پٹرول کی صورتحال قدر بہتر بحران کی ذمہ داری اوگرا پر ڈالنے کی کوشش

پٹرول کی صورتحال قدر بہتر بحران کی ذمہ داری اوگرا پر ڈالنے کی کوشش

اسلام آباد(اے این این،مانیٹرنگ ڈیسک) پیٹرول کی صو رتحال قدرِبہتر رہی، پٹرول بحران سے متعلق ابتدائی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش،ذمہ داری اوگرا پر ڈال دی گئی،پی ایس او کا ایک اور افسر معطل، سیکرٹری پٹرولیم سمیت4افسران کی معطلی کی توثیق۔تفصیلات کے مطابق منگل کو وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں پٹرولیم مصنوعات کے بحران سے متعلق ایک اور اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ملک میں پٹرول کی قلت کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اس ضمن میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے بحران پر اپنی ابتدائی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی۔دو رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بحران کی ذمہ داری اوگرا پر ڈال دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوگرا نے اپنا کردار ذمہ داری سے ادا نہیں کیا اور ریگولیٹ کرنے میں ناکام رہی ہے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پی ایس او کے ڈپٹی م منیجنگ ڈائریکٹر کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جس پر وزیر اعظم نوا ز شریف نے پی ایس او کے ڈ پٹی منیجنگ ڈائریکٹر فنانس سہیل بٹ کو معطل کرنے کے احکامات جاری کئے،اجلاس میں پٹرول کی قلت پر چار سینئر حکام کو معطل کر نے کے فیصلے کی توثیق کی گئی ۔اجلاس میں بحران کی موجودہ صورتحال پر وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب ورسد کی صورتحال میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔گزشتہ 3 روز میں پٹرول پمپوں کو57 لاکھ لیٹر پٹرول فراہم کیا گیا اوررات تک اٹھارہ لاکھ لیٹر سے زائد پٹرول فراہم کر دیا جائے گا۔ امید ہے کہ اس بحران پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ کمپنیوں کی طرف سے تیل کی فراہمی دوگنا کر دی گئی ہے جس سے صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے پٹرول بحران پر فوری قابو پانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ اس قسم کا بحران دوبارہ پیدا نہ ہو۔عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ حالیہ بحران کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے گی اور ذمہ داران کو معاف نہیں کیا جائے گا۔علا وہ ازیں اوزیراعظم نے وزارت پیٹرولیم سے پیٹرول کی موجودہ صورتحال سے متعلق رپورٹ طلب کر لی اوروزارت پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وزیراعظم ہاؤس کو پیٹرول کی صورتحال پر ہر گھنٹے بعد آگاہ کیا جائے اور تیل کی درآمد اور فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

مزید : صفحہ اول


loading...