عرب نوجوان کو فیس بک پر لڑکی کی فرینڈ ریکوسٹ،قبول کی تو پھر ایسا کام ہو گیا کہ زندگی کی سب سے بڑی غلطی بن گئی،جان کر آپ کبھی بھول کر بھی یہ شرمناک کام نہ کریں گے

عرب نوجوان کو فیس بک پر لڑکی کی فرینڈ ریکوسٹ،قبول کی تو پھر ایسا کام ہو گیا کہ ...
عرب نوجوان کو فیس بک پر لڑکی کی فرینڈ ریکوسٹ،قبول کی تو پھر ایسا کام ہو گیا کہ زندگی کی سب سے بڑی غلطی بن گئی،جان کر آپ کبھی بھول کر بھی یہ شرمناک کام نہ کریں گے

  

مسقط (مانیٹرنگ ڈیسک)مشرقی ممالک کے روایت پسند معاشروں میں کبھی نوجوان لڑکیوں کی اجنبیوں سے شناسائی ناقابل تصور سمجھی جاتی تھی مگر سوشل میڈیا کے طوفان نے یہ سب روایات ملیا میٹ کر دی ہیں۔ اب یہ بات عام ہوچکی ہے کہ کسی اجنبی کی جانب سے ایک فرینڈ ریکویسٹ آتی ہے اور ایک نئے تعلق کا آغازہوجاتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ تعلقات اکثر بھیانک خواب ثابت ہوتے ہیں۔ عمان سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ لڑکی سلمیٰ کی کہانی بھی ایک ایسی ہی دردناک مثال ہے، جسے سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کے لئے عبرت کی مثال بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔

ویب سائٹ گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق سلمیٰ نے بھی کمال نادانی کا ثبوت دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک اجنبی نوجوان سے مراسم استوار کئے جو کچھ ہی عرصے میں ایک بے تکلف تعلق میں بدل گئے۔ سلمیٰ کا کہنا ہے کہ ایک روز اس کے سوشل میڈیا فرینڈ نے اصرار کیا کہ وہ اپنے رقص کی ویڈیو اسے بھجوائے۔ نتائج سے بے خبر سلمیٰ نے اس پر اعتبار کرتے ہوئے رقص کی ویڈیو بنا کر اسے بھیج ڈالی۔

طائف یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی ، لڑائی ، طالبات کو بے دخل کردیاگیا

کچھ عرصے بعد جب بالآخر ان کا تعلق ختم ہوگیا، جیسا کہ سوشل میڈیا تعلقات میں عموماً ہوتا ہے، اور تب اسے پتہ چلا کہ اپنی ویڈیو ایک اجنبی شخص کو بھیج کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ سلمیٰ نے بتایا کہ اس کے سوشل میڈیا فرینڈ کو تعلق ختم ہونے کا سخت رنج تھا جس کا بدلہ لینے کے لئے اس نے ویڈیو واٹس ایپ پر پوسٹ کردی۔ انتہائی ذاتی نوعیت کی یہ ویڈیو واٹس ایپ پر آتے ہی سلمیٰ کی زندگی جہنم بن گئی۔ اسے اپنے جاننے والوں اور عزیزوں میں بے پناہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور زمانے کی نظروں میں بدنام ہوجانے کے بعد اسے زندہ رہنا بھی مشکل نظر آنے لگا۔ سلمیٰ کا کہنا ہے کہ اس کی ذہنی حالت ایسی ابتر ہوئی کہ وہ اکثر خودکشی کے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔

خوش قسمتی سے انہی دنوں عمانی حکومت نے ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا جس میں سائبر جرائم کا شکار ہونے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے جرائم کی پولیس کو رپورٹ کریں۔ اس مہم کے دوران حکومت کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی کہ شکایت کرنے والے کا نام خفیہ رکھا جائے گا اور مجرموں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔ سلمیٰ نے بھی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رائل عمانی پولیس کو شکایت کی۔ ان کی شکایت پر عملدرآمد کرتے ہوئے پولیس نے جلد ہی ان کی ویڈیو واٹس ایپ پر پوسٹ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔ اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور بالآخر اسے جیل بھیج دیا گیا۔

سلمیٰ کا کہنا ہے کہ پولیس کو شکایت کرنے کا انہیں اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ ویڈیو پوسٹ کرنے والے شخص کی جانب سے ان کی بلیک میلنگ کا سلسلہ بند ہوگیا، البتہ ان کی جو رسوائی اور بدنامی پہلے ہی ہوچکی تھی اس کا کوئی مداوا نہیں ہوسکتا تھا۔ انہیںا ب بھی شدید ذہنی دباﺅ اور نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے اور وہ ایک ماہر نفسیات کی مدد سے پھر سے زندگی کی جانب مائل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید : عرب دنیا