بحیرہ عرب میں چینی آبدوزوں کی جاسوسی کیلئے بھارت اور امریکہ کی مشترکہ سرگرمیوں کا انکشاف

بحیرہ عرب میں چینی آبدوزوں کی جاسوسی کیلئے بھارت اور امریکہ کی مشترکہ ...

نئی دہلی(اے این این ) بھارتی اخبار’’ بزنس سٹینڈرڈ ‘‘نے انکشاف کیا ہے کہ بحیرہ عرب میں چینی آبدوزوں کی جاسوسی کیلئے بھارت اور امریکا ایک ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ اخبارکی رپورٹ کے مطابق امریکی پیسیفک کمان کے سربراہ ایڈمرل ہیرس نے پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بھارتی اور امریکی نیوی افواج ساتھ مل کر بحیرہ ہند میں چینی بحریہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آبدوزوں کا سراغ لگانے میں بھارتی صلاحیت کو بہتر بنانے کیلئے واشنگٹن کی جانب سے بوئنگ پی 81نامی ملٹی مشن میری ٹائم ایئرکرافٹ کی فروخت کو کلیئر کیا گیا۔ یاد رہے کہ بوئنگ پی 81آبدوز تلاش کرنے والا دنیا کا سب سے بہترین ایئرکرافٹ ہے۔ بھارتی اخبار کے مطابق ایڈمرل کی جانب سے اعتراف کیا گیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر اس کی سراغ رسانی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا میں یہ نہیں کہنا چاہتا تھا کہ بہت زیادہ لیکن بحر ہند میں چینی میری ٹائم کی نقل و حرکت کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کیا جارہا ہے ساتھ ہی انہوں نے بحر ہند میں چینی آبدوز کی موجودگی کو ایک واضح مسئلہ قرار دیا۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ آبدوز کے خلاف کارروائیاں مالابار میں ہونے والی مشقوں کا حصہ ہیں جس میں ہر سال امریکا، بھارت اور جاپان حصہ لیتے ہیں۔ نئی دہلی میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈمرل ہیرس کا کہنا تھا کہ ان مشقوں کی مدد سے آبدوزوں، کشتیوں اور ان جیسی دیگر چیزوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ امریکی پیسیفک کمانڈ(یو ایس پی اے سی او ایم)کے سربراہ کے مطابق اس وقت کوئی چیز چین کو اپنا کیرئیر طیارہ بحر ہند میں داخل کرنے سے نہیں روک سکتی۔ اخبار کے مطابق چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور جارحیت امریکا اور بھارتی نیوی کو ساتھ کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اخبار کا مزید کہنا تھا کہ ہوائی میں اپنے ہیڈ کوارٹرز سے کام کرنے والے امریکی ملٹری فور اسٹار ایڈمرل چین کے واحد ایئرکرافٹ کیریئر لیاننگ کو صلاحیتوں کے لحاظ سے امریکی کیریئر سے کم قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے خیال سے بھارتی نیوی چین کے کیرئیر ڈیک سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

مزید : صفحہ آخر