قیام پاکستان سے ابتک کوئی جامع سنسر پالیسی نہ بنائی جا سکی

قیام پاکستان سے ابتک کوئی جامع سنسر پالیسی نہ بنائی جا سکی

لاہور(حسن عباس زیدی)ملک کے قیام کو69 برس بیت چکے ہیں لیکن آج بھی فلم اور ٹی وی ڈراموں کے حوالے سے سنسر پالیسی مادر پدر آزاد ہے قیام پاکستان سے لے کر آج تک کوئی بھی حکومت جامع سنسر پالیسی بنانے میں ناکام رہی ہے کبھی کسی حکومت نے سنسر میں نرمی برتی اور کسی نے بہت زیادہ سختی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے ہم لوگ اپنی راہ متعین کرنے میں ناکام رہے۔آئین پاکستان میں 19ویں ترمیم کے بعدمرکز نے فلموں کو سنسر کرنے کے لئے پنجاب اور سندھ میں سنسر بورڈ قائم کئے گئے جبکہ خیبر پختونخوا میں تاحال سنسر بورڈ کا قیام عمل میں نہیں آیا۔یہ کام اس لئے کیا گیا تھا کہ سندھ اورپنجاب والے اپنے اپنے صوبوں میں فلموں کو سنسر کروانے کے بعد ملک بھر میں عام نمائش کے لئے پیش کرسکیں۔پنجاب اور سندھ کی سنسر پالیسی میں واضح تضاد ہے ایک فلم کراچی میں سنسر ہوجاتی ہے لیکن پنجاب سنسر بورڈ اسے نمائش کے لئے ناموزوں قرار دے کر بین کردیتاہے اس لئے بہت ساری فلمیں ایسی ہیں جو سندھ میں سنسر ہوگئیں لیکن پنجاب میں ان کو نمائش کی اجازت نہ مل سکی۔ماضی کی معروف اداکارہ زیبا محمد علی جب سے پنجاب سنسر بورڈ کی چئیرمین بنی ہیں تب سے زیادہ تر ایسی فلموں کو نمائش کی اجازت دی گئی ہے جو ہر اعتبار سے نمائش کے لئے موزوں تھیں ۔2015ء میں ’’فینٹم ‘‘اور’’بے بی ‘‘کو پاکستان دشمنی پر مبنی مناظراور مواد کی وجہ سے بین کردیا گیا تھااور یہ فلمیں پاکستان میں عام نمائش کے لئے پیش نہ کی جاسکیں۔فلم ’’بے بی‘‘میں پاکستانی اداکاروں رشید ناز اور میکال ذوالفقار نے بھی کام کیا تھا۔مختلف نجی چینلز سے پیش کئے جانے والے متعدد ڈرامے ایسے ہیں جن کو عام آدمی اپنی فیملی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔

مزید : علاقائی