آپ آج تک چھپ چھپ کر انٹرنیٹ پر کیا کچھ دیکھتے آئے؟ اب کوئی بھی دیکھ سکتاہے، بہت سے دوستوں کیلئے سب سے پریشان کن خبر آگئی

آپ آج تک چھپ چھپ کر انٹرنیٹ پر کیا کچھ دیکھتے آئے؟ اب کوئی بھی دیکھ سکتاہے، ...
آپ آج تک چھپ چھپ کر انٹرنیٹ پر کیا کچھ دیکھتے آئے؟ اب کوئی بھی دیکھ سکتاہے، بہت سے دوستوں کیلئے سب سے پریشان کن خبر آگئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ پر پرائیویسی کی بات پہلے ہی بعیداز قیاس خیال کی جاتی ہے لیکن اب ماہرین نے سوشل میڈیا پر صارفین کی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی ویب ہسٹری تک پہنچنے کے ایسے راستے کا انکشاف کر دیا ہے کہ آن لائن پرائیویسی پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس نئی تحقیق میں ماہرین نے ثابت کر دیا ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر جیسی سوشل ویب سائٹس پر صارفین کی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی انٹرنیٹ ہسٹری تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر اور کیا کچھ دیکھتے رہتے ہیں۔

وہ ایک قسم کی فحش فلمیں جنہیں انٹرنیٹ پر ڈھونڈنے والے افراد کی تعداد میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کئی گنا اضافہ ہو گیا کیونکہ۔۔۔

سٹینفرڈ اور پرنسٹن یونیورسٹیوں کے ماہرین کی یہ تحقیقاتی رپورٹ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں ہونے والی ”2017ءورلڈ وائیڈ ویب کانفرنس“ میں پیش کی گئی ہے۔اگرچہ ویب براﺅزرز کے پرائیویسی موڈ کے ذریعے براﺅزنگ ہسٹری اور ویب کیش ’ڈس ایبل‘ کیے جا سکتے ہیں جس سے صارفین گمنام رہ کر براﺅزنگ کر سکتے ہیں اور ان کی ہسٹری محفوظ نہیں ہوتی۔ تاہم ویب سرور سے آئی پی ایڈریس کو ایسوسی ایٹ کرکے ڈس ایبل کی گئی براﺅزنگ ہسٹری بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔ اس نئی تحقیق میں ماہرین نے اس ہسٹری تک پہنچنے کا اس سے بھی آسان طریقہ بتادیا ہے۔

پرنسٹن یونیورسٹی میں کمپیوٹرسائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر اروند نارائن کا کہنا ہے کہ ”فیس بک اور گوگل جیسی کمپنیاں اپنے صارفین کی ہسٹری کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔ یہ کمپنیاں تیسرے فریقین(تھرڈ پارٹیز)کے ساتھ یہ ہسٹری شیئر بھی کرتی ہیں۔ ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ اس براﺅزنگ ہسٹری تک رسائی رکھنے والی کمپنیاں صارفین کی سوشل میڈیا اکاﺅنٹس پر دی گئی تفصیلات کے ذریعے ان کی شناخت کر سکتی ہیں اورصارفین کی ہسٹری کو ان کی شناخت کے ذریعے الگ الگ کر کے دیکھ سکتی ہیں۔ہماری ٹیم نے الوگردم کے ایک قانون کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین کی سرگرمیوں کو براﺅزنگ ہسٹری سے لنک کرکے کامیابی سے ان کی ہسٹری تک رسائی حاصل کی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس