درست نتائج حاصل کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی اور اصلاحات نا گزیر ہے ‘ وزیراعٰلی بلوچستان

درست نتائج حاصل کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی اور اصلاحات نا گزیر ہے ‘ ...

 اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)اٹھارویں ترمیم کے تحت درست اور دور رس نتائج حاصل کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی اور مناسب اصلاحات ناگزیر ہیں۔صوبہ بلوچستان کی ترقی کیلئے تین طرفہ سٹریٹجی اپنانی پڑے گی جس کے تحت ہم اپنے اداروں ،انفرا سٹرکچر اور افرادی قوت میں بہتری لا سکیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے دوروزہ بلوچستان ڈویلپمنٹ فورم کے اختتامی سیشن سے اپنے خطاب میں کیا۔ واضح رہے کہ اس دو روزہ فورم کا انعقاد حکومت بلوچستان کے چیف منسٹر پالیسی ریفارم یونٹ کے تحت UNDP کے تکنیکی اشتراک سے کیا گیا تھا۔ڈاکٹر مالک کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 172(3) جس کے تحت صوبوں کو قدرتی وسائل پر مساوی اختیار حاصل ہے، اگر قوانین میں ضروری ترامیم کر کے اس پر حقیقی طور پر عمل کیا جائے تو بلوچستان پسماندگی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پبلک سروس کمیشن کو از سر نو ٹھیک کیا جائے گا اور تمام اداروں میں میرٹ کی پابندی یقینی بنائی جائے گی۔انھوں نے صوبائی اور سیاسی قانون سازوں پر زور دیا کہ اس عہد کا عیادہ کریں کہ صوبہ سے پسماندگی کا خاتمہ کرکے رہیں گے ۔انھوں نے بین الاقوامی کمیونٹی پر زور دیا کہ صوبہ بلوچستان میں اصلاحات کیلئے سفارشات اور تجاویز دیں اور صوبہ کی بہتری کیلئے مناسب سرمایہ کاری بھی کریں ۔تقریب سے اپنے خطاب میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ کہ وہ پاکستان کے ہر ڈسٹرکٹ کے اپنے پالیسی پلاننگ یونٹ کے حق میں ہیں۔انھوں نے بلوچستان ہائر ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کی تجویز کی بھی حمایت کی تاکہ مقامی سطح پر تعلیمی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ریکوڈک کا معاملہ بھی جلد حل کر لیا جائے گاجس سے صوبہ میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین ڈاکٹر سجاد بلوچ نے اس سٹرٹیجک پورٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں یہ پورٹ اس خطے کیلئے ایک اہم تجارتی مرکز ہو گا۔حکومت بلوچستان کے قانونی مشیر احمر بلال صوفی نے حاضرین کو بتایا کہ تا حال ریکو ڈیک کا معاملہ بین الاقوامی عدالت میں ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت بلوچستان اور ٹیتھیئن کاپر کمپنی باہمی طور پر معاملات کو حل کر سکتے ہیں جس کی بدولت صوبہ کا یہ قدرتی وسیلہ مزید ترقی کیلئے دستیاب ہو گا۔تقریب سے اپنے خطاب میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ حکومت صوبہ کے قدرتی وسائل سے بھر پور استفادہ کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ماہی گیری اور زراعت کے شعبے کو متحرک کر کے صوبہ میں ترقی کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔

UNDP ،ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے نمائندوں نے بھی اس دوروزہ فورم میں شرکت کی۔افتتاحی سیشن سے سیف اللہ چٹھہ،چیف سیکرٹری بلوچستان،ڈاکٹر قیصر بنگالی اور بلوچستان کے صوبائی وزراء نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں چیف منسٹر ز پالیسی ریفارمزیونٹ کے سربراہ ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اس کے قدرتی وسائل سے منسلک ہے، جس سے وہاں کے عوام کامعیاز زندگی اور معاشی ترقی وابستہ ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بلوچستان ڈیولپمنٹ فورم کے ذریعے ترقیاتی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر بلوچستان کی ترقی کا جامع پلان تشکیل دیا جا سکے گا جس کا بلواسطہ اور بلا واسطہ فائدہ صوبے کے عوام کو معاشی اور معاشرتی ترقی کی صورت میں حاصل ہوگا۔

مزید : علاقائی


loading...