بھارتی گاﺅں کے درجنوں گھروں میں حکومت نے ٹوائلٹ بنا کر دئیے، اس کے بعد گاﺅں والوں نے ان کا کیا استعمال کیا؟ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

بھارتی گاﺅں کے درجنوں گھروں میں حکومت نے ٹوائلٹ بنا کر دئیے، اس کے بعد گاﺅں ...
بھارتی گاﺅں کے درجنوں گھروں میں حکومت نے ٹوائلٹ بنا کر دئیے، اس کے بعد گاﺅں والوں نے ان کا کیا استعمال کیا؟ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) اکیسویں صدی کے بھارت کی آدھی سے زائد آبادی رفع حاجت کے لئے بیت الخلاءکی بجائے کھیتوں، کھلیانوں اور ویرانوں کا رخ کرتی ہے، اور اس کی وجہ محض بیت الخلاءسے محرومی نہیں، بلکہ صدیوں پرانی روایت بھی ہے جس میں اکثر لوگ چھوڑنے پر کسی طور تیار نہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے کھلی جگہ پر رفع حاجت کرنے والے بھارتیوں کو سرکاری خرچ پر بیت الخلاءتعمیر کرواکر دینے کی مہم ”سواش بھارت ابھیان“ کا آغاز کیا، لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ بھارتی عوام کھلے ماحول میں رفع حاجت کی اپنی عادت کو چھوڑنے پر تیار نہیں، اور حکومت کی طرف سے تعمیر کردہ بیت الخلاءیا تو خاموشی سے مسمار کئے جا رہے ہیں یا اس میں سے ٹوائلٹ سیٹ اکھاڑ دی جاتی ہے اور پھر اسے سٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ریاست اترپردیش کے ایک گاﺅں میں شہری انتظامیہ نے 90 خاندانوں کو اپنے بیت الخلاءمسمار کرنے یا انہیں سٹور میں تبدیل کرنے پر نوٹس بھجوائے ہیں، لیکن حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ رجحان بہت بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے اور لاکھوں کروڑوں لوگوں کو بیت الخلاءاستعمال کرنے پر مائل کرنا ناممکن نظر آرہا ہے۔

مزید جانئے: خاتون کو کھانا ڈلیور کرنے کے بعد نوجوان کی موبائل میسج پر رابطہ کرنے کی کوشش، آگے سے ایسا جواب مل گیا کہ زندگی کی سب سے بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑگیا

عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سال 2014ءکی رپورٹ کے مطابق دنیا میں تقریباً ایک ارب لوگ بیت الخلاءکی بجائے کھلی جگہ پر رفع حاجت کرتے تھے، اور ان میں سے تقریباً 82 فیصد کا تعلق بھارت سے تھا۔ آج بھی بھارت میں 60 کروڑ سے زائد افراد بیت الخلاءاستعمال نہیں کرتے، اور کھلی جگہوں پر رفع حاجت کے لحاظ سے بھارت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق جب بریلی شہر میں بیت الخلاءمسمار کرنے والے لوگوں سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے آباﺅ اجداد صدیوں سے فصلوں اور ویرانوں میں رفع حاجت کرتے آئے ہیں، آج وہ خود بھی ایسا کرتے ہیں اور مستقبل میں ان کے بچے بھی ایسا ہی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت الخلاءمیں رفع حاجت کو وہ خلاف فطرت محسوس کرتے ہیں اور بند کمرے میں بیٹھ کر اکثر لوگ تو رفع حاجت کر ہی نہیں پاتے۔

شہری حکام کا کہنا ہے کہ ہر سرکاری ٹوائلٹ کی تعمیر پر 12 ہزار بھارتی روپے خرچ ہوئے ہیں، اور لوگوں کو کھلی جگہوں پر رفع حاجت کے صحت کے لئے شدید نقصان کے متعلق بھی بہت رہنمائی فراہم کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ اپنی پرانی عادت چھوڑنے پر تیار نہیں، اور رفع حاجت کے لئے کھلی جگہوں کو ہی پسند کرتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -