ماڈل ٹاؤن پارک کی سیر

ماڈل ٹاؤن پارک کی سیر
 ماڈل ٹاؤن پارک کی سیر

  


ماڈل ٹاؤن پارک لاہور، جس کی سیر میرے اور میرے شوہر امتیاز کاظمی کا روزانہ کا معمول تھی، مجھے رہ رہ کر یاد آ رہی ہے، کیونکہ امتیاز کا بائی پاس ہونے کی وجہ سے ہم نے کچھ عرصہ کے لئے سیر ترک کر دی ہے۔یہ پارک بہت حسین، گہرے سبزے کی چادر اوڑھے، زمین پر رنگارنگ پھولوں سے بھری کیاریاں، پھولوں پر اُڑتی رنگ برنگی تتلیاں اور گھنے سایہ دار درخت اور ان درختوں پر بیٹھے ہوئے میٹھی میٹھی بولیاں بولتے طائر اور پارک کے درمیان پانی سے لبریز جھیل اور اس میں کشتیاں چلاتے بچے اور تیرتی ہوئی بطخیں اور ان کے گرد دانا دُنکا چنتے ہوئے خوبصورت پرندے اور کچھ فاصلے پر رقص کرتے ہوئے نیلگوں اور سبز پروں والے مور مجھے اَد بدا کر یاد آتے ہیں اور مجھے اپنی اس سیر کے دوران ملنے والے لوگ، جو ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے جاگنگ ٹریک پر سیر کررہے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ایک انکل جی جو بہت ہی بزرگ ہیں۔ ہم دونوں کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آتے ہیں اور ان کی زبانی پنجابی کے اشعار بہت ہی مزہ دیتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایک لیڈی ڈاکٹر صاحبہ ہیں جو اپنے ڈاکٹر والد گرامی کے ساتھ باقاعدگی سے واک کرتی ہیں۔ کتاب دوست ہیں۔ ویسے ان کا پارک میں کوئی دوست نہیں۔ مجھے بہت پسند ہیں۔ پارک میں باقاعدگی سے واک کرنے والوں میں تارڑ صاحب، جن کا پورا نام خاصا مشکل ہے۔ اس لئے میں ان کو تارڑ صاحب ہی کہتی ہوں۔ وہ بھی اکثر گروپ کی صورت میں سیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مجھے ان کے سفرنامے اور کالم بہت پسند ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ گفتگو پنجابی میں کرتے ہیں، لیکن لکھتے اردو میں ہیں۔ بہرحال پارک کی رونق ہیں۔

ایک زمانے میں ان پر پارک کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا کہ انہوں نے تجربہ کار، ذہین فطین، جہاں دیدہ ریٹائرڈ لائف گزارنے والے قیمتی بزرگوں پر ایک کالم ’’مخربِ اخلاق بابے‘‘ کے عنوان سے لکھ دیا تھا۔ان کے بعد آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے عثمان پیرزادہ بھی اس پارک میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر چائے کی پیالی ہاتھ میں تھامے کسی نہ کسی کو آٹو گراف دے رہے ہوتے ہیں، لیکن واک کم ہی کرتے ہیں لیجنڈ اداکار محمد قَوی خان بھی صبح کی سیر کے لئے اسی پارک میں تشریف لاتے ہیں۔ٹریک پر تیز تیز چلتے وہ ڈراموں والے بزرگ قوی خان نہیں لگتے، بلکہ کافی کم عمر دکھائی دیتے ہیں۔ خاصے چاق و چوبند ہیں۔ ان سے بھی اکثر سلام دعا رہتی ہے۔ پھر شاہد بخاری صاحب جن کا نام میں بہت احترام سے لیتی ہوں۔ وہ بھی مجھے بہن بہن کہتے نہیں تھکتے۔ اس پارک کی رونق ہیں اور ادبی محفلوں کی زینت ہیں۔ ان کے بعد منفعت عباس رضوی صاحب ہیں، جن سے پارک کے علاوہ گھر میں بھی ملاقات اکثر رہتی ہے۔ منفعت بھائی کی شاعری میری سمجھ میں کم لیکن امتیاز کو خوب سمجھ آتی ہے۔ بارونق شخصیت ہیں، جہاں جاتے ہیں اور جس محفل میں موجود ہوتے ہیں۔ اسے گل و گلزار بنا دیتے ہیں۔ موسیقی سے بھی بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف ساز بہت مہارت سے بجا لیتے ہیں۔ منفعت صاحب حسن رضوی مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ناصر زیدی صاحب بھی اس پارک میں باقاعدگی سے آنے والوں میں شامل ہیں۔ یہ رشتے میں میرے ماموں جانی لگتے ہیں۔ واک کم کرتے ہیں اور پارک کی کینٹین پر چائے پیتے اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ بہت خوبصورت، گورے چٹے، سفید لمبے بالوں کے ساتھ سفید لباس زیب تن کئے ایک ہاتھ میں کتابیں اور دوسرے میں عصا لئے پارک میں موجود رہتے ہیں۔عصا کو وہ کبھی ’’عصائے موسوی‘‘ سے موسوم کرتے ہیں اور کبھی علامہ اقبال کا مصرع دوہراتے ہیں کہ

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

باغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں۔ بچوں بڑوں سب میں یکساں مقبول ہیں۔ شاہ خرچ ہیں۔ دراصل نوجوان نسل کے شاعر ہیں۔ تخلیق کاروں کی نثری، شعری اور ادبی غلطیاں پکڑنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کا حلقہ ء احباب [خواتین سمیت] بہت وسیع ہے۔ اس لئے تنہائی ان کے قریب نہیں پھٹکتی۔ علم دوست ہیں۔ غزل، نظم، منقبت، نعت اور کالم نگاری، یعنی ہر میدان کے شہسوار ہیں۔ ایک انکل جوماڈل ٹاؤن کے رہائشی ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ ان سے بھی اکثر ملاقات رہتی ہے۔ بہت عمدہ اور نفیس انسان ہین۔ ان کی علاوہ جناب عاصم بخاری جو بزرگ اداکاروں میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اکثر ماڈل ٹاؤن پارک میں ’’آہستہ بہ خرام بلکہمخرام‘‘ کے انداز میں سُبک خرامی کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ جابجا خواتین کی محفلیں اور مردوں کی رنگارنگ کرسیوں پر براجمان مختلف ٹولیاں بھی اس پارک کی رونق ہیں۔ کہیں کہیں دور دور بیٹھے لڑکے لڑکیاں جو نہ جانے کن کن مسائل پر تبصرہ کرتے اور مستقبل کو روشن بنانے کے خواب بننے میں مگن نظر آتے ہیں، اس پارک میں گھنٹوں کے حساب ے وقت گزارتے ہیں۔ اسی پارک میں پروفیسر امتیاز بھی اتوار کی صبح 7:30 بجے کسی مخصوص موضوع پر ایک محفلِ نقد ونظر منعقد کرتے ہیں اور کسی خاص مفکر، پروفیسر یا دانشور شخصیت کو بطور مقرر دعوت دیتے ہیں اور کسی ایک موضوع پر تقریر ہوتی ہے۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا ایک وقفہ ہوتا ہے اور دوران تقریب میں کھانے پینے کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے۔

اکثر ناصر زیدی صاحب کو صدارت کے لئے بھی قابو کر لیتے ہیں۔ ایک دبلے پتلے، شلوار قمیض میں ملبوس، ماڈل ٹاؤن کے ہی رہائشی صاحب ،اپنی جیب میں گولیاں، ٹافیاں بھر کر لاتے ہیں اور اس محفل میں لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں، جس سے ’’شوگر لیول لو‘‘ ہونے والوں کو تقویت ملتی ہے۔ پارک کے مین گیٹ سے داخل ہوں تو بائیں جانب ایک صاحب جو نابینا ہیں(لیکن میرے حساب سے وہ بصیرت و بصارت کی دولت سے مالامال ہیں) اپنے سامنے ’’وزن کرائیں‘‘ کا بورڈ لگا کر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یہ صاحب یہاں عرصہ دراز سے آ رہے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ انہیں اس وسیع و عریض پارک میں چلتے پھرتے ہوئے کسی سہارے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ایک اور صاحب بھی اس پارک کی رونق ہیں۔ ان صاحب کی عمر ستر برس سے زائد ہوگی۔ یہ ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں۔ ہاتھ میں پانی کی ایک چھوٹی سی بوتل پکڑے پارک کی پگڈنڈیوں اور ٹریک پر ہروقت بھاگتے نظر آتے ہیں۔ اس عمر میں بھی ان کا یہ جوش و جذبہ، اس جوگنگ کے حوالے سے قابل تحسین ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان صاحب نے قذافی سٹیڈیم پر منعقدہ ایک میراتھن ریس میں بھی پوزیشن حاصل کی تھی۔

آخر میں اگر میں فیض احمد فیض صاحب کے داماد یعنی عمیر ہاشمی صاحب کا ذکر نہ کروں تو یہ کالم ادھورا محسوس ہوگا۔ یہ بھی اکثر ناصر زیدی صاحب کے ہمراہ کسی نہ کسی بنچ پر بیٹھے یا پھر جوگنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح مختلف مل اونرز، ایڈووکیٹ، بینکار، پروفیسرز اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ یہاں بڑی تعداد میں اور بڑی باقاعدگی سے سیر کے لئے آتے ہیں۔ اللہ پاک مادل ٹاؤن پارک کی رونقیں آباد رکھے۔ یہ جنت نظیر خطہ جہاں آنے جانے والے سب ایک ہی خاندان کے فرد لگتے ہیں۔ اللہ سب کو ایک دوسرے کا غم گسار رکھے۔ یہاں کی محفلیں آباد رکھے۔ امتیاز کاظمی صاحب کوکہ وہ خود بھی تقریباً نہیں، بلکہ یقیناًایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ بہت نفیس انسان ہیں، خوش گفتار ہیں۔ شعر لکھنے سے زیادہ پڑھنے کے شوقین ہیں۔ ان کی ایک نظم جو انہوں نے اسی پارک میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ آپ کی نذر کرتی ہوں:

میں کون ہوں؟

دیکھتا ہوں جب کبھی میں شام کو

اس باغ میں

بانہوں میں بانہیں ڈال کر

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

چلتے ہوئے پھرتے ہوئے

ہنستے ہوئے، سرگوشیاں کرتے ہوئے

کچھ نوجواں، کچھ لڑکیاں

اور دیکھتا ہوں جب کبھی میں شام کو

اس باغ میں بیٹھے ہوئے

فاصلے ہیں درمیاں

ہونٹوں پہ چُپ کی مُہر ہے

سوچتا ہوں یا خدا!

یہ کون ہیں، وہ کون ہیں

یہ اور ہیں، وہ اور ہیں

میں کون ہوں؟ میں کون ہوں؟

مزید : کالم