وہاڑی پولیس میں نصف ارب سے زائد کی کرپشن تحقیقات مکمل‘ گرفتاریاں شروع

وہاڑی پولیس میں نصف ارب سے زائد کی کرپشن تحقیقات مکمل‘ گرفتاریاں شروع

ملتان ، وہاڑی (نمائندہ خصوصی+ بیورو رپورٹ ) نیب ملتان بیورو نے ضلع وہاڑی پولیس میں نصف ارب سے زائد کی کرپشن کی تحقیقات مکمل کر لیں اور اب اس کیمپس میں ملزمان کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے گذشتہ روز ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس وہاڑی کے ڈپٹی اکاؤنٹنٹ پولیس کے افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے 55 کروڑ روپے کے بوگل بل کلیئر کیے بتایا جاتا ہے آئی جی پنجاب کو نیب ملتان بیورو کو بھجوائے گئے مراسلہ میں انکشاف کیا گیا کہ 2008ء سے 2012ء تک ڈی ایس پیز ، جونیئر آفیسر اور آفیشلز نے اختیارات کا(بقیہ نمبر62صفحہ12پر )

ناجائز استعمال کرتے ہوئے تنخواہوں کے بقایاجات ، آئل خریداری بجلی کے بلز، ٹیلی فون بلز، کرایہ دار، متفرق اشیا کی خریداری سمیت ٹرانسفر کی آڑ میں 45کروڑ روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں کیں ضلع وہاڑی پولیس ضلع وہاڑی پولیس کے افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے یہ سلسلہ 4 سال تک جاری کر دی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں بھی اس فراڈ کی نشاندہی کی گئی جس پر ڈائریکٹر جنرل نیب ملتان فاروق امجد اعوان کے حکم پر انکوائری شروع کی گئی جس میں انکشاف ہوا کہ بے قاعدگیوں کا یہ سلسلہ صرف 2008ء سے 2012ء تک محدود نہیں بلکہ 2013ء میں فنڈز میں خورد برد کا یہ سلسلہ جاری رہا اس انکوائری کے نتیجے میں کرپشن کی رقم 45 کروڑ روپے سے بڑھ کر 55 کروڑ تک پہنچ گئی میگا کرپشن کیوجہ سے انکوائری کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا انوسٹی گیشن میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ آئی جی پنجاب کا آفس ضلع وہاڑی کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو منہ مانگے فنڈز تو فراہم کرتا رہا لیکن چیک اینڈ بیلنس رکھنے میں ناکام رہا اور بوگس ادائیگیوں کے لیے جاری کردہ رقم کی تصدیق کرنا بھی گوارا نہیں کی انکوائری رپورٹ کیمطابق وہاڑی پولیس نے کسی آفیسر ٹھکیدار ڈی ڈی او کے نام بلز کلیئر کیے انوسٹی گیشن رپورٹ کی روشنی میں ابتدائی طور پر ڈپٹی اکاؤنٹنٹ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس وہاڑی شاہد علی کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ اس سکینڈل میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر