ایران پر پابندیاں اٹھانے کا ایک فال آؤٹ: یہ بھی ہو سکتا ہے!

ایران پر پابندیاں اٹھانے کا ایک فال آؤٹ: یہ بھی ہو سکتا ہے!
ایران پر پابندیاں اٹھانے کا ایک فال آؤٹ: یہ بھی ہو سکتا ہے!

  


وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں ایک ایک دن ریاض اور تہران میں گزار کر واپس آ چکے ہیں۔ پاکستان دیکھ رہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا گراف بڑھ رہا تھا۔ عین ممکن تھا کہ سعودی کولیشن کے جو طیارے،یمن کے حوثی باغیوں پر بمباری کر رہے ہیں ان کا رخ ایران کی طرف کر دیا جاتا اور اس کے جواب میں ایران کے پاس تو ایک سے زیادہ جوابی آپشنز تھیں۔ ایرانی ائر فورس، ائر ڈیفنس فورسز، نیوی اور گراؤنڈ فورسز متحرک ہو سکتی تھیں۔ سعودیوں نے آج تک جدید طرز کی اصل جنگ کے مناظر نہیں دیکھے۔ آپریشن ڈیزرٹ سٹارم یعنی پہلی خلیجی جنگ کا جوائنٹ ہیڈکوارٹر اگرچہ سعودی عرب میں تھا لیکن اس جنگ میں بھی سعودی فورسز نے گراؤنڈ پر کوئی قابل ذکر لڑائی یا کوئی آپریشن نہیں کیا تھا۔سعودی عوام بھی امریکہ کے مین لینڈ باشندوں کی طرح ایک مدت سے محفوظ پناہ گاہوں میں آرام فرما ہیں۔ لیکن جنگ تو بڑی ظالم چیز ہے ایرانیوں نے 1980ء سے لے کر آج تک جنگ و جدال اور کشت و قتال کے کئی مناطر دیکھے اور بھگتائے ہیں۔ یہ جنگ جب ایران کا رخ کرتی تو وہ امریکی فورسز اور ان کی سنٹرل کمانڈ کا ذیلی ہیڈکوارٹر بھی جو جنوبی ایران کے ساحلوں کے عین بالمقابل واقع ہے وہ بھی متحرک ہو جاتا۔ شام میں روسی فورسز پہلے ہی موجود ہیں۔ اندیشہ تھا کہ اگر ایران۔ سعودی کشیدگی کسی گرم جنگ کی طرف بڑھتی ہے تو یہ خطہ کسی تیسری عالمی جنگ کا نقطہ ء آغاز بھی بن سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا غیر جانبدار رہنا ممکن نہ تھا۔ ہم نے سعودیوں کو بارہا یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر ان کی سرزمین پر کوئی غیر ملکی حملہ ہوا تو پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ یہی یقین دہانی اب اس دورے میں بھی پاکستانی قیادت نے دہرائی ہے۔

دوسری جنگ عظیم شمالی افریقہ میں بھی لڑی گئی تھی، بحیرۂ روم میں بھی اور مشرقِ بعید کے علاوہ برما (میانمر) میں بھی۔ لیکن برصغیر ہندو پاک کی مین لیند اس جنگ کی تباہ کاریوں سے ’’محفوظ‘‘ رہی۔ اور اس کے ساتھ سارا بحرہند بھی کسی بحری لڑائی میں شور انگیزنہ ہوا۔ لیکن اگر کبھی ایران۔ سعودی جنگ ہو گئی تو یہ سارا خطہ جو جنگ عظیم دوم میں جنگ نادیدہ تھا،جنگ گزیدہ بن جائے گا۔۔۔اس تناظر میں دیکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ مقام اطمینان ہے کہ موجودہ پاکستانی دورے نے اس خطرناک منظرنامے سے ہمیں اور دنیا کو بچا لیا ہے۔

سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اور جنرل راحیل شریف ریاض و تہران سے اپنے ساتھ کیا لے کے آئے ہیں؟۔۔۔یعنی آیا ان کو کشیدہ حالات معمول پر لانے کے لئے کوئی یقین دہانی کروائی گئی ہے یا نہیں؟۔۔۔ اور اگر کروائی گئی ہے تو اس کا جغرافیہ اور کیف و کم کیا ہے؟۔۔۔ ایران نے تو پاکستانی قیادت کو کہہ دیا ہے کہ وہ اپنا فوکل پرسن (Focal Person)مقرر کرنے کو تیار ہے (یہ فوکل پرسن کی اصطلاح پہلی بار سننے میں آ رہی ہے۔ نجانے کس کی اختراع ہے۔ فوکل کا تعلق تو انسانی آنکھ سے ہے۔ آنکھ کے ایک حصے کو ’’ماسکہ‘‘ کہتے ہیں۔ فوکل پرسن کا مطلب بھی یہی ہے کہ ایک ایسا نمائندہ جو حالات کو بغور ’’زیرِ نگاہ‘‘ رکھے اور اپنی حکومت کو آئندہ کے حالات سے باخبر رکھے ) تاہم سعودیوں نے ابھی اپنے کسی ’’فوکل پرسن‘‘ کے تقرر کا اعلان نہیں کیا۔ ممکن ہے آج کل میں ایسا ہو جائے۔ ایران کی طرف سے اس ’’پرسن‘‘ کا تقرر یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے پر آمادہ ہے اور یہ بڑی اچھی خبر ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اگر یہ ’’خبر‘‘ اپنی جیب میں ڈال کر لائی ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ خالی ہاتھ نہیں لوٹی۔۔۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر سعودی عرب والے بھی اس قسم کا کوئی انتظام کرتے کیونکہ پاکستانی وفد پہلے ریاض میں اترا تھا، تہران بعد میں گیا تھا!

ایران کا رقبہ، پاکستان سے دگنا ہے لیکن آبادی پاکستان کی آبادی کے نصف سے بھی کم ہے (8کروڑ) ایران کی اس آبادی کی شرحِ خواندگی بھی قابلِ رشک ہے۔ ایران تیل اور گیس کی دولت سے بھی مالامال ہے اور اس طرح مشرق وسطیٰ کے اس خطے میں سعودی عرب کا رقیب ہے ۔ گو دونوں ممالک پر بالواسطہ ہی سہی مذہبی سکالروں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ لیکن ایران کی مذہبی قیادت کئی اعتبار سے سعودی مذہبی قیادت کے مقابلے میں زیادہ وسیع القلب واقع ہوئی ہے اور شائد زیادہ لبرل بھی ہے۔ ایرانی انقلاب کوآئے 36واں برس جا رہا ہے۔ اس عرصے میں ایران نے اپنی عسکری قوت کو خودکفیل بنانے میں قابلِ رشک کردار ادا کیا ہے۔ ایران کی تینوں مسلح افواج جنگ دیدہ اور جنگ آزمودہ ہو چکی ہیں۔ ماضیء قریب میں عراق اور شام کی جنگوں میں ایرانی عسکری قیادت کو بہت سے ’’جنگی آپریشنوں‘‘ کا سامنا ہوا۔ اور وہ اس میں سرخرو بھی نکلی۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مذہبی قائدین لبرل خیالات کی بجائے منجمدالعقیدہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے مذہبی ڈاکٹرین سے سرِ مُو انحراف نہیں کرتے اور کٹر کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن ایران نے حال ہی میں امریکہ سے جو نیوکلیئر ڈیل کی ہے وہ اس حقیقت کی غماز ہے کہ ایران اپنے ’’مرگ بر امریکہ‘‘ والے نعرے اور عقیدے کی قید سے آزاد ہو رہا ہے۔

ایران نے یورینیم کو افزودہ کرنے کے 19000سنٹری فیوج لگا رکھے تھے جو تمام کے تمام ’’جدید نسل‘‘ کے سنٹری فیوج تھے۔ وہ ان سنٹری فیوجوں کی مدد سے جو یورینیم افزودہ کررہا تھا اس کی رفتارِ تیاری حیران کن تھی۔ وہ بہت کم عرصے میں ایٹمی دھماکہ کر سکتا تھا۔ لیکن ایران نے ان سنٹری فیوجوں کی تعداد گھٹا کر صرف 6104 کر دی ہے جو بم سازی میں فوری طور پر کسی کام نہیں آ سکتی۔ مزید برآں ان 19000 سنٹری فیوجوں میں 1000سنٹری فیوج ایسے بھی تھے جو الٹرا جدید تھے۔ ایران نے ان کو بھی ختم کر دیا۔ اس کے پاس 19000پاؤنڈ افزودہ یورینیم تھی جو گھٹ کر صرف 660 پاؤنڈ رہ گئی ہے۔ باقی روس کو بھیج دی گئی ہے۔ ایران کا پلاٹونیم افزودہ کرنے کا ایک پلانٹ بھی تھا جس سے ہائیڈروجن بم بنایا جا سکتا تھا، اس کو بھی بند کر دیا گیا ہے اور اس کے پلاٹونیم سازی کے کنویں میں کنکریٹ بھر دی گئی ہے۔ ایران۔ امریکہ نیو کلیئر ڈیل سے قبل یہ تاثر عام پایا جاتا تھا کہ ایران ایٹم بم بنانے سے صرف دو تین ماہ دور رہ گیا ہے۔ لیکن اب آئندہ دس برسوں کے لئے ایران نے اپنی ایٹمی تنصیبات کے دریچے IAEA پر کھول دیئے ہیں کہ جب جی چاہے، آؤ اور معائنہ کر لو، ہم نیو کلیئر بم نہیں بنا رہے۔ آج اگر ایران چاہے بھی کہ ڈیل ختم کرکے بم بنانے کی کوشش کرے تو اس ’’بریک آؤٹ‘‘ میں اس کو کم از کم ایک برس لگ جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں ایران نے فی الحال نیو کلیئر بم سازی سے پوری طرح اجتناب کر لیا ہے اور دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کوئی بڑی جنگ چھیڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اس موضوع پر پچھلے دنوں اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ایران، ہرگز سعودی عرب پر حملہ نہیں کرے گا۔

ایران کے شیعہ علماء نے بھی ایرانی حکومت کو اس نیوکلیئر ڈیل کی اجازت دے کر گویا اپنے روائتی کٹرپن سے 180 ڈگری معکوس راستہ اختیار کیا ہے۔۔۔ مسلک کوئی ہو، ملاؤں کی ڈکشنری میں ایسی لچک کا مظاہرہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ایران نے یہ پسپائی یا پس قدمی (Retreat) کیوں قبول کی؟۔۔۔ کیا سبب تھا کہ وہ اپنے بنے بنائے بم سازی کے انفراسٹرکچر کو مسمار کرنے پر آمادہ ہوا؟۔۔۔ کیا وجہ تھی کہ اس نے بظاہر جیتی ہوئی بازی ہار دی؟۔۔۔ اس کی وجہ جو مجھ ہیچمدان کو معلوم ہوتی ہے وہ ایران کی وہی سوچ ہے جو قوموں کی ترقی کے لئے انتہائی اور اشد ضروری ہوتی ہے اور جسے ’’سٹیٹس کو‘‘ کو توڑنا کہا جاتا ہے۔۔۔ جہاں سعودیوں نے اپنے ہاں موجودہ ’’سٹیٹس کو‘‘ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے، وہاں ایران نے اس کو توڑ کر وہی بات کی ہے جو اس شعر میں بیان کی گئی ہے:

بیا تاگُل بیفشا نیم و مے در ساغر اندازیم

فلک را ستف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم

(آ کہ گل پاشیاں کریں۔ شرابوں کو پیالوں میں انڈیلیں، آسمان کی چھت پھاڑ ڈالیں اور ’’طرحِ نو‘‘ کا آغاز کریں!)

کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کے اس دورے سے سفارتکاری کے عمل کو ایک بڑی کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ اسی قیادت کو بہت جلد ریاض اور تہران کا ایک اور دورہ بھی کرنا پڑے گا۔ اور اس آئندہ وزٹ کا ایجنڈا ’’ایران۔ سعودی کشیدگی‘‘ نہیں ہوگا، ’’پاکستانی مدرسوں میں ایران۔ سعودی فنڈنگ‘‘ کا مسئلہ ہوگا۔

ایران امریکی ڈیل کے بعد اب ایران پر سے پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ اب بہت جلد ایران کے ہر طرح سے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ تیل کی دولت ان کے پاس ہے، اربوں ڈالر کی وہ رقوم جو غیر ملکی بنکوں (خصوصاً امریکہ اور کینیڈا کے بینکوں) میں پڑی ہیں وہ مارک اپ کے ساتھ سینکڑوں ارب ڈالرہو چکی ہیں۔ یہ اربوں ڈالر ایران کو مل جائیں گے۔ مستقبل قریب میں ایران گلوبل تجارت کا گڑھ بننے والا ہے۔ گوادر۔ خنجراب راہداری کے طفیل ایرانی تیل کی ترسیل کے وسیع امکانات بھی سامنے نظر آ رہے ہیں۔ مغربی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس ایرانی مارکیٹ پر جھپٹ پڑنے کو تیار بیٹھی ہیں جو ایک طویل عرصے سے ان کی راہ دیکھنے کو ترس گئی تھی۔ تیل اور گیس کے کئی نئے منصوبوں کو نئی زندگی ملنے والی ہے۔۔۔ یہ اور بہت سے دوسرے دروازے ایرانی مارکیٹ پر کھلنے جا رہے ہیں اور ایرانی تجوریاں بھرے جانے میں اب زیادہ دیر نہیں ہوگی۔

ایسی صورت حال میں اس ’’فارن فنڈنگ‘‘ کا کیا بنے گا جو ایران اور سعودی عرب پاکستان میں اپنی اپنی پراکسی جنگ و جدال کی مالی اور انصرامی سپورٹ کے لئے بھیجتے رہتے ہیں۔ ایران میں اگر اربوں ڈالر آئیں گے تو فارن فنڈنگ کا ’’حصہ‘‘ بھی ان میں شامل ہوگا۔ اگر اور کچھ نہیں تو دوسری طرف سعودی عرب کو ایرانی فنڈنگ کا جواب تو دینا ہی ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان شیعہ سنی مناقشوں کا کس بری طرح شکار رہا ہے اور ہے۔ کس کو خبر نہیں کہ ایرانیوں اور سعودیوں نے پاکستانی سوسائٹی کو مذہبی اور مسلکی پولرائزیشن کی انتہاؤں تک پہنچا دیا ہے اور (خدا نہ کرے) یہ روش اب مستقبل قریب میں مزید بھیانک صورتِ حال اختیار کرنے والی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے پاس اس موضوع پر جو اعدادو شمار موجود ہیں ان کی گونج میڈیا پر اکثر سنائی دیتی رہتی ہے۔ ہم نے گزشتہ ایام میں چند مدرسوں کو بند بھی کیا ہے اور فارن فنڈنگ روکنے کے انتظامات کو بھی مہمیز لگائی ہے لیکن نجانے پھر بھی مجھے ایران پر مغربی پابندیاں اٹھائے جانے کی ’’خیر‘‘ کی خبر میں ’’شر‘‘ کا ایک پہلو بھی نظر آتا ہے۔ خدا کرے یہ میرا واہمہ ہو۔ لیکن پاکستان جب تک اس غیر ملکی سرمائے کی خفیہ درآمد کو کلی طور پر نہیں روکتا، پاکستان کی سرزمین دہشت گردوں سے پاک نہیں کی جا سکتی۔ خدا نہ کرے کہ امریکی صدر اوباما کی وہ بات درست نکلے کہ پاکستان میں آنے والے کئی عشروں تک استحکام کی صورت حال متزلزل رہے گی۔ اگر ایسا ہوا تو اس کو روکنے کے لئے ایک اور ضربِ عضب دوم لانچ کرنا پڑے گا۔ نیشنل ایکشن پلان کی ایک واضح شق یہ بھی ہے کہ پاکستان میں مدارس اور مساجد کو موصول ہونے والی فارن فنڈنگ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس شق کو روبہ عمل لانے کے لئے بڑی دلیری لیکن بڑی دانش مندی درکار ہوگی۔ میں بارِ دگر درخواست کروں گا کہ ہماری سیاسی اور فوجی قیادت کو اس پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر اس مرض کا مداوا کرنا چاہیے۔

مزید : کالم