دولت کی غیر منصفانہ تقسیم

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم
 دولت کی غیر منصفانہ تقسیم

  

16جنوری کو کئی خیراتی این جی اوز اور اداروں کی مشترکہ تنظیم ’’آکسفیم‘‘ کی ایک انتہائی اہم رپورٹ جاری کی گئی۔ اس رپورٹ کو سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر جاری کیا گیا۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کو عالمی میڈیا میں تو بھرپور کوریج ملی، مگر پاکستان میں ایک دو بڑے اخبارات اور ایک دونیوز چینلوں کے سوااس انتہائی اہم رپورٹ کو نظرانداز کیا گیا۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کے انکشافات دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ رپورٹ خاص طور پر ایسے ماہرین معیشت کے لئے بھی اہمیت کی حامل ہے جو دن رات مغرب، خاص طور پر امریکی سرمایہ داری نظام کا راگ الاپتے ہیں، پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ملکوں کے لئے اسی نظام کو ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس نظام کو اپنانے سے تیسری دنیا کے تمام معاشی مسائل حل ہوجائیں گے۔ امریکی سرمایہ داری نظام کی چمک دمک سے مرعوب افراد کے لئے آکسفیم کی اس رپورٹ کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے صرف آٹھ امیرترین انسان اتنی دولت رکھتے ہیں، جتنی اس دنیا کی نصف آبادی، یعنی 3.6بلین افرادکے پاس کل دولت ہے۔ ان آٹھ ارب پتی افراد میں سے چھ کا تعلق امریکہ سے ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں انتہائی امیر مگر تعداد میں کم اشرافیہ اور عام اکثر یتی آبادی کے مابین دولت کی تقسیم میں فرق بہت زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق 2015ء میں 62افراد ایسے تھے ، جن کے پاس دنیا کی نصف آبادی کے برابر دولت تھی، مگر اب صرف آٹھ انسانوں کے پاس ہی کل عالمی آبادی کے نصف کے برابر دولت ہے۔ آکسفیم کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک فیصد امیر طبقے کے پاس کل دنیا کی دولت کا 90فیصد ہے اور گزشتہ 25سال میں اس ایکفیصد امیر طبقے کی دولت اور سرمائے میں دنیا کی90فیصد سے زائد آبادی کی دولت کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔

سابق امریکی صدر ریگن اور سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے دور میں سرمایہ داری نظام کو ایک طر ح کا جواز بخشنے کے لئے۔۔۔Trickle-down effect۔۔۔کی اصطلاح سامنے لائی گئی تھی، جس کے مطابق اگر امیروں کی جیبیں اتنی زیادہ بھر دی جائیں تو دولت خود بخود ان بھری جیبوں سے نیچے کی جانب منتقل ہوجائے گی، یوں عام طبقات بھی امیروں کی دولت سے مستفید ہو پائیں گے، مگر آکسفیم کی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ 25سال کے دوران کسی بھی قسم کا ٹریکل ڈاؤن اثر دیکھنے میں نہیں آرہا۔ امیر اشرافیہ کی دولت میں مسلسل اضافے کے باوجودیہ دولت سماج میں نچلے طبقات تک نہیں پہنچ پارہی۔ امریکہ کے کاروباری میگزین ’’فاربس‘‘کے مطابق 1,810 ارب پتی افراد کے پاس 6.5 کھرب (ٹریلین)ڈالرموجود ہیں، جبکہ کل آبادی کے 70فیصد کے پاس ملاکر بھی اتنی دولت نہیں ہے۔اگلے 20سال کے عرصے میں500امیر افراد اپنے وارثوں کو 2.1کھرب ڈالر وراثت کے طور پر منتقل کر یں گے۔ یہ رقم ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت کے جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔آکسفیم کی اس رپورٹ میں معروف ماہر معیشت تھامس پیکیٹی کی اس تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ تیس سال سے امریکہ میں عام طبقات کی آمدنیوں میں معمولی سا اضافہ ہوا، مگر اسی عرصے کے دوران ایک فیصد امیر ترین امریکیوں کی آمدنیوں میں300فیصد تک اضافہ ہوا۔ آمدنی میں اس قدر تفاوت کی مثالیں صرف امریکہ میں ہی نہیں ملتیں، بلکہ غریب ممالک میں بھی یہی صورت حال ہے۔ جیسے ویت نام کا امیر ترین فرد فام ناٹ وانگ ایک دن میں اتنا زیادہ کماتا ہے، جتناویت نام کا غریب فرد 10سال میں بھی نہیں کماسکتا۔

