شکت سے سبق حاصل اورغلطیوں سے سیکھیں!

شکت سے سبق حاصل اورغلطیوں سے سیکھیں!
 شکت سے سبق حاصل اورغلطیوں سے سیکھیں!

  

ابھی سیریز ختم نہیں ہوئی، پاکستان کی ٹیم اب بھی کم بیک کر سکتی ہے، ٹیم پاکستان کو گبھرانے کی ضرورت نہیں، ٹیم کو غلطیوں سے سیکھ کر چلنا ہوگا اور چوتھے ایک روزہ میچ میں پاکستانی سپنرز کو مدد ملے گی کہ سڈنی کی وکٹ سپنرز کے لئے ساز گار ہے یہ مثبت اور حوصلہ افزائی کی باتیں اور کسی نے نہیں پاکستان کر کٹ ٹیم کے سابق چیف کوچ اور کپتان وقار یونس نے کی ہیں، وہ خود بھی آسٹریلیا ہی میں رہائش پذیر ہیں اور ایک اچھا سابق کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ان کو مختلف ممالک کے شہروں میں کھیلنے کا بھی تجربہ ہے ان دنوں تبصرہ اور تجزیہ نگار ہیں پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا میں کھیل رہی ہے، ٹیسٹ میچوں میں سیریز ہار گئی ، وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا، اس پر بہت لے دے ہوئی حتیٰ کہ کھیل کے قواعد کو بھی نظر انداز کر دیا گیا، اس کے بعد پانچ ایک روزہ میچوں کا سلسلہ شروع ہوا تو پہلے ہی میچ میں شکست ہو گئی ایک بار پھر تنقید اور مذمت کا دروازہ کھل گیا، ہمارا اس وقت بھی ایک موقف تھا اور اب بھی ہے، کھیل کو کھیل رہنے دیں اسے زندگی موت کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے کہ کھیل میں جو ٹیم بہتر کھیلے وہی جیتنی ہے، لیکن اس پر کوئی دھیان نہیں دیتا، ہماری پوری قوم ہی جذباتی ہے۔

اظہر علی کی بد قسمتی کہ وہ پہلے انٹر نیشنل ون ڈے ہی میں زخمی ہو گیا اور سیریز کے باقی میچوں کے لئے بھی دستیاب نہیں تھا، ان کی جگہ محمد حفیظ کو کپتان بنادیا گیا، اگلے ہی میچ میں محمد حفیظ کی قسمت جاگ گئی ، خود اس نے سکور کیا اور یہ میچ پاکستان نے جیت لیا یہ فتح واہ،واہ کا سلسلہ شروع کرا گئی اور ایک مرتبہ پھر تعریفوں کے پل باندھے جانے لگے، ریٹائر کھلاڑی اور خود کھیلنے والے سیریز جیتنے کے خواب دیکھنے لگے، یوں ایک وقت میں بدنام ٹیم دوسرے ہی مرحلے پر نیک نام ہو گئی مجموعی اور انفرادی تعریف بھی ہونے لگی ، ہم نے تب بھی کہا تھا کہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں انتظار کریں، سو وہی ہوا جس کا خدشہ تھا کہ اس میچ میں پاکستان کی ٹیم کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی گئی اور یہ سب صرف 264رنز ہی بنا سکے جواب میں آسٹریلیا ٹیم نے یہ سکور ساڑھے پانچ اوور پہلے ہی پورا کرلیا اور ان کے صرف تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے، کپتان سمتھ سنچری کر گئے، اب اس کے ساتھ ہی سخت تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پچھلے سارے کئے کر ائے پر پانی پھیر دیا گیا ایسے میں ہی وقار یونس نے کافی مثبت باتیں کی ہیں، چنانچہ ان کی طرف تو جہ دینا چاہئے کہ وہ اس ٹیم کے چیف کوچ رہے ہیں۔

میچ میں شکست ہوئی تو پنڈورا بکس کھول لیا گیا اور کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا والا قصہ شروع ہو گیا، اس تنقید کی زد میں تمام کوچ اور بورڈ بھی آگیا ہے، بہر حال یہ بھی ایک حقیقت تسلیم کر لی ، تو پھر کچھ نہیں بچے گا، بہتر ہے کہ تنقید اور تعریف مثبت انداز میں ہو، ہم نے پچھلا میچ جیتنے پر بھی عرض کی تھی کہ جو کمی نظر آرہی ہے اس پر قابو پانے کی کوشش کی جائے، اس سلسلے میں بلے بازوں کو باؤنسی اور کچھ کچھ گرین وکٹ پر کھیلنے کے لئے مشق کرائی جانا چاہئے اور اسی طرح باولروں کو مختلف نوعیت کے حالات میں بھی مثبت باؤلنگ کی تربیت دی جائے۔

ہماری کرکٹ ٹیم میں ایک نیا مسئلہ نو بال کا ہے کہ پہلے تو وہاب ریاض تھے جو بار بار نو بال کرتے رہے اب جنید خان بھی ان کے ساتھ مل گیا ہے، اور اس نے بھی نوبال کر کے نیا نام کمایا ہے اس کے بعد جس امر پراتفاق رائے ہوا وہ یہ ہے کہ فیلڈنگ بہت کمزور ہوئی، بہت سے کیچ بھی گرا دیئے گئے، اور مس فیلڈ سے رنز بھی زیادہ دیئے،اس سے پہلے جب اپنی باری تھی تو اچھے بھلے کھیلنے والے بھی سست نظر آئے اور بلاوجہ وکٹیں گنواتے رہے۔یہی وہ مسئلہ اور بات ہے جس کی طرف وقار یونس نے توجہ دلائی ہے ، وہ درست کہتے ہیں کہ حوصلہ ہارے بغیر غلطیوں پر نظر دوڑا کر اگلے میچ میں کم بیک کرنا چاہئے ، کہ ابھی دو میچ باقی ہیں، سیریز جیتنے کے لئے یہ دونوں جیتنا ہوں گے کہ آسٹریلیا تین میں سے دو جیت چکا اور پاکستان نے صرف ایک جیتنا ہے، اب اگر اگلا میچ بھی آسٹریلیا ہی نے جیت لیا تو پھر سیریز کی دلچسپی ختم ہو جائے گی، اور اگر یہ میچ پاکستان نے جیت لیا تو پھر پانچواں میچ فائنل میچ کی حیثیت اختیار کر جائے گا اور بہت دلچسپ ہوگا، ہمت مرداں، مدد خدا، ٹیم کو مستقبل پر نظر رکھنا چاہئے۔

مزید : کالم