پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر دوبارہ کیوں جانا چاہتے ہیں؟

پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر دوبارہ کیوں جانا چاہتے ہیں؟
 پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر دوبارہ کیوں جانا چاہتے ہیں؟

  

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی آڑ میں حکومت گراؤ ایجنڈے پر اکٹھے ہونے والے سیاست دانوں نے کئی روز کی افراتفری، پریس کانفرنسوں بیانات اور تیاری کے بعد مال روڈ پر کنٹینر دھرنے کا اعلان کیا۔

کاروباری تنظیموں نے فوری طور پر پریس کانفرنسوں اور اخبارات میں بیانات کے ذریعے سیاست دانوں کو توجہ دلائی کہ مال روڈبذات خود بہت بڑا کاروباری مرکز ہے، جہاں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے، اس کے علاوہ مال روڈ وی آئی پی گزرگاہ ہے۔

لاہور کی تمام بڑی مارکیٹوں کا مال روڈ کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اس لئے اپنا شو کسی دوسری کھلی جگہ کر لیا جائے۔ عوام سے تعلق ہونے کے ناطے سیاست دانوں کو کاروباری طبقے اور عوام کی آواز پر توجہ دینی چاہئے تھی۔

بدقسمتی ہے کہ سیاست دانوں نے کاروباری برادری کی آواز کو اس طرح لیا جیسے انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

اس کا نتیجہ دنیا نے دیکھ لیا کہ عوام اور کاروباری طبقے نے سیاست دانوں کے گھمنڈ کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ ساری پبلسٹی اور شور شرابا کسی کام نہیں آیا۔

چھوٹی بڑی دسیوں جماعتوں کے لیڈروں سے سٹیج بھر گئی، لیکن حاضرین کے لئے لگائی اور بچھائی گئی کرسیاں خالی پڑی رہ گئیں۔ حاضری کی کمی کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے اور اپنا محاسبہ کرنے کی بجائے میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کو گالیاں دے کر اپنے اپنے دل کو بہلایا گیا۔

اپنی مقبولیت کے زعم میں مبتلا دو سیاست د ان اس قدربے قابو ہوئے کہ پارلیمنٹ پر ہزار بار لعنت بھیجنے کی گردان کرتے رہے۔ زبان دراز شیخ رشید نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ پارلیمنٹ پر ہزار لعنت بھیجتے ہوئے اس نے ایک کاغذ ہوا میں لہرا یا اور پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

جلسے میں موجود لوگوں کو اکساتے رہے کہ اٹھو اور مسلح ہوکر جاتی عمرہ میں شریف فیملی کے گھروں پر حملہ کر دو۔ مجمع میں موجود ہر شخص اور ٹیلیویژن کے ذریعے کروڑوں عوام نے سن اور دیکھ لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ حاضرین میں موجود کسی شخص نے شیخ رشید کی قانون ہاتھ میں لینے کی بیہودہ باتوں کا نوٹس تک نہیں لیا۔ بعد ازاں عمران خان نے بھی پارلیمنٹ کے بارے میں شیخ رشید کی لغو باتوں کی بھرپور تائید کی۔

پہلے بھی اسلام آباد دھرنے کے موقع پر عمران خاں اور ان کے ساتھیوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو اپنے استعفے بھجوا دیئے تھے۔ جب انہیں احساس ہوا کہ قومی اسمبلی کی ممبر شپ نہ رہی تو ٹکے ٹوکری ہو جائیں گے۔بھاری بھرکم اعزازیوں اور دیگر مراعات سے محروم ہو جائیں گے۔

بعض وچولوں کے ذریعے نہ صرف استعفے واپس لئے، بلکہ عمران خاں سمیت سب نے اس عرصے کے اعزازیے اور مراعات اسمبلی سیکریٹریٹ سے وصول کرنے میں دیر نہیں لگائی۔

اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کے بعد ملک میں جس قدر ضمنی الیکشن ہوئے ان میں عمران خان کی جماعت نے دھوم دھام سے حصہ لیا۔ دل کھول کر میاں محمدنواز شریف کو گالیاں دیتے رہے، یہ الگ بات ہے کہ ایک آدھ کے سواتمام ضمنی الیکشنوں میں اس جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس جماعت کے نااہل ہونے والے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی خالی ہونے والی سیٹ پر اگلے ماہ الیکشن ہونے والے ہیں۔ جس پارلیمنٹ پر جماعت کے سربراہ صاحب اور ان کے دست راست شیخ رشید ہزار بار لعنت بھیج چکے ہیں، اس کا ممبر بننے کے لئے جہانگیر ترین کے صاحب زادے کو کس لئے کھڑا کریں گے۔

اس پر بھی لعنتوں کی بارش کریں گے۔ عمران خاں یا اس جماعت کے دوسرے لیڈر عوام سے ووٹ لینے کی درخواست کیوں کریں اور عوام انہیں ووٹ کیوں دیں گے۔ اس لئے کہ پارٹی لیڈر بار بار پارلیمنٹ پر لعنت بھیج سکیں۔

جس پارلیمنٹ پر پارٹی لیڈر لعنت بھیج رہے ہیں، انہیں تو اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہئے۔حکومت گراؤ شو کا سربراہ سب لیڈروں نے علامہ طاہر القادری کو بنایا ہے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ علامہ طاہرالقادری کینیڈا کے پاسپورٹ ہولڈر اور زیادہ وقت وہاں گزارتے ہیں۔

انہیں پاکستان کی معیشت کے تباہ ہونے سے کوئی سرو کار نہیں ہوتا۔ جب بھی آتے ہیں کسی ایشو کی آڑ میں رونق میلہ لگاتے اور واپس کینیڈا روانہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بھان متی کے کنبے نے تاجروں اور عوام کی آواز پر کوئی توجہ نہیں دی۔

تماشا لگانے کے لئے مال روڈ کا انتخاب کیا کہ رش کا علاقہ ہے۔ آن واحد میں بہت سے لوگ اکٹھے ہو جائیں گے اور پھر بھاری بھرکم لیڈروں کا نام سن کر لاہور اور گردو نواح سے لاکھوں افراد امڈ آئیں گے۔

اس شو کی وجہ سے لا محالہ لاہور کی کاروباری سرگرمیوں میں تعطل پیدا ہونا تھا، اس لئے بزنس کمیونٹی کے رہنماوں نے توجہ دلائی تھی کہ مال روڈ کو بندنہ کیا جائے۔ ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچے گا۔

سیاسی لیڈروں نے ہٹ دھرمی دکھائی،مگر لاہور کے لوگوں نے اس شو سے لاتعلقی کا عملی اعلان کر دیا۔ دونوں لیڈروں نے پارلیمنٹ پر ہزار بار لعنت بھیج دی ہے، بلکہ عمران خاں نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ لعنت چھوٹا لفظ ہے۔ میں تو پارلیمنٹ کے لئے اس سے بڑا لفظ استعمال کرنا چاہتا تھا۔

اچھا ہوا قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر دونوں لیڈروں کے لئے مذمتی قرار داد منظور کر دی۔ اس قومی اسمبلی کے ماتھے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے ۔ بیس کروڑ عوام کی تمناؤں اور آرزوں کا نمائندہ ادارہ ہے۔ پاکستان کی پہچان ہے۔ آن، بان اور شان ہے۔

اس پر لعنت اگر کوئی عام آدمی بھیجے تو پارلیمنٹ نا معلوم کس قدر سزا تجویز کرے گی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کیا سوچے گی۔ ملک کی سرحدوں اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھیں گے؟ اسی پارلیمنٹ کے دو ممبران اپنی پارلیمنٹ پر ایک لعنت نہیں، ہزار لعنت بھیج چکے ہیں۔

بار بار لعنت بھیجنے پر تکرار کرتے ہیں۔ ان کے لئے مذمتی قرارداد بالکل ناکافی ہے۔ ضروری ہے کہ ان دونوں کے لئے پارلیمنٹ کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر دیئے جائیں۔ اگر ممکن ہو تو اسمبلی کے تمام ممبران مشترکہ طور پر عدالت میں جائیں اور پاکستان کی عزت بحال کرائیں۔

ملک و قوم کے موقر محافظ ادارے کی طر ف سے موقف ضرور سامنے آنا چاہئے ۔ دنیا پاکستان، اس کے لیڈروں اور عوام کے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی۔ اظہار کی آزادی کے نام پر جو افراد ٹی وی یا اخبارات میں پارلیمنٹ پر لعنت کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہیں فوری طور پر تائب ہونا چاہئے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو پارلیمنٹ کو فوری طور پر قانون سازی کے ذریعے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کا دروازہ بند کر دینا چاہئے۔اگر اس موقع پر مصلحت سے کام لیا گیا تو آنے والے وقت میں پاکستان اس نظریے اور اس کے اداروں کو اس سے بڑی گالیاں پڑیں گی ۔

مزید :

رائے -کالم -