پاکستان ریلویز کا ایم ایل ون منصوبہ

پاکستان ریلویز کا ایم ایل ون منصوبہ

 پاکستان ریلوے کا شمار ان اداروں میں ہوتا ہے جن کو دیوالیہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ ایک مقولے کے مطابق بارہ برس میں تو روڑی کی بھی سنی جاتی ہے۔ لگتا ہے پاکستان ریلویز کی بھی سنی گئی ہے۔ موجودہ حکومت نے خواجہ سعدرفیق کے تحت پاکستان ریلویز میں اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا `جس سے حالات مکمل طور پر تو بہتر نہیں ہوئے، لیکن بہر حال بہتری آنا شروع ہوئی ہے۔ حال ہی میں اس محکمے نے ایک فزیبلٹی رپورٹ تیار کی ہے، جس کے مطابق کراچی اور پشاور تک ٹرینوں کی رفتار 160کلو میٹر فی گھنٹہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ ایم ایل ون کے نام سے چین کی ایک کمپنی کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور تک 1681کلو میٹر ٹریک کی مرمت ہو گی۔ حادثات روکنے اور جانوروں وغیرہ کو پٹری پر آنے سے روکنے کے لئے ٹریک کے گرد باڑ لگائی جائے گی۔ خطرناک ریلوے پھاٹکوں پر فلائی اوور یا انڈر پاسز بنائے جائیں گے۔ ریلوے کے تمام پلوں کو بہتر کیا جائے گا۔ سگنلوں کو بہتر بنایا جائے گا۔ یہ حکومتی منصوبہ عوام کیلئے بہتر سفری سہولت مہیا کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس محکمے سے بدعنوانی کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جائے ،تاکہ اس میں مزید بہتری آ سکے۔ (عشرت اختر،لاہور)

مزید : اداریہ