اینٹی نارکوٹکس کورٹ میں جج تعینات نہ ہونے پر ملزمان بلبلااٹھے

اینٹی نارکوٹکس کورٹ میں جج تعینات نہ ہونے پر ملزمان بلبلااٹھے

لاہور(نامہ نگار)سپیشل جج اینٹی نارکوٹکس کورٹ میں 75روز سے جج مقرر نہ ہونے سے جیل سے لائے گئے ملزمان بلبلااٹھے جبکہ ملزمان نے عدالت میں پیش ہونے سے بھی انکار کردیاہے،ملزمان کا کہنا ہے کہ انہیں جرم سے زیادہ سزا دی جا رہی ہے،ہر بارتاریخ پر تاریخ ملنے پراب تو ورثا نے بھی عدالت میں آکران سے ملناچھوڑ دیا ہے۔سپیشل جج اینٹی نارکوٹکس کی عدالت میں منشیات کے سمگلروں کے کیس زیرسماعت ہیں ،اس عدالت کا شمار منشیات کے کیس کرنے والی بڑی عدالت میں ہوتا ہے جہاں پر اڑھائی ماہ سے اب تک جج مقرر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے عدالت میں مقدمات التوا میں پڑے ہیں۔ عدالت میں زیرسماعت مقدمات میں ملزمان کو جیل سے لا کر اگلی تاریخیں دے دی جاتی ہے۔ جوڈیشل کمپلیکس میں ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے لئے بخشی خانے لایا گیا لیکن ملزمان نے عدالت میں جانے سے انکار کردیا ،اس موقع پرملزمان کا کہنا تھا کہ انہیں جرم سے زیادہ سزا دی جا رہی ہے ،ملزمان کا مزیدکہنا ہے ان کے ورثا پشاور سے اس آس پر آتے ہیں کہ فیصلہ ہو جائے گا لیکن جب ان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس بار بھی تاریخ پڑ رہی ہے تو ان کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اب تو ورثا نے عدالت میں آکران سے ملنے آنا ہی چھوڑ دیاہے۔ قانونی ماہرین پاکستان بار کونسل کے کوارڈینیٹر مدثرچودھری ،مرزاحسیب اسامہ، مجتبی چودھری اورمشفق احمد خان کا کہنا ہے کہ یہ اہم عدالت ہے یہاں پر جج مقرر ہونا چاہیے تاکہ مقدمات التوا میں نہ جائیں ایک سال میں 3جج تبدیل ہو چکے ہیں اب مستقل جج مقرر کرنا چاہیے۔

مزید : صفحہ آخر