دہشت گردوں کاعلم پرایک اور حملہ

دہشت گردوں کاعلم پرایک اور حملہ

نعیم مصطفےٰ

دہشت گردوں نے ایک بار پھر علم پر حملہ کر دیا ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی پہلی برسی کے ایک ماہ بعد ہی خیبر کے صوبائی دارالحکومت سے صرف20منٹ کی مسافت پر واقع چار سدہ کی باچا خان یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا، صوبہ کی بڑی علمی و تحقیقی درس گاہ میں ظلم و بربریت کا وہ کھیل کھیلا گیا ہے کہ الحفیظ والامان۔ عین اس وقت جب یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مشاعرہ جاری تھا کہ جدید اسلحہ سے لیس دہشت گرد جامع کے اندر داخل ہو گئے ، جس بہیمانہ انداز میں اساتذہ، سٹوڈنٹس اور عملے کے خون سے ہولی کھیلی گئی، اُسے سفاکی کی بدترین مثال کہا جا سکتا ہے۔ علم و تحقیق کی پیاس بجھانے میں مصروف افراد کو خون کے پیاسوں نے گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ علمیت کے امن و سکون پر دہشت گردانہ کارروائیوں کو مسلط کرنے کی مذموم سازش کی گئی۔ تعلیم و تحقیق کا گلہ گھونٹنے اور آواز دبانے کے لئے جدید اسلحے کا سہارا لیا گیا۔ جبر و تشدد کے ذریعے عرفان و آگہی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ فکرو دانش پر ظلم و جبر کو غالب کرنے کی بزدلانہ حرکت دیکھنے کو ملی، جس کی جس قدر اور جن الفاظ میں بھی مذمت کی جائے کم ہے۔آرمی پبلک سکول پشاور کے شہدا کے لواحقین سانحہ کو ایک برس گزرنے پر پوری قوم کے ساتھ اپنے پیاروں کو خراج عقیدت پیش کر کے بیٹھے ہی تھے کہ دوسرے تعلیمی ادارے کو ہدف بنا لیا گیا۔ ابھی گزشتہ روز پشاور کے کارخانو بازار میں دہشت گردی کی مذموم کاروائی میں خاصہ داروں سمیت درجن سے زائد افراد شہید ہوئے تھے کہ اگلے ہی دن باچا خان یونیورسٹی چار سدہ پر حملہ کر دیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مُلک کا امن و امان تباہ کرنے کے منصوبہ سازوں نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا ہے۔ وزیرستان میں افواجِ پاکستان کی طرف سے شروع کئے گئے آپریشن ضربِ عضب کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تھوڑا سا ٹھہراؤ آیا تھا ۔ یوں لگتا تھا کہ تخریب کار زیر زمین چلے گئے ہیں اور وہ پسپا ہو کر قبائلی علاقہ چھوڑ چکے ہیں، لیکن 19اور20 جنوری2016ء کو پشاور کے نواحی علاقوں کارخانو مارکیٹ اور چار سدہ کی یونیورسٹی میں جو واقعات رونما ہوئے اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے حوصلے پسپا نہیں ہوئے اور انہوں نے شکست تسلیم کرنے کے بجائے محض روپوشی اختیار کی ہے۔ یہ ظالم اب بھی تاک میں بیٹھے ہیں کہ جب اور جہاں موقع ملے اپنی مذموم اور بزدلانہ کارروائی کر ڈالیں، مگر گزشتہ روز کی واردات تو ہر لحاظ سے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ دہشت گردوں نے ایک تعلیمی و تحقیقی ادارے کو ٹارگٹ کیا ہے۔

خیبرپختونخوا تو طویل عرصے سے دہشت گردی کی زد میں ہے، پہلے تو صرف قبائلی علاقوں یا ان سے متصل مقامات پر واقعات رونما ہو رہے تھے اب تو شہر کے وسطی مقامات بھی محفوظ نہیں رہے۔ آرمی پبلک سکول کو ہی دیکھ لیں وہ ہر لحاظ سے سیکیورٹی اداروں کے حصار میں رہنے والا مقام ہے جس سے متصل فوجی فاؤنڈیشن سکول بھی ہے جو پاک فوج کے بالواسطہ طور پر زیر اثر چلایا جا رہا ہے اس کی سیکیورٹی بھی نہایت سخت تھی۔ یہاں آرمی کے مسلح جوان ہر لمحہ تعینات رہتے ہیں۔ اے پی ایس کے سامنے بھی پاک فوج کا مستقل ناکہ لگا ہوا تھا جبکہ ورسک روڈ کینٹ سے سکول کی طرف سے آنے والی سڑک پر بھی طویل عرصہ سے آرمی کی مستقل ناکہ بندی ہے۔سکول کی جانب ایک سڑک تہکال سے بھی آتی ہے اس پر پانچ چھ سال سے پولیس نے مستقل طور پر ناکہ لگا رکھا ہے ان تمام ناکوں پر ہر آنے والے پیدل و سوار شخص کی مکمل تلاشی لی جاتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر حصار میں گھرے پاک فوج کے تعلیمی ادارے کو اتنی آسانی سے ٹارگٹ کیسے کر لیا گیا؟ کیا دہشت گردوں کا نیٹ ورک ہمارے اداروں کی نسبت زیادہ مضبوط اور طاقتور ہے اور خفیہ معلومات اکٹھی کرنے پر مامور ہماری ایجنسیاں اس نیٹ ورک سے آگاہ نہیں ہیں؟ اور کیا تخریب کاروں کی طرف سے تیار کردہ منصوبہ بندی ہمارے اداروں کی منصوبہ بندی سے زیادہ مستحکم ہے، جس تک ہماری رسائی ممکن نہیں۔ یہ تمام سوالات قابلِ غور ہیں اور جب تک ہم ان کا جواب تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے دہشت گردی ختم کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

