متحدہ اپوزیشن کا جلسہ ناکام کیوں ہوا؟

متحدہ اپوزیشن کا جلسہ ناکام کیوں ہوا؟
 متحدہ اپوزیشن کا جلسہ ناکام کیوں ہوا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سترہ جنوری کا دن متحدہ اپوزیشن کی چھ جماعتوں کے لئے اس لئے بھی مایوس کن تھا، کہ اس روز چھ جماعتیں مل کر بھی چند ہزار کرسیاں نہیں بھر سکیں۔ سیاسی جماعتوں کی زندگیوں میں ایسے لمحات آتے رہتے ہیں، جب ان کے ورکرز کم تعداد میں جلسوں میں شریک ہوتے ہیں، لیکن اس جلسے میں کوئی ایک سیاسی جماعت نہ تھی، بلکہ وہ چھ جماعتیں تھیں، جو ملک میں تبدیلی لانے کے دعوے کرتی ہیں۔

ان میں تحریک انصاف بھی تھی، جو خیبرپختونخوا کو اس کے حال پر چھوڑ کر گزشتہ چار برس سے دھرنوں اور جلسوں کی سیاست کر رہی ہے، جلسے میں پیپلزپارٹی بھی تھی، جس کی اس وقت بھی سندھ میں حکومت ہے اور جو چار مرتبہ مرکز میں حکومت بنا چکی ہے، اس میں مسلم لیگ(ق) بھی شامل تھی جو سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی بنائی گئی ڈمی پارٹی تھی، اس میں کراچی کی پی ایس پی پارٹی بھی تھی جو مصطفی کمال نے بڑے جوش و خروش سے شروع کی تھی، اس میں اکلوتے رکن شیخ رشید کی پارٹی عوامی مسلم لیگ بھی تھی، لیکن یہ سارے لوگ دو دو ہزار حاضرین بھی نہ لا سکے۔ اتنے لوگ تو شہر میں کوئی میلہ لگے تو کسی چھوٹے سے علاقے سے نکل کر جمع ہو جاتے ہیں، لیکن اپوزیشن کے اس ناکام شو کو دیکھنے کے لئے لوگوں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔


اس جلسے کی ناکامی کی کئی وجوہات ہیں۔

سب سے اہم یہ کہ یہ جلسہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد میں اور حکومت پر دباؤ ڈالنے اور استعفے لینے کے لئے منعقد کیا گیا تھا، لیکن جلسے میں تمام پارٹیوں کے صدور اپنی اپنی پارٹی کی تعریفیں کر کے چلے گئے اوریوں اس پلیٹ فارم کو اپنی کمپنی کی مشہور کے لئے استعمال کیا، اگر یہ سارے لیڈر اتنے ہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لئے دکھی تھے تو یہ بتائیں کہ گزشتہ چار برس میں جب سے یہ سانحہ ہوا ہے، ان میں سے کتنے لیڈر سانحے میں مرنے والوں کے گھر گئے ہیں۔

کتنوں کو ان کے نام آتے ہیں۔کتنے لوگوں نے ان کی امداد کرنے کی کوشش کی۔ چار سال بعد جب الیکشن قریب آچکے ہیں، آخر تب ہی کیوں ان سب کو اس احتجاج میں شریک ہونا یاد آیا۔ کیوں یہ لوگ پہلے سڑکوں پر اس طرح نہیں نکلے، ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کہ آج کی اپوزیشن سیاسی جماعتوں سے آپ اقتدار کی ہوس میں کچھ بھی کرنے کی توقع کرسکتے ہیں۔

سانحے میں جو لوگ جان سے گئے، ان کے جذبات سے کھیلنے کا حق انہیں کس نے دیا۔ پوری قوم نے دیکھا کہ ذاتی مقاصد کے لئے اس جلسے کو استعمال کرنے کی وجہ سے ہی یہ جلسہ ناکام ہوا۔


دوسری اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے نام تو متحدہ اپوزیشن رکھا، لیکن تمام لیڈر پورے جلسے کے دوران کہیں بھی متحد نظر نہیں آئے۔ متحدہ کا لفظ صرف بینروں پر استعمال کیا گیا، اگر ایسا ہوتا تو سارے لیڈر جلسے کے شروع سے لے کر آخر تک اکٹھے بیٹھتے، ایک دوسرے کی تقریریں سنتے اور آخر میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اتحاد کی زنجیر بناتے، چونکہ یہ سارے ایک دوسرے کو ایک عرصے سے برا بھلا کہتے آ رہے ہیں اس لئے ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کی ان میں ہمت نہ تھی۔

