اپنی نبیڑ تو

اپنی نبیڑ تو
 اپنی نبیڑ تو

  

فارسی زبان میں مثل مشہور ہے۔۔۔ ’’تو درون خانہ چہ کردی کہ بیرون خانہ آئی‘‘۔۔۔ . اپنے گھر میں آپ نے کو نسا مثالی کام کیا ہے کہ دوسرے گھروں کو درست کرنے کا عزم لے کر باہر نکل کھڑے ہوئے ہو . پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں عوام اور کار باری طبقہ نے حکومتو ں کو قریب سے دیکھا اور بھگتا ہے . مرکز اور سندھ میں ایک پارٹی کی حکومت تھی . اندرون سندھ کی بات نہیں کرتے . کراچی صوبے کا دارالحکومت ہے . بیرون ملک سے آنے والی اہم شخصیات اور کاروباری افراد کے لیے کراچی پہلا گیٹ اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ملک کی شاہ رگ تھی .بدامنی بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ اور جبری مارکیٹیں بند کرانا آئے روز کا معمول تھا .اسی زمانے میں کراچی کے متعددکاروباری افراد نے کراچی چھوڑنے اور کسی دوسرے ملک میں اپنا کاروبار منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا .کسی پولیس اہلکار کلرک یا پٹواری کی بات نہیں . اقتدار کے ایوانوں میں رشوت وصول کرنے کے قصے کہانیاں زبان زد عام تھے .

اس وقت کے کئی بڑے افراد بیرو ن ملک جا چکے یا اندرون ملک جیل میں شب و روز گزار رہے ہیں . اس وقت کی .مرکز ی یا صوبائی حکومت نے کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کرایا کہ جو عوام کو ریلیف دے سکتا . اسی زمانے میں .بجلی کی قلت آخری حدوں کو چھونے لگی تو رینٹل پاور اسٹیشن منگوائے گئے جو سراسر کرپشن میں ڈوبے ہوئے تھے .ان سے پیدا کردہ مہنگی ترین بجلی خریدنا اور پیداواری عمل میں استعمال کرنا کسی صنعتکار کا خود کو ڈبونے کے مترادف تھا .اسی بیڈ گورنینس کی وجہ سے عوام اور کاروباری طبقہ نے 2013ء کے الیکشن میں اس پارٹی کو صرف اندرون سندھ تک محدود کر دیا . اس حکومت کو تین سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہے . کراچی کے گلی کوچے اور میدان کوڑے اور کچرے سے بھر چکے ہیں . خدا خدا کرکے کراچی میں پہلی بارش ہوئی تو دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ کراچی بارشی اور گٹروں کے گندے پانی میں ڈوب گیا . کوڑے اور کچرے سے نالے اور سیوریج بند ہو چکے ہیں .سارے پاکستان کا اقتدار لینے کی جد و جہد کرنے اور درست کرنے کا ٹھیکہ لینے کی بجائے اگر سندھ کی بر سر اقتدار پارٹی کے لوگ کراچی کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کر لیتے تو کراچی کے حالات درست ہو سکتے تھے . کراچی کی زبوں حالی کی نشاندہی اس لیے کرنا پڑی ہے کہ کراچی اور سندھ کے اقتدار پر براجمان پارٹی کے ذمہ داران آج کل پنجاب میں ریلیاں نکالنے کے در پئے ہیں .کتنا بہتر ہوتا کہ کراچی اور سندھ کے حکمران پہلے کراچی پر محنت کرتے اسے صاف ستھرا کرتے اسے مثالی شہر بنانے کے بعد پنجاب کے لوگوں کے سامنے صاف ستھرے کراچی کا نقشہ پیش کرتے . اب صورت حال یہ ہے کہ پنجاب تو کافی ٹھیک ہے .. اگر کہیں چھوٹی موٹی خرابی پیدا ہوتی ہے تو حکومتی ذمہ داران فوری طور پر اسے درست کرا دیتے ہیں . کراچی اور لاہور کا موازنہ کیا جائے تو فرق صاف ظاہر ہے .کراچی میں صفائی کا ناقص انتظام ہے . پورا شہر گندگی میں ڈوبا ہوا ہے .گندگی اٹھانے کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں ہے .

لاہور میں صفائی کا جدید ترین نظام کام کر رہا ہے .صبح سویرے کوڑا اٹھانے والی گاڑیاں گلی محلوں میں پہنچ جاتی ہیں . باوردی خاکروب صفائی میں مصروف ہوتے ہیں . مقررہ کوڑے دانوں میں سے گاڑیاں کوڑا پلٹ کر لے جاتی ہیں . اسی طرح بعد دوپہر دوبارہ گاڑیاں کوڑا لے جاتی ہیں 249 سیوریج سسٹم کافی حد تک ٹھیک کام کر تا ہے . شکایت پیدا ہو جائے تو واسا کا عملہ فوری طور پر پہنچ جاتا ہے . بہترین سڑکوں کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کا نظام رواں دواں رہتا ہے . میٹر و بس اور اس کے ٹریک نے شہر کی خوبصورتی اور روانی کو چار چاند لگا دیئے ہیں .اس لیے پنجاب میں ریلیاں نکالنے کے شوق میں گرفتار پارٹی ذمہ داران سے درخواست ہے کہ جائیں اور کراچی کو صاف ستھرا بنائیں . گندگی اٹھوائیں اور ٹریفک کو چلائیں . پنجاب کے حکمران کام پر موجود اور کام کر رہے ہیں . 2013 کے الیکشن میں ایک جماعت کو صوبہ خیبر پختونخوا میں اتنی سیٹیں ملیں کہ اس نے تین پارٹیوں کو ساتھ ملا کر وہاں حکومت بنالی جسے مرکز نے کبھی ڈسٹرب نہیں کیا .. پارٹی سربراہ کو وزیر اعظم بننے کا شوق ستاتا رہتا ہے .کبھی اسلام آباد میں دھرنا دیتے اور اسے گندا کرتے ہیں اور کبھی ملک کے دارالحکومت کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہیں . آئندہ الیکشن میں ایک سال سے زیادہ وقت موجود ہے .پنجاب کی سڑکوں پر جلسے جلوس اور دھرنے دیتے اور گرد اڑاتے رہتے ہیں . احتجاجی پروگرامو ں کے لیے حیلے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں .ان سے درخواست ہے کہ آپ نے دھرنوں کے ذریعہ کاروباری حالات کافی خراب کر لیے .پنجاب میں حکمران موجود اور جاگ رہے ہیں . بہتر یہ ہے کہ جائیں اور اپنے زیر حکومت صوبہ میں ڑیادہ سے زیادہ ترقیاتی کام کرائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ الیکشن میں صوبہ کے عوام کسی اور طرف منہ کر چکے ہوں ۔

مزید : کالم