آکسفیم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیسے انتہائی منظم نظام کے تحت یہ ساری دولت امیروں کو مزید امیر بناتی چلی جارہی ہے۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں ہونے والے بڑے بڑے منافعوں کو مالک اور چند اعلیٰ عہدوں پر فائز ٹاپ ایگزیکٹو ہی اڑا کرلے جاتے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹرز میں بڑی بڑی تنخواہ پر ایسے افراد کو تعینات کیا جاتا ہے ، جو ٹیکس چوری کرنے کے’’قانونی‘‘ طریقے تلاش کرکے بتاتے ہیں۔ جیسے’’ایپل‘‘ جیسی اتنی بڑی عالمی کمپنی اپنے یورپی منافعوں پر صرف 0.005فیصد ٹیکس ادا کرتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہرسال 100بلین ڈالرزکا خسارہ اس لئے ہو تا ہے، کیونکہ ان ممالک سے حاصل ہونے والے منافع میں سے ٹیکس ہی ادا نہیں کیا جاتا، جبکہ کارپوریٹ سیکٹرز اور بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے مزدورں کو جائز اجرتیں بھی نہیں دی جاتیں۔ اس رپورٹ میں انٹرنیشنل لیبرآرگنائیزیشن کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق دنیا میں لگ بھگ 21ملین افراد ایسے ہیں جن سے جبری مشقت لی جارہی ہے اور اسی جبری مشقت سے ہرسال 150 ارب ڈالر کا منا فع بھی بنایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں کارپوریٹ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی طاقت کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے، اگر صرف ٹیکس یا ریوینو کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس وقت دنیا کے69بڑے معاشی ادارے کارپوریشنز ہیں نہ کہ ممالک۔ اس کی انتہائی دلچسپ مثال یہ ہے کہ دنیا کی 10بڑی کمپنیاں جن میں ’’وال مارٹ‘‘ ’’شیل‘‘ اور ’’ایپل ‘‘ بھی شامل ہیں، ان سب کا ریونیو دنیا کے 180ممالک کی حکومتوں کے کل ریوینوسے بھی زائد ہے۔ ایسے اعداد وشمار سے واضح ہورہا ہے کہ سرمایہ داری نظام میں کا رپوریٹ سیکٹرز کا کردار اب کئی معاملات میں ریاستوں سے بھی زیادہ ہوچکا ہے، اس لئے کا رپوریٹ سیکٹر آج کی بڑی ریاستوں کی داخلہ اور خارجہ پالیسی پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہورہاہے۔ رپورٹ میں معروف ماہر معیشت گبرئیل زیک مین کی اس تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق لگ بھگ7.6ٹریلین ڈالرز کی دولت کو آف شور اکاونٹس یا ایسے ممالک میں خفیہ طور رکھا گیا ہے، جہاں ٹیکس کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جیسے اگر صرف براعظم افریقہ کے ممالک میں رکھی گئی ناجائز اور خفیہ دولت پر ٹیکس لیا جائے تو افریقہ کو اس سے ہرسال 14ارب ڈالر حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس رقم سے افریقہ کے چارملین بچے، جو بھوک کا شکار ہیں، ان کو آسانی سے خوراک مل سکتی ہے۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ موجودہ عالمی سرمایہ داری نظام سراسر حرص، لالچ اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی نظام ہے۔اس نظام کے غیر منصفانہ کردار کے باعث جہاں ایک طرف مشرقی ممالک سیاسی عدم استحکام اور سما جی بے چینی کا شکارہورہے ہیں تو دوسری طرف آج امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے مسخرے اور یورپ میں دائیں بازو کی انتہا پسند قوم پرست جماعتیں عام لوگوں کے مسائل پر جذباتیت کو بھڑکا کر مقبول ہورہی ہیں، حالانکہ عوام کے مسائل کا حل انتہا پسندی پر مبنی قوم پرستی میں نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نظام کو سمجھا جائے جس کے اندر رہتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہی نہیں۔

مزید : کالم