ڈاکٹر وسیم اختر نے بجلی کے بلوں میں اضافے کے حوالے سے قرار داد اسمبلی میں جمع کروادی

ڈاکٹر وسیم اختر نے بجلی کے بلوں میں اضافے کے حوالے سے قرار داد اسمبلی میں جمع ...

لاہور(نمائندہ خصوصی) پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی وامیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اخترنے بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافے کے حوالے سے قرار دادپنجاب اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کروادی۔جمع کروائی گئی قرارداد میں کہاگیاہے کہ ”عالمی سطح پر پٹرولیم کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے باوجود بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ عوام الناس کے لئے تشویش ناک اور پریشان کن ہے۔یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بجلی کے بلوں میں سرچارج کے اضافے اور اووربلنگ کے فیصلے واپس لے“۔علاوہ ازیں ڈاکٹر سید وسیم اختر نے عوامی مسائل کے حوالے سے میڈیا کوجاری کردہ اپنے بیان میں کہاہے کہ ملک میں اس وقت 12سے15گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جوکہ حکمرانوں کی بدترین کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔توانائی بحران نے عوام کی زندگی عملاً اجیرن بنادی ہے۔حکمران عوام کوریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی عوام کودرپیش مسائل سے عدم دلچسپی اور ناقص پالیسیوں کی بدولت ملک میں کم آمدنی والے طبقات کے لئے رہائشی مشکلات میں روزبروزاضافہ ہوتا چلاجارہاہے۔عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو رہائشی مکانات کی شدید قلت کاسامناکرناپڑرہاہے۔روٹی،کپڑااور مکان کانعرہ لگانے والی پیپلزپارٹی اور خوشحال پاکستان کی صدابلند کرنے والی مسلم لیگ(ن)جب جب اقتدار میںآئی عوام کو مایوسی کے کچھ نہیں ملا۔آج بھی پاکستان میں دس لاکھ رہائشی یونٹوں کی قلت ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے اگر اس سنگین مسئلے کی جانب توجہ نہ دی تو آئندہ چند سالوں میں رہائشی یونٹوں کی قلت بڑھ جائے اور اس کی تعداد بیس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ہرسال ایک لاکھ50ہزار مکان تعمیر کئے جارہے ہیں جوکہ ناکافی ہیں۔ملک اس وقت معاشی طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔بجلی،گیس،پٹرول اور دیگر اشیاءضروریہ کی قلت کے ساتھ ساتھ لاقانونیت، مہنگائی،بے ےوزگاری،اقرباءپروری اور کرپشن جیسے بحرانوں نے عوام کوکبھی سکھ کاسانس نہیں لینے دیا۔ڈاکٹر سید وسیم اخترنے کہاکہ پاکستان میں اس وقت60فیصد سے زائد آبادی کی ماہانہ آمدنی10ہزار روپے سے لے کر25ہزار روپے تک ہے۔اس قدر محدود آمدنی میں غریب عوام گھربنانے کے خواب تک نہیں دیکھ سکتے جبکہ ان کے گھرکاخرچہ بامشکل پوراہوتاہو۔حکمرانوں کے دعوﺅں کے برعکس نچلے متوسط اور غریب طبقات کے رہائشی مسائل کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آتی۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریوں کواداکرے۔جب تک عوام کی فلاح بہبود کے لئے کام نہیں کیاجاتاملک میں خوشحالی اور معاشی استحکام نہیں آسکتا۔18کروڑعوام اقتصادی اور نفسیاتی مسائل کاشکار ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...