اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کرکے وسط مدتی انتخابات کی راہ ہموار کرنی چاہئے ‘ عمر عبداللہ

اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کرکے وسط مدتی انتخابات کی راہ ہموار کرنی چاہئے ‘ ...

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ اقتدار ہاتھوں میں لینے میں ڈر محسوس کررہی ہیں تو انہیں اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کرکے وسط مدتی انتخابات کی راہ ہموار کرنی چاہئے ۔ عمر عبداللہ کا پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے نام ایک کھلا خط منظر عام پر آیا ہے جس میں سابق وزیر اعلی نے محبوبہ مفتی کے ساتھ ان کے والد مفتی محمد سعید کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرنے کے علاوہ انہیں کئی مشورے دئے اور کچھ سوالات بھی پوچھے ہیں۔عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہیایک سوال جو میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں، ہمیں حکومت کیلئے اتنا انتظار کیوں کروایا جارہا ہے؟بی جے پی کے ساتھ آپ کا الائنس قائم ہے اور کوئی نئی بات چیت نہیں ہورہی ہے،تو ریاست مرکز ی رول کے تحت کیوں ہے؟

محبوبہ جی!آپ کس بات کا انتظار کررہی ہیں؟سابق وزیر اعلی نے پوچھا ہیکیا آپ کو ڈر محسوس ہورہا ہے؟یقیناہونا چاہئے، اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو نہایت ہی خوفزدہ ہوتا!میں اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ آپ کیلئے اپنے والد کی رہنمائی اور نصیحت سے مستفید ہوئے بغیر اقتدار سنبھال کر اپنے فیصلوں پر قائم رہنا کتنا مشکل ہوگا؟بدقسمتی سے آپ ان حالات کا انتخا ب نہیں کرسکتی جن میں آپ جموں کشمیر کی وزیر اعلی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گی ، لیکن آپ کا یہ ڈر اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ لوگوں کو منتخب حکومت سے محروم رکھا جائے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ملکر وزیر اعلی کی کرسی سنبھالنا محبوبہ مفتی کیلئے آسان نہ ہوگا۔ انہوں نے اپنے کھلے خط میں لکھا ہے آگے کا راستہ بہت پتھریلا ہوگا، آپ کو پتہ نہیں ہوگا کہ صحیح اور غیر جانبدارانہ مشورے حاصل کرنے کیلئے آپ کو کس سے رجوع کرنا ہوگا، بہتر یہ ہے کہ یا آپ وقت کے تقاضے کے مطابق فیصلہ کریں یا پیچھے ہٹ جائیں ،اس بات کی امید نہ رکھیں کہ ریاستی عوام آپ کا ذہن تیار ہونے تک انتظار کریں گے،اس وقت حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا مطلب اقتدار کا بھوکا ہونے کی علامت نہیں، لیکن اقتدار نہ سنبھالنا لوگوں کی طرف سے آپ اور آپ کی پارٹی کے تئیں ظاہر کئے گئے بھروسے کی پامالی ضرور ہے۔عمر عبداللہ نے پوچھا ہیاگر آپ وہ ذمہ داری لینے کیلئے آمادہ یا اہل نہیں ہیں، جو آپ کے کندھوں پر ڈالی جارہی ہے، تو آپ کو لوگوں کیلئے اپنا فرض ادا کرنا چاہئے،گورنرسے اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کریں اور لوگوں کو الیکشن میں نیا فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جائے،ٹال مٹول کرنا سب سے بڑی ضرر رسائی ہے جو آپ ہمارے یعنی جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ کررہی ہیں۔محبوبہ مفتی سے تعزیت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے لکھا ہیمیں نے قریب دو سال کے عرصے تک اپنے والد کو اسپتال لاتے لیجاتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر میرے دونوں والدین ایک بڑے آپریشن کے بعد ٹھیک ہوگئے ، میں جانتا ہوں کہ اپنے والد کو بیماری کی حالت میں دیکھ کر آپ کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی ، جب ان کے انتقال کی خبر آئی تو آپ کو ہوئے اس نقصان سے میری تشویش غم میں بدل گئی ، آپ کے کنبے کا نقصان اورریاست کا نقصان۔ سابق وزیر اعلی نے کہا کہ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے محبوبہ مفتی کی طرف سے اپنے والد کے انتقال کے فورا بعد وزارت اعلی کی کرسی پر بیٹھنے سے انکار کو ان کے کسی خاص مقصد یا مفاد کے ساتھ نہیں جوڑا تھا۔عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے کہا ہیبحث و مباحثے ہوئے اور مضامین لکھ کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ آپ کا انکار اتحادی جماعت اور اپنے ساتھیوں پر دبا بڑھانے کا منصوبہ ہے ، میں اپنی اس بات پر قائم رہا کہ جس شخص کو میں نے اسکے والد کی قبر پر روتے ہوئے دیکھا ، وہ رنج و غم کے لبادے کے پیچھے کوئی سازش کررہی ہو، صدمہ بہت گہرا اور اس قدر حقیقی تھاکہ اس کا مقصد یہ نہیں ہوسکتا کہ اپنی عظمت بڑھانے کیلئے کسی غلط منصوبے کو چھپایا جارہا ہو۔سابق وزیر اعلی نے اپنے خطے میں کہا ہیمیں نے مفتی محمد سعید کو کبھی بھی اپنا دشمن یا کوئی ایسا شخص نہیں سمجھا جس سے نفرت کی جائے، میری نظروں میں وہ ایک سیاسی حریف تھے جو میرے والد کی عمر کے تھے، وہ میرے لئے قابل احترا م تھے، میں نے ان کی سخت مخالف کی لیکن کبھی بھی اخلاقی حدود پار کرکے ان پر کوئی ذاتی حملہ نہیں کیا۔

مزید : عالمی منظر