چار سدہ کی باچا خان یونیورسٹی بھی چاروں طرف سے حصار میں گھری ہوئی ہے۔ بیرونی دیواریں بھی خاصی اونچی ہیں اور اُن پر آہنی جنگلہ یا خاردار تاریں بھی خوب لگائی گئی ہیں یہ معاملہ نہایت خطرناک ہے کہ اگر واقعی دہشت گرد باقاعدہ گیٹ کے راستے داخل ہوئے اور بھاری اسلحہ بھی ساتھ لے گئے تو یہ حفاظتی اقدامات کے مُنہ پر زور دار طمانچہ ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ’’کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے‘‘۔

آرمی پبلک سکول کے سانحہ میں بھی اس قسم کی اطلاعات ملی تھیں کہ متاثرہ سکول کے کسی ملازم نے حملہ آوروں کو رہنمائی فراہم کی تھی، ان حملہ آوروں میں سے بیشتر تو اپنے انجام کو پہنچ گئے، لیکن قوم ابھی تک اس بڑے سانحہ کے منصوبہ سازوں سے بے خبر چلی آ رہی ہے۔

جہاں تک باچا خان یونیورسٹی اور ضلع چار سدہ کا تعلق ہے تو پشاور کے اتصال میں واقع یہ ضلع بڑی تاریخی اہمیت کا حامل ہے جو پشاور سے پندرہ بیس منٹ کی مسافت پر ہے۔اسے خیبرپختونخوا کی پرانی اور بڑی سیاسی قوت اے این پی کا گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے،جہاں سے تعلق رکھنے والے کئی سیاسی رہنما گورنر،وزیراعلیٰ اور وفاق و صوبائی وزارتوں کے مناصب پر فائز رہے۔اس شہر نے کئی قد آور سیاسی رہنماؤں کو بھی جنم دیا، خدائی خدمت گار تحریک کے بانی سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان (مرحوم) کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ انہی کے نام پر متاثرہ باچا خان یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ ادارہ اے این پی کے دورِ حکومت میں وجود میں آیا تھا، جس کا شمار صوبے کی بڑی جامعات میں ہوتا ہے۔چار سدہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ اور اُن کے بھائی حیات محمد خان شیر پاؤ کا آبائی علاقہ بھی ہے یہ دونوں حضرات گورنر اور وزیراعلیٰ بھی منتخب ہوتے رہے ہیں، اے این پی کے مرکزی رہنماؤں عبدالولی خان،اسفند یار ولی اور بیگم نسیم و لی خان بھی اِسی ضلع سے تعلق رکھتے تھے۔اے این پی کے گزشتہ دورِ حکومت میں وزیراعلیٰ رہنے والے امیر حیدر خان ہوتی بھی اِسی ضلع کے باسی ہیں۔یوں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سیاسی طور پر چار سدہ بڑا مضبوط اور زرخیز علاقہ ہے جس کے باسیوں کا اقتدار میں ہمیشہ بڑا حصہ اور کردار رہا ہے۔وہاں کی بڑی علمی اور تحقیقی درس گاہ کو نشانہ بنا کر کس کو اور کیا پیغام دیا گیا ہے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ویسے تو تعلیمی ادارے کو ٹارگٹ کرنے کی اطلاعات تین چار روز قبل یعنی ہفتہ سے ہی گردش کر رہی تھیں۔ اس بنا پر گزشتہ ہفتہ کو پشاور کے تمام تعلیمی ادارے احتیاطً بند کر دیئے گئے تھے اور کنٹونمنٹ میں واقع سکول کالج تو تاحال بند ہیں، لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اگر حساس اداروں کی طرف سے اطلاعات قبل از وقت دے دی گئی ہیں تو حفاظتی اقدامات ٹھوس اور موثر کیوں نہ تھے۔ خفیہ ایجنسیوں نے ریڈ الرٹ جاری کیا تھا کہ خود کش حملہ آور کسی لمحہ بھی تعلیمی اداروں کو ہٹ کر سکتے ہیں، لگتا ہے کہ اتنی بڑی اطلاع کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور اس پر کان دھرنے کے بجائے ہوا میں اڑا دیا گیا۔اس امر کی تحقیقات لازماً ہونی چاہئیں۔

فوری طور پر کسی انتہا پسند تنظیم نے سانحۂ چار سدہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن اس کے انداز اور طور طریقے آرمی پبلک سکول پشاور کے واقعہ سے ملتے جلتے ہی ہیں، ان میں کئی قدر مشترک ہیں اور اکثر معاملات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ آرمی پبلک سکول پر جب حملہ کیا گیا اس وقت بھی سکول میں تقریب جاری تھی اور کم و بیش 600 سٹوڈنٹس و اساتذہ ایک ہال میں موجود تھے۔باچا خان یونیورسٹی میں بھی باچا خان کی برسی کے سلسلے میں مشاعرہ جاری تھا اور ہال میں موجود افراد کی تعداد بھی600کے لگ بھگ تھی۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تجزیہ کار چار سدہ یونیورسٹی سانحہ کو ناکام حملے سے تعبیر کر رہے ہیں کیونکہ ایک ہال میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا حملہ آوروں کے لئے بہترین ٹارگٹ ثابت ہو سکتا تھا، لیکن خدا کا شکر ہے کہ کئی قیمتی جانیں محفوظ رہیں۔ اس حوالے سے فوری طور پر یہ بھی پتہ نہیں چل سکا کہ چاروں حملہ آور مار دیئے گئے یا کسی کو زندہ بھی گرفتار کیا جا سکا ہے، مقامی پولیس کا یہ دعویٰ ہے کہ دو حملہ آوروں کو ہم نے واصل جہنم کیا جبکہ کئی عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ تقریب میں موجود مہمانانِ خصوصی کے ساتھ جو مسلح گارڈ آئے تھے اُن کی جوابی فائرنگ کی زد میں آ کر دو حملہ آور مارے گئے۔ اس بارے میں تفصیلات تو بعد میں سامنے آئیں گی، لیکن دہشت گردوں کے نیٹ ورک تک پہنچنے اور اُن کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اگر کوئی حملہ آور زندہ قابو آ گیا ہے تو اس سے باریک بینی سے مکمل تفتیش کی جائے اور پوری قوم کو اس بارے میں آگاہ دی جائے۔

ایک اور اہم بات جس کی بار بار نشاندہی کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے سٹیلڈ ایریاز اور نواحی قبائلی علاقوں میں داعش بڑی مضبوط ہو رہی ہے اور چھوٹے بڑے انتہا پسند گروپ اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس کو قابو کرنے کے لئے ایک بھرپور ملٹری آپریشن کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے چونکہ پولیس کی اس حوالے سے باقاعدہ تربیت نہیں ہے تمام تر انقلابی اقدامات کے باوجود پولیس اہلکار اس قابل نہیں ہوئے کہ وہ دہشت گردوں کے جدید اور مربوط نظام کا مقابلہ کر سکیں۔

دفاعی و سیاسی تجزیہ کار اور شہری و سماجی حلقوں کی جانب سے پشاور سمیت خیبر بھر میں فوجی آپریشن اور آرمی عدالتوں کے قیام کی تجاویز کی باز گشت بھی سنائی دی رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ابھی پانی سر سے نہیں گزرا، فوری طور پر حالات کو کنٹرول نہ کیا گیا تو معاملات بس سے باہر ہو جائیں گے۔

اگر موجودہ حالات کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جون2014ء میں شروع ہونے والے آپریشن ضربِ عضب کے بعد خیبرپختونخوا سمیت کوئٹہ، کراچی و دیگر شہروں میں دہشت گردانہ کارروائیاں ہوتی رہیں، لیکن وہ شدت کے اعتبار سے اتنی بڑی نہیں تھیں، جتنی آرمی پبلک سکول اور چار سدہ یونیورسٹی کو نشانہ بنا کر کی گئیں ان تعلیمی اداروں پر حملے کا معاملہ انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔

خیبرپختونخوا میں چونکہ آج کل پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور یہ جماعت امن و امان کی مجموعی صورت حال بالخصوص پولیسنگ کو بہتر بنانے کی دعویدار ہے اس لئے حالات درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں امن و امان کی مجموعی صورت حال کو بھی تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لئے وفاقی حکومت اور افواج پاکستان کو بھی قبائلی علاقہ جات سمیت سیٹلڈ ایریاز میں لاء اینڈ آرڈر کے معاملات پر گہری نگاہ رکھنی چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت بھی وفاقی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کئے جانے والے اقدامات میں اُس کا بھرپور ساتھ دے، تب شہری و قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کنٹرول کی جانا ممکن ہو گی۔

***

مزید : ایڈیشن 1