منشیات کا مسئلہ صرف قائد اعظم یونیورسٹی تک محدود نہیں، ڈاکٹر جاوید اشرف

منشیات کا مسئلہ صرف قائد اعظم یونیورسٹی تک محدود نہیں، ڈاکٹر جاوید اشرف

اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف نے کہا ہے کہ منشیات کا مسئلہ صرف قائد اعظم یونیورسٹی تک محدود نہیں ہے،چار دیواری نہ ہونے کی وجہ سے ہم منفی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو روکنے میں سو فیصد کامیاب نہیں ہوسکتے،200سیکیورٹی گارڈ ہیں جو تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں ، اس لیے پورے کیمپس کی مکمل طور پر حفاظت ممکن ہی نہیں ہے ،یونیورسٹی کے ترجمان میرے علم میں لائے بغیر بیان جاری کیا ،تاہم مجھے یونیورسٹی ترجمان ڈاکٹرالہان نیاز پر مکمل اعتماد ہے،یونیورسٹی کے طلبہ میں تصادم کی وجہ سے حالات ہاتھ سے نکلنے کا خدشہ تھا جس کی وجہ یونیورسٹی کو بند کیا گیا، یونیورسٹی میں ہر ترقی و تقرری رولز کے مطابق ہوئی ہے،مخالفت کرنے والے ہمیشہ الزامات لگاتے ہیں،قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کا مسئلہ صرف قائد اعظم یونیورسٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے اور بہت سی یونیورسٹیوں میں ہے۔ یونیورسٹی میں منشیات کو روکنے کیلئے بھر پور کوششیں کررہے ہیں۔ہماری یونیورسٹی خصوصی مسائل ہیں چاردیواری نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم منفی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو روکنے میں سو فیصد کامیاب نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے ریجنل آفیسر ڈاکٹر وسیم پر مجھے مکمل اعتماد ہے ہمارے پاس 200سیکیورٹی گارڈ ہیں جو 70۔70کی تعداد میں تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ اس لیے پورے کیمپس کی مکمل طور پر حفاظت ممکن ہی نہیں ہے۔ ہم ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مشکور ہیں کہ جنہوں نے ہمیں چاردیواری کی تعمیر کیلئے پانچ کروڑ پچاس لاکھ روپے کا فنڈ دیا ہے۔ دیوار کا 1/3حصہ بن چکا ہے اس رقم سے 35ہزار فٹ دیوار بنے گی جبکہ 50فیصد دیوار کی تعمیر بچ جائے گی۔ باقی دیوار کو تعمیر کرنے کیلئے صدر پاکستان نے فنڈدینے کا کہا ہے چاردیواری کی مکمل تعمیر سے ہم منفی سرگرمیوں کو روکنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

ڈاکٹر جاوید اشرف

مزید : صفحہ آخر