آئی جی او سی سی پی او آفس کی مبینہ سرد جنگ سے فرنٹ ڈیسک سسٹم تباہی کے قریب

آئی جی او سی سی پی او آفس کی مبینہ سرد جنگ سے فرنٹ ڈیسک سسٹم تباہی کے قریب

لا ہور (بلال چوہدری) صوبائی دارالحکومت کے تھانوں میں ایڈمن افسران کی طرح فرنٹ ڈیسک سسٹم کے تباہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا،ماضی کی طرح"انا " کی خاطرچلنے والی آئی جی او رسی سی پی او آفس کے مابین سرد جنگ نے فرنٹ ڈیسک سسٹم کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ایس ایچ اوز اور محررز نے ایڈمن افسران کی طرح فرنٹ ڈیسک کے اہلکاروں کو بھی تسلیم نہیں کیا اور اعلیٰ پولیس افسران کے مبینہ ایماء پر لاہور میں اس سسٹم کو ناکام کرنے کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس نے تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے چند سال قبل شہر کے تمام تھانوں میں ایڈمن افسروں کا سسٹم شروع کیا اورپی سی ایس امتحانات پاس کرکے آنیوالے کم از کم بی اے پاس 160 اے ایس آئیزکی سپیشل تربیت کے بعد بطور ایڈمن افسر تقرر کیا تھاجس کے اچھے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تو اس کا سارا کریڈٹ سی سی پی او کے سر جاتا تھااور ایڈمن افسران کی مدد سے شہریوں کے مسائل کا حل جلد اور آسان ہونا شروع ہو گیا تھا جس کے بعد آئی جی آفس اور سی سی پی اوآفس میں مبینہ طور پراختلافات پیدا ہو گئے اورآئی جی پنجاب نے تھانوں میں فرنٹ ڈیسک سسٹم شروع کرنے کے احکامات جاری کئے اور راتوں رات تھانوں میں فر نٹ ڈیسک کا قیام عمل میں لانا شروع کردیا گیا جن میں سینئر سٹیشن اسسٹنٹ (ایس ایس اے) اور پولیس سٹیشن اسسٹنٹ (پی اے اے) تعینات کردئیے گئے جبکہ سنٹرل پولیس آفس میں ان تمام فرنٹ ڈیسکوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ۔ فرنٹ ڈیسک کے قیام سے ایڈمن افسر عملاً فارغ ہوگئے ۔اور بعد ازاں ان کو ختم کر دیا گیاجبکہ سی سی پی او لاہور نے ایڈمن افسروں کو بددلی سے بچانے اور سسٹم کی افادیت کو قائم رکھنے کیلئے انہیں مصالحتی اور تفتیشی اختیارت سونپ دئیے لیکن عملاً ایڈمن افسران کا مقصد ختم ہو گیااور ان کی جگہ فرنٹ ڈیسک نے لے لی۔لاہور کے بیشتر تھانوں میں فرنٹ ڈیسک قائم کر دیئے گئے ہیں ۔جن میں تعلیم یافتہ نوجوان کام کر رہے ہیں لیکن اب یہ سسٹم لاہور میں تباہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق فرنٹ ڈیسک کا سسٹم پولیس میں موجود گروپ بندی کی نظر ہوتا جا رہا ہے ۔لاہور کے بیشتر تھانوں میں فرنٹ ڈیسک سے بالاتر ہی اہم معاملات کو حل کرنے اور قانونی کارروائی کئے بغیر تھانوں سے باہر ہی معاملات حل کروانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ایس ایچ اوز اور محررز نے ایڈمن افسران کی طرح فرنٹ ڈیسک کے اہلکاروں کو بھی تسلیم نہیں کیا اور اعلیٰ پولیس افسران کے مبینہ ایماء پر لاہور میں اس سسٹم کو ناکام کرنے کے لئے کام شروع کر دیا گیا ہے۔روزنامہ پاکستان کی تحقیقات کے مطابق ایڈمن افسران کا تجربہ فرنٹ ڈیسک سے بہتر تھا اور ان سے لوگوں کو تھانوں میں ریلیف بھی مل رہا تھا۔تاہم فرنٹ ڈیسک کے تجربے کو شروع میں ہی اس لئے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑ ا کہ کئی ماہ تک فرنٹ ڈیسک پر تعینات اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں دی گئی تھیں جس سے زیادہ تر ملازمین میں بد دلی پھیل گئی ۔اب فرنٹ ڈیسک کے ملازمین تھانوں میں آنے والوں کو اگر چہ ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور جن سائلین کو درخواستیں لکھنی نہیں آتیں انہیں درخواستیں بھی خود ہی لکھ کر نہ صرف فراہم کر رہے ہیں بلکہ اس درخواست کو بیٹ افسر کو خود ہی مارک کر دیتے ہیں ۔یہ بات مقامی ایس ایچ او کو سخت ناگوار گزرتی ہے اس لئے ایس ایچ او حضرات کی پوری کوشش ہے کہ وہ انہیں کامیاب نہ ہونے دیں۔

مزید : علاقائی