باچا خان یونیورسٹی کے شہداکی پہلی برسی کی جھلکیاں

باچا خان یونیورسٹی کے شہداکی پہلی برسی کی جھلکیاں

چارسدہ (بیورو رپورٹ) شہدائے باچا خان یونیورسٹی کے شہداء طلباء کے پہلی برسی کی جھلکیاں ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یونیورسٹی سے ملحقہ شاہرات کو نو گو ایریا قرار دیکر علاقہ مکین کو گھروں تک محصور کئے رکھا ۔ تمام شاہرات پرپولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی سے کر فیو کا سماء تھا ۔ تمام شاہرات پر ہو کا عالم تھا ۔یونیورسٹی انتظامیہ اور منتظمین برسی میں وی وی آئی پی شخصیات کے شرکت کے حوالے سے صبح ہی سے مایوسی کا شکار تھے ۔ شہدا کے ایصال ثواب کیلئے تقریب سے قبل قران خوانی کی گئی ۔ یونیورسٹی انظامیہ کے تیاریوں ، انتظامات اور سیکیورٹی کے فل پروف انتظامات کے باجود متوقع مہمانان خصوصی کی عدم شرکت سے انتظامیہ کے خواہشات اور توقعات پر اوس پڑ گئی۔ .برسی تقریب کے شرکاء کو مشغول رکھنے کیلئے ڈی جے کے ذریعے مختلف دھنوں سے ترانے اور نغمیں پیش کرنے کی مشق جاری رہی ۔ خال ہی میں سبکدوش ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مروت بھی تقریب سے رو پوش رہے ۔ مشتعل شرکاء مظاہرین نے وائس چانسلر فضل رحیم مر وت کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے قاتل قاتل پکارتے رہے ۔ 10بجے شروع ہونے والی تقریب کو 11بجے تک مہمانان خصوصی وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، چیف آ ف آرمی سٹاف ، گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پر ویز خٹک اور دیگر وی وی آئی پیز کے تشریف نہ لانے سے مقررہ وقت کے بعد مجبوراً معاون وزیر اعلی شوکت یوسفزئی کے صدارت میں شروع کی گئی۔تقریب میں یونیورسٹی کے طلباء و عملہ اور شہداء کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ سیکورٹی کیلئے 259پولیس اہلکار اور 135سیکورٹی گارڈ ز تعینات کئے گئے تھے ۔ بم ڈسپوزل سکوآڈ اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے سیکیورٹی کلےئرنس کی گئی ۔ پنڈال میں داخل ہونے والے تمام شرکاء کی جامہ تلاشی لی گئی ۔ تقریب شروع ہو تے ہی شہداء کے لواحقین اور طلباء کے احتجاج سے بد نظمی اور بد مزگی کا شکار رہی ۔تقریب کے دوران نظم و ضبط کی عدم فقدان سے مقررین اظہار خیال کرنے اور شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے سے عاجز رہے ۔ تقریب کے عروج پر پہنچنے سے قبل پنڈا ل کے باہر طلباء نے احتجاج شروع کرکے نعرہ بازی کر تے رہے جس سے انتظامیہ میں تشویش پھیلنے لگی ۔ انتظامیہ مہمانوں کی بجائے احتجاجی طلباء کو سنھبا لتے رہے ۔ کرک سے تعلق رکھنے والے شہید الیاس کے والد کی ولولہ انگیز اور جذباتی تقریر سے شرکاء آبدیدہ ہو کر ماحول میں گرمی اور تناؤ پید ا ہو گیا جس سے طلباء اور شہداء کے لواحقین مشتغل ہو گئے ۔شہداء کے لواحقین اور طلباء کے اشتعال ، نعرہ بازی اور ہلڑ بازی سے برسی تقریب ہنگامہ آرائی اور تناؤ کے ماحول میں انتظامیہ کو مجبوراً تقریب کا ختم کرنا پڑا ۔ ہلڑبازی کی وجہ سے تمام مہمانان خصوصی تقریب کو چھوڑ کر چلے گئے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر