باچاخان یونیورسٹی کی شہدا ئ کی پہلی برسی ، حکومتی ارکان کی عدم شرکت، لواحقین سراپا احتجاج

باچاخان یونیورسٹی کی شہدا ئ کی پہلی برسی ، حکومتی ارکان کی عدم شرکت، لواحقین ...

 چارسدہ ( بیورو رپورٹ) شہدائے باچا خان یونیورسٹی کی پہلی برسی پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بے حسی ۔وزیر اعظم ،آرمی چیف ، وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا سمیت کسی اہم شخصیت نے تقریب میں شرکت نہ کی ۔ ایک ہفتہ قبل ریٹائرڈ ہونے والے وائس چانسلر نے بھی تقریب میں شرکت کو ضروری نہ سمجھا۔ طلباء اور شہداء کے لواحقین سراپا احتجاج بن گئے ۔ شوکت یوسف زئی کے تقریر کے دوران ہلڑ بازی ۔ شہداء کے لواحقین نے سابق وائس چانسلر کو 22شہداء کا قاتل قرار دے کر گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کا ایک سال مکمل ہو گیا ۔ حملے میں طلباء اور تدریسی عملہ سمیت 22افراد شہید جبکہ 41زحمی ہو ئے تھے ۔ شہداء کی پہلی برسی کے حوالے سے باچا خان یونیورسٹی میں ایک تقریب منعقد ہوئی ۔ تقریب میں شہداء کے لواحقین ، طلباء اور تدریسی عملہ نے بھر پور شرکت کی ۔ شہداء کے بلند درجات کیلئے ختم القرآن پاک کا اہتمام کیا گیا جس کے بعد شہداء کے یاد گار پر پھول چڑھائے گئے ۔ سانحہ باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کے حوالے سے تقریب میں شرکت کیلئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ ، گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا ، وزیر اعلی پرو یز خٹک اور دیگر اہم شخصیات کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر کسی اہم شخصیت نے تقریب میں شرکت نہیں کی جس سے طلباء اور شہداء کے لواحقین میں ا شتغال پھیل گیا اور طلباء کی ایک تنظیم نے نوید گگیانی کی قیادت میں تقریب سے بائیکاٹ کرکے حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی ۔ تقریب کیلئے صبح دس بجے کا وقت دیا گیا تھا اور منتظمین نو بجے سے وی وی آئی پیز کا انتظار کرتے رہے مگر گیارہ بجے تک کوئی وی وی آئی پی نہ آیا تو مجبوراً تحریک انصاف کے ایم پی اے شوکت یوسفزئی کو تقریب کی صدارت سونپ دی گئی ۔ تلاوت کلام پاک کے بعد جو ں ہی تقریب شروع ہوئی تو طلباء تنظیم نے احتجاج شروع کیا ۔ احتجاجی طلبا کا موقف تھا کہ سانحہ کے بعد حکومت نے شہداء باچا خان یونیورسٹی کے لواحقین ،زحمیوں اور تدریسی عملے کیلئے سانحہ اے پی ایس کے برابر مراغات دینے کا اعلان کیا تھامگر ایک سال گزرنے کے باوجود اس پرعمل درآمد نہ ہو سکاجبکہ برسی کی تقریب میں دعوت کے باوجود وزیر اعظم سمیت دیگر اعلیٰ شحصیات نے شرکت سے گریز کرکے ہمارے شہداء کی توہین کی ہے جس کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا ۔ برسی کی تقریب میں ضلع چارسدہ سے منتخب دو ایم این ایز آفتاب احمد شیرپاؤ ، مولانا سید گوہر شاہ اور پانچ ایم پی ایز فضل شکور خان ، سلطان خان ، ارشد عمرزئی ، خالد خان مہمند اور سکندر شیرپاؤنے بھی شرکت سے گریز کیا۔ تحریک انصاف کے واحد ایم پی اے عارف احمد زئی، ضلعی ناظم اعلی فہد ریاض ، ڈی آئی جی اعجاز خان ، ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد ، یونیورسٹی کے تدریسی اور طلباء و طالبات نے شرکت کی ۔ تقریب کے حوالے سے دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک ہفتہ قبل یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مروت اور ڈپٹی کمشنر چارسدہ طاہر ظفر عباسی نے بھی برسی کی تقریب میں شرکت کو ضروری نہ سمجھا ۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے شہداء کے لواحقین نے ریٹائرڈ وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مر وت کو یونیورسٹی کے 22شہداء کا قاتل قرار دیا اور ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جبکہ وفاقی حکومت ، اسفندیارولی خان ، مولانا فضل الرحمن ، عمران خان اوروزیر اعلی پر ویز خٹک کی عدم شرکت پربھی شدید تنقید کی گئی ۔ایم پی اے شوکت یوسفزئی کے تقریر کے دوران تقریب شدید بد مزگی کا شکار ہو گیا اور طلباء نے ان کے خلاف بھی نعرہ بازی کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے شوکت یوسفزئی ، ڈی آئی جی اعجاز خان اور دیگر نے باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقید ت پیش کیا ۔شوکت یوسفزئی نے باچا خان یونیورسٹی کے نئے بلڈنگ کی چار دیواری کی تعمیر کیلئے 14کروڑ روپے فنڈ اور زخمی طالب سمیع اللہ کے علاج معالجے کا اعلان کیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول