”آشنا جنسی تعلقات کے بعد دھوکہ دیں تو پڑھی لکھی لڑکیوں کو ہر گز رونا نہیں چاہئیے“، بھارتی ہائیکورٹ کا حکم

”آشنا جنسی تعلقات کے بعد دھوکہ دیں تو پڑھی لکھی لڑکیوں کو ہر گز رونا نہیں ...
”آشنا جنسی تعلقات کے بعد دھوکہ دیں تو پڑھی لکھی لڑکیوں کو ہر گز رونا نہیں چاہئیے“، بھارتی ہائیکورٹ کا حکم

  

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) بھارتی عدالت نے تاریخ کا انوکھا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آشناجنسی تعلقات کے بعد دھوکہ دے دیں تو پڑھی لکھی لڑکیوں کو ہر گز رونا نہیں چاہئیے۔

دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ممبئی ہائیکورٹ نے ایک لڑکی کی طرف سے دائر کیس میں 21سالہ نوجوان کی ضمانت قبل ازگرفتاری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ریپ کیس میں شادی کے وعدے کو لالچ تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ لڑکی نے اپنے کیس میں موقف اپنا تھا کہ اس کے سابقہ دوست نے تعلق ختم ہونے کے بعد اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔

بھارت نے عدنا ن صدیقی اور سجل علی کو ویزے جاری کر دیے

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ” شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنے والی پڑھی لکھی لڑکی کو اپنے فیصلے کی ذمہ داری لینی چاہئیے کیونکہ اس قسم کی کیسز میں شادی کے وعدے کو لالچ تصور نہیں کیا جا سکتا“ ۔

جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر چہ معاشرہ تبدیل ہو رہا ہے اور اخلاقیات کا اپنا مقام ہے مگر پھر بھی ایک اخلاقی ممانعت ہے کہ یہ عورت کی ذمہ داری ہے وہ شادی کے وقت پر کنواری ہو۔معاشرہ آزاد ہونے کی کوشش کر رہا ہے مگر اخلاقیات کا بھی پابند ہے جبکہ شادی سے قبل جنسی تعلقات کا معاملہ قابل مذمت ہے اور ان حالات میں ایک عورت جو کسی لڑکے سے محبت کرتی ہو بھول جاتی ہے کہ جنسی تعلقات اس کی اپنی مرضی ہے مگر پھر اپنے فیصلے کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیتی ہے۔

پاراچنار: عید گاہ مارکیٹ کے قریب دھماکہ

عدالت نے تعلقات کے خاتمے کے بعد جنسی زیادتی کے حوالے سے فوجداری مقدمات میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لڑکی کی مشکلات کیساتھ ساتھ ملزم کی زندگی اور آزادی کو بھی توازن میں لانا ہے۔

مزید : بین الاقوامی