عمران خان اور آصف زرداری ایک دوسرے کے خلاف کیا کیا الفاظ استعمال نہیں کرتے رہے۔ کیسے کیسے الزامات ہیں جو دونوں نے ایک دوسرے پر نہیں لگائے، لیکن دونوں سیاسی مفادات کے لئے اس جلسے میں شریک ہونے کو تیار ہو گئے۔

دونوں کی یہ کوشش تھی کہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹاکرا نہ ہونے پائے، اگر اسے اتحاد کہتے ہیں اور اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے ایسا اتحاد کیا جائے گا تو اس کا خاک نتیجہ خاک برآمد ہوگا۔

وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے درست کہا ہے کہ اس جلسے سے مسلم لیگ (ن) کو مزید تقویت پہنچی،کیونکہ عوام نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کھینچا تانی اور دوریاں دیکھیں تو انہوں نے انہیں رد کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ آئندہ الیکشن میں نظر بھی آ جائے گا۔

جلسے کے آغاز کا اعلان دوپہر دو بجے کیا گیا۔ سارے بینرز پر یہ لکھا گیا کہ دو بجے جلسہ شروع ہو گا، لیکن دنیا نے دیکھا اور سارے ٹی وی چینلزنے دکھایا کہ کس طرح مغرب کے بعد تقریریں شروع ہوئیں، کیونکہ اس وقت تک عوام کی اتنی تعداد بھی نہیں آئی تھی کہ جنہیں میڈیا کے کیمرے کے ذریعے اگر دنیا کو دکھایا جاتا تو ان اپوزیشن جماعتوں کی تھوڑی سی بھی ساکھ رہ جاتی۔

چھ بجے سے رات ساڑھے نو بجے تک بھی کرسیوں کی حالت ویسی ہی تھی۔ کرسیاں انتظار کرتی رہیں کہ لوگ آئیں اور یہ جلسہ کامیاب ہو۔ لوگ کہاں سے آتے۔ لوگ تو ان دھرنوں اور احتجاجوں سے تنگ آ چکے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ یہ دھرنے اور یہ جلسے ملک کی معیشت کا پہیہ روکنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔

انہیں علم ہے کہ ان دھرنوں سے سارا فائدہ یہ نام نہاداپوزیشن لیڈر اٹھاتے ہیں اور عوام کے حصے میں صرف خواری آتی ہے۔عوام اچھی طرح جان گئے ہیں کہ کون انہیں بے وقوف بنا رہا ہے اور کون ان کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے، چنانچہ یہاں یہ بھی ثابت ہوا کہ عوام نے ایسے سیاستدانوں کے بہکاوے میں آنے سے صاف انکار کر دیا ہے جو عوام کو اپنا ایک مہرہ سمجھ کر استعمال کرتے آ رہے ہیں اور انہیں محض لاروں اور نعروں کے ذریعے ٹرخاتے آ رہے ہیں، اگر یہ کچھ کر سکتے تو یہ سب اپنے اپنے صوبے میں کام کر رہے ہوتے۔

جہاں ان کی حکومت ہے۔ کام کرنے والا شخص تو کبھی فالتو وقت ضائع نہیں کرتا۔ وہ کبھی فارغ نہیں بیٹھتا۔ یہ جلسے کرنا اور ان پر کروڑوں خرچ کرنا تو ان جاگیرداروں اور وڈیروں کا کام ہے، جن سے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی جیسی جماعتیں بھری پڑی ہیں۔

کام کرنا ہوتا تو تحریک انصاف یہ سوچتی کہ الیکشن میں کم وقت رہ گیا ہے، ہم کیا منہ لے کر عوام کے سامنے جائیں گے۔ چنانچہ ا س جلسے کی ناکامی سے یہ بھی ثابت ہواکہ ان سیاستدانوں کے پاس کرنے کو کوئی اور کام نہیں ہے۔

انہیں عوام کا مفاد بھی عزیز نہیں اگر عزیز ہوتا تو وہ کبھی عوام کا دیا گیا مینڈیٹ ایسے جلسوں میں ضائع نہ کرتے۔ وہ ترقیاتی منصوبے بناتے، اپنے شہروں قصبوں اور دیہات کی حالت سنوارتے تاکہ لوگ انہیں دوبارہ منتخب کرنے کے بارے میں سوچتے، لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کی ٹوکریاں خالی ہیں۔ اپنے صوبوں کے عوام کو دینے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں، اسی لئے تو یہ آئے روز سڑکوں پر مارے مارے پھرتے ہیں اور جلسے کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ پارلیمنٹ کی بے توقیری اور اس کو برے القاب سے پکارنا تھا۔

ویسے بھی اب تو لعنت جیسے الفاظ استعمال کرنے کی وجہ سے لوگوں نے تحریک انصاف جیسی جماعتوں کو اپنے دل سے نکال دیا ہے اور اس کا اندازہ انہیں آئندہ انتخابات میں ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -