سعودی حکومت نے واضح اعلان کردیا، غیر ملکیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا

سعودی حکومت نے واضح اعلان کردیا، غیر ملکیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا
سعودی حکومت نے واضح اعلان کردیا، غیر ملکیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا

  


ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی وزارت داخلہ نے یہ کہہ کر غیر ملکیوں کی امیدوںپر پانی پھیر دیا ہے کہ ان کے سعودی عرب میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دیئے جانے کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں اور یہ کہ مملکت نے سعودی خواتین اور غیر ملکی مردوں کے بچوں کو شہریت دینے سے متعلق کوئی قانون سازی نہیں کی ہے۔

13سالہ بچی کی ضد نے ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی جان لے لی

گزشتہ کچھ دنوں سے "MBC" چینل کے حوالے سے ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کے سعودی عرب میں پیدا ہونے والے بچوں کو بلوغت کو پہنچنے پر شہریت دے دی جائے گی۔ اس کے بعد انہیں ایک سال کا وقت دیا جائے گا جس کے دوران وہ سعودی یا دیگر شہریت رکھنے کا فیصلہ کریں گے۔ وزارت داخلہ کے سول افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ محمد الجاسر کا کہنا ہے کہ یہ خبریں افواہ ہیں اور ان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وزراءکی کونسل نے قانون شہریت میں کوئی ترمیم کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کے ہاں سالانہ تقریباً 10,000 بچے پیدا ہوتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...