وکلاءہڑتال کلچر کو ختم کر کے عدالتوں کو فنکشنل بنائیں ،پائلٹ کریمینل جسٹس پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا خطاب

وکلاءہڑتال کلچر کو ختم کر کے عدالتوں کو فنکشنل بنائیں ،پائلٹ کریمینل جسٹس ...
وکلاءہڑتال کلچر کو ختم کر کے عدالتوں کو فنکشنل بنائیں ،پائلٹ کریمینل جسٹس پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا خطاب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ میں شامل چار اضلاع پورے پنجاب کے لئے مثالی بن سکتے ہیں، انہوںنے کہا کہ یکدم پورے پنجاب کی بجائے صرف 4اضلاع میںپائلٹ پراجیکٹ پر کام شروع کیا گیا، ان اضلاع میں منشیات اور قتل کے مقدمات باقی مقدمات کی نسبت زیادہ ہیں۔

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میںپائلٹ کریمینل جسٹس پراجیکٹ سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ پائلٹ پراجیکٹ میں شامل اضلاع میں ایک جج کے حصہ میں50مقدمات آئیں گے ، انہوںنے کہا کہ سول اور فوجداری عدالتوں کو علیحدہ علیحدہ کرکے قابل عمل کاز لسٹ جاری کرنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس عدالت عالیہ کے ممبر انسپکشن ٹیم کو موصول ہوں گی جو روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر ہوں گی، اس کے لئے ایک سافٹ ویئر ڈائزائن کیا جا رہا ہے اور اسی کے مطابق رپورٹس آن لائن ممبر انسپکشن ٹیم کو موصول ہوں گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاءکی دستیابی کے مطابق ہائی کورٹ میں چاروں اضلاع کے مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی بنچز تشکیل دیئے جائیں گے، ان کا کہنا تھاکہ کیس مینجمنٹ پلان سے استفادہ کئے بغیر پراجیکٹ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاءکے لئے بھی اس نظام میں آسانی ہوگی، بارز کی خواہش بھی ہے کہ پرانا کلچر تبدیل کر کے ان چار اضلاع کو مثالی بنایا جائے، وکلاءہڑتال کلچر کو ختم کر کے عدالتوں کو فنکشنل بنائیں ، اگر کبھی احتجاج ناگزیر ہوتو عدالتی اوقات کار کے بعد کیا جا سکتا ہے، چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ معیاری انصاف کی بروقت فراہمی بار اور بنچ کا مشترکہ مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ لاہور کی جانب سے انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے کہ 72 سول ججزکی پوسٹوں کو اپ گریڈ کر کے سینئر سول ججزبنایا گیا ہے، تین سینئر سول ججز کو ہر ضلاع میں پوسٹ کیا جائے گا، ایک سینئر سول جج جوڈیشل ورک کرے گا، ایک ایڈمن جج ہوگا جبکہ تیسرا سینئر سول جج بطور گارڈین جج کام کرے گا۔ انتظامی سینئر سول جج کوفوکل پرسن نامزد کیا جائے گا جو پولیس اور دیگر اسٹیک ہولڈرزکے نامزد کردہ فوکل پرسنز کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔ چیف جسٹس نے کہا ہم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوںنے پائلٹ کریمینل جسٹس پراجیکٹ جیسے اہم قدم میں ہماری رہنمائی فرمائی ۔

مزید : لاہور