A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 34

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 34

Jan 21, 2018 | 14:37:PM

قاضی عبدالستار

شیخ نے نیچے اتر کر مہمیز پہنے، نمدے کی دیوار کے قریب رکھی ہوئی اخروٹ کی تپائی پر سلگتے عود کی انگیٹھی میں اپنے ہاتھ ملے اور داڑھی پر پھیر کر گرجا ۔

’’ترکمان سردار کے لئے نارگیلی لاؤ ، نقل کی کشتیاں اور نبیذ کے پیالے پیش کرو کہ شام کی رات کو یہی زیور دولہن بنا دیتے ہیں۔ اور آلِ تغلب ۔۔۔اپنے پری نژاد گھوڑوں پر سوار ہو جاؤں کہ ہمارے تخت رواں ہیں۔۔۔فولاد کی بیٹیاں نیاموں کے حجلوں سے نکال کر پہلو سے لگا لو کہ یہی شجاعوں کی معشوقائیں ہیں اور ہمارے جلو میں چلو کہ ہم ہی دنیا کے فاتح ہیں۔

ترکمان سردار ہمیں رخصت کر کہ بخت فتح کے گھوڑے کی رکاب تھامے کھڑا ہے۔ آلِ تغلب کی تاریخ زریں کی قسم ہماری خواہش تھی کہ میزبانی کے آداب بجا لائیں لیکن ایک مہتاب ہماری کمند کا انتظار کر رہا ہے اور اس کی گرفتاری ہم کو غازی سلطان اعظم کی نگاہ میں وہ مرتبہ عطا کرے گی جس پر کیفا اور ماردین کے بادشاہ مدتوں رشک کیا کریں گے۔‘‘

’’کیا ہم شیخ کے ہمرکاب ہونے کا شرف حاصل کر سکتے ہیں؟‘‘

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 33 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’نہیں معزز سردار۔۔۔یہ آئین میزبانی کے خلاف ہے ۔ ‘‘

شیخ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خیمے سے نکل گیا اور طغرل نے اس کے کان میں کہا۔

’’شیخ کسی بڑی مہم پر جا رہا ہے کیوں نہ اس کا پیچھا کیا جائے۔‘‘

’’ضرور۔‘‘

چشم زدن میں وہ گھوڑے حاضر کئے گئے جن کی صبار فتاری عرب میں ضرب المثل تھی ۔ گلابی چاندنی رات میں شیخ کے گھوڑے دھبوں کی طرح نظر آرہے تھے۔ ارسوف کے جنوب مغرب کے ہموار راستوں پر ان کے گھوڑوں کی ٹاپیں قریب ہو گئیں ۔ پھر تلواریں کھنکنے لگیں اور رجزیر سنے لگے۔ طغرل نے آدابِ سلطانی کو نظر انداز کیا اور کوڑا چمکا کر شیخ کے ساتھیوں کو جالیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک کمسن نصرانی سردار کے ساکت کھڑے ہوئے گھوڑے کے چاروں طرف آہن پوش عیسائیوں کی خاصی معقول تعداد پر وانہ وار اڑ رہی ہے اور شیخ کے مٹھی بھر ساتھیوں پر غالب آتی جا رہی ہے ۔ طغرل نے گھوڑاریل کر نعرہ لگایا۔

’’بد نصیب نصرانیو! ہتھیار ڈال دو کہ بادشاہوں کا بادشاہ تمہارے سامنے کھڑا ہے۔‘‘

اس آواز نے گویا نصرانیوں کے بازو اتار لیے اور شیخ کے ساتھیوں میں آگ لگا دی اور ایک ایک کر کے سبھوں نے ہتھیار پھینک دیئے ۔ شیخ کے ہمرا ہی انہیں کمندوں میں باندھنے لگے اور وہ نوجوان عیسائی سردار گھوڑے پر بیٹھا اسے گھورتا رہا جس کی شخصیت عامیوں کے لبا س میں بھی سطوتِ شاہی سے آراستہ تھی۔ اس نے قیدی طغرل کے حوالے کئے اور قیام گاہ کی طرف گاگیں اٹھا دیں۔(جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 35 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں