اسلامی نظریہ اور ریاستِ پاکستان (آخری قسط)

اسلامی نظریہ اور ریاستِ پاکستان (آخری قسط)
 اسلامی نظریہ اور ریاستِ پاکستان (آخری قسط)

  

حکومت:حکومت کی سطح پر کرنے کے کام یہ ہیں کہ حکومت چند نظریاتی یعنی اسلامی اصلاحات کو اسمبلی میں پاس کراکے نفاذ کا فوراً اعلان کرے یعنی:

*۔۔۔ شراب پر ہر طرح کی پابندی لگا دی جائے۔ ملک کے اندر شراب کی اجازت ختم اور فیکٹریاں بھی بند کردی جائیں۔

*۔۔۔ تعزیراتِ پاکستان کو منسوخ کرکے (ایران کی طرح) پاکستان کے عوام کی دو تہائی اکثریت کے فقہی حنفی مسلک کی بنیاد پر فقہ حنفی کو ملکی قانون قرار دیا جائے۔

*۔۔۔ جوئے، جوئے کے اڈوں اور کلبوں پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔

*۔۔۔سود کے مکمل خاتمے کے لئے 1973ء کے آئین کی روح کے مطابق 15 سال میں جو تمام قوانین اسلامائز کرنے تھے اس کی روشنی میں یو بھی ایل کے ذریعے پرویز مشرف دور میں جو درخواست دے کر سود کے مکمل خاتمے کو مکمل لٹکا دیا گیا تھا، وہ درخواست واپس لے کر نیک نیتی سے سود کا مکمل خاتمہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔

*۔۔۔سرکاری میڈیا اور نجی میڈیا چینلز سب پر اذان، دوپٹہ (خواتین کے لئے چہرے کے علاوہ ساتر لباس)، نمازوں اور جمعہ کے اوقات کے اعلانات کے ساتھ وقفے کئے جائیں اور ان وقفوں میں اشتہارات نہ چلائے جائیں۔

*۔۔۔ میڈیا پر اشتہارات کے لئے سخت ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرایا جائے۔ دینی احکام کی خلاف ورزی پر اکسانے والے تمام اشتہارات، تصویریں، ڈرامے بلاخوف بند کرائے جائیں۔

*۔۔۔ نیز انفرادی زندگی میں بھی ہر سطح پر دستور کی دفعہ 63-62 کے تقاضے پورے کرائے جائیں۔

عدلیہ:عدلیہ کے تمام جج حضرات، عملہ اور قاصد کی سطح تک آئین کی دفعہ 63-62 کے تقاضے پورے کئے جائیں اور آئندہ تمام ملازمتیں اس شرط کے ساتھ مشروط کی جائیں۔

فوج: فوج میں آئندہ تمام بھرتی پر اپنی روح کے ساتھ دفعہ 63-62 کی پابندی لگائی جائے اور موجودہ (حاضر سروس) سٹاف اور جوانوں پر بھی سرکلرز،Directives اور Incentives کے ذریعے یہ تقاضے پورے کرائے جائیں۔

سرکاری ملازمتیں:

* ۔۔۔طے کردیا جائے کہ آئندہ تمام سرکاری ملازمتیں چاہے (Public Service Commition) کے ذریعے سے ہوں یا کسی اور ذریعے سے دفعہ 63-62 کے بنیادی تقاضے پورے کرنے پر ہی دی جائیں گی۔

*۔۔۔تمام سرکاری کارپوریشنز کی ملازمتوں پر بھی چیئرمین، ڈائریکٹر سے لے کر قاصد اور سیکیورٹی گارڈ تک ان دفعات کے تقاضے پورے کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

محکمہ تعلیم۔۔۔ اساتذہ:نظریہ یعنی نظریاتی تعلیم چونکہ بہت اہم ریاستی ستون ہے۔ لہٰذا، محکمہ تعلیم میں (سرکاری و غیر سرکاری سکولوں) ٹیچرز کے لئے آئین کی دفعہ 63-62 میں قدرے اضافہ کے ساتھ سخت Code of Conduct لاگو کیا جائے اور جن سکولوں کی انتظامیہ میں غیر مسلم ہوں یا مشنری عیسائی ادارے ہوں، ان میں مسلمان بچوں کے داخلے پر پابندی لگا دی جائے اور آئندہ سرکاری ملازمتوں میں ایسے اداروں کے فارغ التحصیل طلبہ کو Discourage کیا جائے۔

مقننہ:

*۔۔۔ آئندہ الیکشن تک (جو تین سال بعد ہوں) مقننہ کے متوقع امیدواروں کے لئے سرکاری سطح پر صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد میں نظریاتی تربیتی کورسز کروائے جائیں، دفعہ 63-62 کی شرائط کے علاوہ ہر قومی و صوبائی اور ضلعی ناظم کی سطح کے امیدواروں کے تعلیمی شرائط کے علاوہ ایک 15روزہ نظریاتی تربیتی ورکشاپ میں شرکت لازمی قرار دی جائے (کونسلر اور ناظم یونین کے لئے یہ کورسز ایک ہفتہ دورانیہ کے ہوسکتے ہیں)۔ اس تربیتی ورکشاپ کا نصاب نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے مشورے سے دو قومی نظریہ، نظریۂ پاکستان، فکرِ اقبال یعنی علامہ اقبال کے انقلابی تصور اور افکار کے مطابق ترتیب دیا جائے تاکہ آئندہ آنے والی ہماری قومی اور صوبائی اسمبلیاں صحیح نظریاتی لوگوں پر مبنی ہوں جو اپنے دور اقتدار میں اس نظریہ کی مزید خدمت کرسکیں۔

* ۔۔۔انتخابی اصلاحات کی جائیں اور طریق کار کی غلطیوں کو دور کر دیا جائے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جائیں۔

حاصل کلام:نظریۂ پاکستان کیا تھا ۔فکر اقبال کیا ہے اور پاکستان کے نظریاتی ریاست بننے کے تقاضے کیا تھے اور ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں؟ آئندہ فوری و ہنگامی طور پر کرنے کے کام کے ساتھ ساتھ طویل اور مختصر المیعاد منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کا آغاز ضروری ہے۔ اس تحریر میں ہنگامی نوعیت کی ناگزیر باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تاکہ ملک کے سنجیدہ اور مخلص حضرات اس ضمن میں آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ملک و قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو سازشوں کے سیلاب بلاخیز سے نکال کر فکر اقبال کے مطابق ’’خلافت کی بنا‘‘ ڈالنے کی سعی فرمائیں:

تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار

لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

ہم پاکستان کو اپنے نظریاتی تشخص کے مطابق ڈھال کر نظام مصطفی ﷺ کا گہوارہ اور عالمی خلافت کا نقطۂ آغاز بناسکیں تو ہماری خوش بختی و خوش قسمتی کے کیا کہنے! بقول شاعر :

چمن کے مالی اگر بنالیں موافق اپنا شعار اب بھی

چمن میں آسکتی ہے پلٹ کر چمن سے روٹھی بہار اب بھی

مزید : کالم