جو یقیناًایک ڈیرے دار ہیں بڑے زمیندار کے ساتھ بڑے صنعت کار بھی ہیں رحیم یار خان میں اپنے حلقے کے لوگوں تک وہ ’’عوامی‘‘ بھی ہیں لیکن اب وہ اس عوامی کلچر کو پیپلز پارٹی کے لئے استعمال کرتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات پکی ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر پارٹی پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے اپنے ذاتی تعلق والوں کو کلیدی عہدوں پر لا رہے ہیں اور ایسے عہدیدار جو ان سے کسی بھی ایشو پر اختلاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں وہ سائیڈ پر کئے جا رہے ہیں، مخدوم احمد محمود کی تقرری پر بھی پارٹی کارکنوں سمیت عہدیدار بھی اتنے خوش نہیں ہیں اور پارٹی گراف چڑھنے کی بجائے نیچے آتا نظر آرہا ہے جس کے لئے قیادت کو مقامی عہدیداروں کو اعتماد میں لینا ہو گا اور قیادت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کارکن پارٹی کا اثاثہ ہوتے ہیں اگر کارکن نہیں رہیں گے تو پارٹی بھی نہیں ہو گی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...