زخمی سانپ کا سر کچلنے میں غفلت کیوں؟

زخمی سانپ کا سر کچلنے میں غفلت کیوں؟
زخمی سانپ کا سر کچلنے میں غفلت کیوں؟

  


دہشت گرد در حقیقت حشرات الارض کی طرح ہوتے ہیں، کبھی زمین میں گھس جاتے ہیں اور کبھی باہر نکل آتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ختم ہو گئے ہیں یا ختم کر دیئے جائیں گے، یہ نا ممکن سی بات ہے۔ ہم کتنے بھولے بادشاہ ہیں کہ کچھ عرصہ امن رہتا ہے اور دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوتا تو ہاتھ جھاڑ کر یوں خوشیاں منانے لگتے ہیں، جیسے کام مکمل ہو گیا ہو۔ یہ کام تو کبھی بھی مکمل نہیں ہوتا، کیونکہ جب دہشت گرد ایک مائنڈ سیٹ بنا لیں تو ان کی فیکٹریاں چلتی رہتی ہیں اور دہشت گرد پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ چار سدہ میں دہشت گردی کا واقعہ خطرے کی ایک بہت بڑی گھنٹی ہے۔ ہم چاہے جتنابھی یہ نغمہ گاتے اور سناتے رہیں۔۔۔ ’’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے‘‘۔۔۔ دہشت گردوں کو غیرت نہیں آنے والی کہ وہ تعلیمی اداروں پر حملوں سے باز آ جائیں۔ حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ اب انہوں نے حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور نسبتاً نرم اہداف پر حملوں کا پلان بنایا ہے، تاکہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا کر اسے مفلوج کیا جائے۔ دہشت گرد اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں اور ہم اس بحث میں اُلجھ جاتے ہیں کہ کتنا امن قائم ہو گیا ہے اور اب ہمیں آپریشن کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟ ایک قوم جو مسلسل حالتِ جنگ میں ہے، بھلا کیسے ایک لمحے کے لئے یہ سوچ سکتی ہے کہ حالات نارمل ہو گئے ہیں اور اُس کے بعد پھر اپنی یکجہتی کو پس پشت ڈال کر چھوٹے چھوٹے گروہی مفادات کے لئے تقسیم ہو جائے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے موجودہ سال کو دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دیا ہے۔ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے اور اس پر عمل درآمد کوئی آسان کام نہیں۔ ایسے دعوؤں کی بجائے ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا چاہئے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کے بعد اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت لی ہے تو یہ خام خیالی ہے۔ ہم نے ان کی کمر ضرور توڑ دی ہے، اُن کے ٹھکانے ضرور ختم کر دیئے ہیں، مگر ہم ان کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کر سکے، نہ ہی ان کے نظریئے کو شکست دے سکے ہیں۔ جو آج بھی معصوم نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے اور جس کا مقصد اسلام کی غلط تعبیر پیش کر کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا ہے ۔ہم نے جب نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا تو اس میں تقریباً ایسے تمام نکات رکھ دیئے تھے،جو اس دہشت گردی اور اس کی پرورش و پرداخت کا باعث بننے والے عوامل کی سرکوبی پر مبنی تھے۔ ہم نے دشمن کو بندوق سے مارنے کی جنگ تو جیت لی، مگر اس کے مائنڈ سیٹ کو بدلنے اور ختم کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ضرب عضب ضرور کامیاب ہوا،مگر نیشنل ایکشن پلان کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس میں ایسے بے شمار خلا چھوڑ دیئے گئے ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر دہشت گردوں کو پھر منظم ہونے کا موقع مل رہا ہے اور وہ دوبارہ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔

اس وقت کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے کہاں ہیں اور وہ کہاں سے نکل کر اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں؟ پہلے تو کہا جاتا تھا کہ ان کے ٹھکانے شمالی و جنوبی وزیرستان میں موجود ہیں، اب جبکہ ہم نے ان کے یہ ٹھکانے تباہ کر دیئے ہیں تو پھر خود کش حملہ آور دہشت گردخود کش جیکٹوں کے شواہد کہاں سے نکل کر ہمارے شہروں میں آرہے ہیں اوردہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہیں؟دہشت گردوں نے دو دنوں میں تین دہشت گردی کے اہداف حاصل کئے ہیں۔سیکیورٹی فورسز کوبھی نشانہ بنایا ہے اور بآسانی اپنے ہدف تک پہنچے ہیں۔ آخر یہ کس قسم کی کامیابی ہے کہ جس پر ہم خوش ہو رہے ہیں اورہمارے اندر سے وہ جذبہ نکل گیا ہے،جو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد پیدا ہوا تھا؟جب دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا تو ہر طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا ہم نے اپنے سول اداروں کو اس جنگ کے لئے تیارکرلیا ہے،کیا ہم نے اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو اتنا موثر اور مضبوط بنالیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے پھیلتے ہوئے دائرے پر نظر رکھ سکے؟ کیا ہماری پولیس میں اتنا دم خم ہے کہ وہ شہروں اور گلی محلوں تک اپنا جال پھیلا سکے،کہ کسی دہشت گرد کو کہیں پناہ نہ ملے اور سب سے بڑی بات یہ پوچھی گئی تھی کہ کیا ہماری صوبائی حکومتوں میں اتنا سیاسی حوصلہ ہے کہ وہ مختلف روپ دھارے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی کر سکیں؟ آج اس بارے میں مڑ کے دیکھیں تو سب کچھ جوں کا توں نظر آتا ہے۔

ابھی تک ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی جو اطلاعات ہیں، ان کے خلاف آپریشن کب اور کس نے کرنا ہے ۔ اگر آپریشن کرنا ہے تو پھر فوج کو یہ ذمہ داری دینا ہوگی،کیونکہ بے دلی کے ساتھ کیا گیا آپریشن مزید خرابیوں کا باعث بنے گا۔جو کام برق رفتاری سے کئے جانے چاہئے تھے تاکہ دہشت گردوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملتا،وہ ہم نے کچھوے کی چال سے کئے ہیں،جس کا نتیجہ اب ظاہر ہو رہا ہے کہ دہشت گرد پھر منظم ہو کر اپنے ٹھکانوں سے باہر نکل رہے ہیں اورانہوں نے دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔۔۔یہ ڈرامہ اب نہیں چلے گا کہ ہر دہشت گردی کے واقعہ پرتو ہم ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کا بیان جاری کریں اور ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردیں۔سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پٹنے کی بجائے ہمیں باہر نکلنا ہوگا۔

ابھی کل ہی وزیراعظم محمد نواز شریف تہران میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ دنیا ہماری دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں پر حیران ہے۔انہوں نے بتایا کہ فرانس کے صدر نے گزشتہ دِنوں ان سے خصوصی ملاقات کی تھی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔۔۔ نہ صاحب نہ، ابھی ہم نے نہ توکوئی کامیابی حاصل کی ہے اورنہ ہی ہم اطمینان کا اظہار کر سکتے ہیں۔ابھی تو ہم حالت جنگ میں ہیں۔ فرانس میں تو ایک دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا کہ پوری قوم ہل گئی اور سڑکوں پر نکل کر اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔ ہمارے ہاں ہر روز ایسے واقعات ہوتے ہیں اور ہم پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کرلی ہے۔ دشمن ہماری تاک میں رہتا ہے اور ہم دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کے خبط میں مبتلا ہیں۔دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے خطرے کی جو گھنٹی بجی ہے، اگر ہم نے اس پر توجہ نہ دی اور اپنی کامیابی کا جشن ہی مناتے رہے تو پھر ہمیں ایسے مزید واقعات کے لئے بھی تیار رہنا چاہیے۔

یہ لامتناہی جنگ ہے، اس میں دشمن سامنے موجود نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے مختلف حصوں میں چھپا ہوا ہے۔ اسے تلاش کرنے کا عمل ایک لمحے کے لئے بھی سست روی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ کہنے کو چاروں صوبوں میں ایپکس کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، ان ایپکس کمیٹیوں کی کارکردگی کیا رہی ہے؟ اِکا دُکا دہشت گرد پکڑنے کی خبریں تو آ جاتی ہیں، مگر ابھی تک ہم اس بات کا کھوج نہیں لگا سکے کہ دہشت گرد گئے کہاں اور خون کی ہولی کھیلنے کے لئے نکل کر کہاں سے آتے ہیں؟ ایک بڑے واقعہ کے بعد تحقیق ہوتی ہے، مجرموں کے ماسٹر مائنڈ تک بھی رسائی حاصل کر لی جاتی ہے، کچھ ساتھی بھی گرفتار ہو جاتے ہیں، مگر ان ٹھکانوں کا پتہ نہیں چل رہا، جہاں فیکٹریاں لگا کر ٹرینڈ دہشت گرد اور خودکش حملہ آور تیار کئے جا رہے ہیں؟ کیا اتنے لولے لنگڑے انتظامات سے ہم اس دشمن کا مقابلہ کر سکتے ہیں جو درندگی کی آخری منزل پر کھڑا ہے اور جسے اپنی زندگی بچانے سے زیادہ دوسروں کو مارنے کی تربیت دی گئی ہے۔۔۔دہشت گردی کے حالیہ واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم نیشنل ایکشن پلان کا از سر نو جائزہ لیں، ان خامیوں اور کوتاہیوں کو بلا تعصب سامنے لائیں، جن کی وجہ سے ایک بڑی کامیابی کے باوجود ہم دہشت گردی کے عفریت پر قابو نہیں پا سکے۔ اگر مگر کی صورت حال سے نکل کر بڑے فیصلے کرنا ہوں گے، وگرنہ جس دشمن کو ہم نے اپنی کامیابیوں کے زعم میں کمزور سمجھ لیا ہے، وہ زخمی سانپ کی طرح ہم پر حملہ آور ہوگا۔ ہمیں اسی طرح خون میں نہلاتا رہے گا، جیسے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں طلبہ و اساتذہ کو نہلا گیا ہے۔

مزید : کالم