شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 7

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 7

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جب چاروں طرف کی آبادیوں کے لوگ پالی پور،ہینڈی،سری گڑھ،اسیرتال،موگ ،مگر وغیرہ بڑی آبادیوں میں جا بسے اور شیر کو انسانی خوراک ملنا مشکل نظر آیاتو اس کی نظر پڑی۔ایک رات ان گھروں کے رہنے والے تمام رات بیدار رہ کر موت کا انتظار کرتے رہے ،کیونکہ شیر رات بھر خندق کے گردچکر لگاتا رہاتھا۔لیکن یا تو اس نے خندق میں اتر کر تیر نا اور کانٹوں میں الجھناگوارا نہ کیا ان لوگوں کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اندر نہیں آیا۔صبح ہوتے ہوئے شیر چلا گیا۔دن چڑھتے ہی گاؤں والے نکلے تو خندق کے چاروں طرف شیر کے پیروں کے نشان دیکھ کر ان کے حواس جاتے رہے۔اس کے بعد دس بارہ راتیں امن سے گزریں۔گاؤں والوں کو اطمینان ہو گیاکہ شیر باڑپھلانگ کر اندر آنے کی ہمت نہیں کرے گا۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 6 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
ایک رات گاؤں کا مرلی نامی ایک شخص اٹھ کر باہر جانے لگا تو اس کی بیوی نے پوچھا’’کہاں چلے‘‘
مرلی نے جواب دیاکہ شام کو ایک بھینس نے کانٹے ہٹا دیے تھے۔وہ برابر کرنا بھول گیاہے۔ان کو برابر کرنا اس لئے ضروری تھاکہ ذرا سی غفلت سے ساری آبادی کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔بیوی نے اپنے شوہر کا تنہا جانا گوارا نہ کیا اور ایک کلھاڑی لے کر خود بھی اس کے ساتھ باہر نکلی۔
چاندنی رات ہونے کی وجہ سے بیس پچیس گز کی چیز صاف نظر آتی تھی۔وہ دونوں کوئی پچاس ساٹھ گز چل کر اس جگہ آگئے،جہاں بھینس نے کانٹے سرکا دیے تھے۔مرلی باڑ کے قریب گیا ہی تھا کہ کانٹوں کی آڑمیں سے شیر اچھلااور ایک دم اسے دبوچ لیا۔پھر مرلی اس ظالم سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے لگا۔جوان اور تندرست آدمی۔ذرا ہاتھ پیر مارے توشانے میں کھبے ہوئے شیر کے دانت چھوٹ گئے اور وہ دو قدم پرے زمین پر گرا۔شیر نے نہ صرف اس کا شانہ ہی پکڑا تھا بلکہ جگہ پنجوں سے گہرے زخم لگائے تھے۔مرلی گرا تو شیر نے پھر جھپٹا لیکن بیوی اپنے شوہر کو بے بسی کی موت مرتے کیسے دیکھ سکتی تھی۔اس نے کلھاڑی گھماکر شیر کے رسید کر دی۔شیر اس آفت نا گہانی سے غافل تھا۔دھار دار کلہاڑی اس کے شانے پر پڑی اور گوشت کو کاٹ کر ہڈی تک گھس گئی۔ضرب کی تکلیف سے شیر گرجا اور تڑپ کر زمین پر گر گیا۔لیکن قبل اس کے کہ مرلی کی بیوی دوسراوار کرتی ،شیر دوڑ کر خندق میں کودا اور پانی میں تیرتا ہوا دوسری طرف نکل گیا۔دور تک اس کے چیخنے اور شدت کرب سے کر اہنے کی آواز آتی رہی۔غالبا کلہاڑی کا زخم کافی گہرالگا ہو گا۔
مرلی اور اس کی بیوی کی چیخیں سن کر گاؤں کے لوگ باہر نکل آئے۔اور مرلی کو اٹھا کر اندر لے گئے۔نزدیک ترین ہسپتال گڑھی میں تھااور گڑھی وہاں سے اٹھائیس میل دور تھی۔دوسرے روز گاؤں کے چارپانچ آدمی کو کھٹولے میں ڈال کر بخیریت گڑھی پہنچ گئے۔مرلی کے زخم بڑے گہرے اور مہلک تھے۔جب اس کے زخموں میں خرابی پیدا ہونے لگی تو اسے بھوپال کے بڑے ہسپتال میں داخل کرادیاگیا۔جہاں بڑی کوشش اور نگہداشت کے بعد اس کی جان بچائی جا سکی۔تاہم آٹھ ماہ تک اس کو ہسپتال میں رہنا پڑا اور دایاں ہاتھ ہمیشہ کے لیے بے کار ہو گیا۔
جب میں مرلی سے ملا تو اسے بھوپال کے ہسپتال میں آئے۔تین ماہ ہو چکے تھے۔زخم بالکل تو ٹھیک نہیں ہوئے تھے،لیکن اب کوئی خطرہ نہیں تھا۔اس کی بہادری اور وفا داربیوی اس کے پاس تھی۔غیر معمولی شجاعت کے صلے میں حکومت بھو پال نے اس کا دس روپے ماہوار وظیفہ مقرر کردیا تھا۔
مرلی نے مجھے تمام افسانے سنائے جو ارد گرد کے علاقوں میں رحمتو کے متعلق مشہور تھے۔اس کے بیا نات مفصل اور تسلی بخش تھے۔مجھے بہت سی ایسی ضروری باتیں معلوم ہوئیں جو کوئی اور نہ بتا سکتا تھا۔مرلی کو ابتدا سے اب تک رحمتو کی ساڑھے تین سالہ مجرمانہ زندگی کا ایک ایک واقعہ اور اس کی ساری تفصیل بخوبی یاد تھی۔وہ سب اس نے مجھے سنائی۔ان شکاریوں کی کوشش اور تدابیر کو بھی تذکرہ کیا جواب تک اس کی ہلاکت میں ناکام ہو چکے تھے اور آخر میں کہنے لگا۔
’’صاحب!وہ شیر نہیں بھوت ہے۔آپ نو عمر اور ماں باپ کے لاڈلے ہیں۔میں تو کہوں گاکہ آپ اسکو مارنے کاارادہ نہ کیجئے یہ کسی کے ہاتھ نہیں آئے گا۔‘‘
اور میں نے جواب دیا’’ اگریہ شیر اور چند دن زندہ رہا تو نہ جانے کتنے گھر ویران اور کتنی گوریں خالی کردے گا۔اس کو ہلاک کرنامیرا فرض ہے۔دوسرے ہی روزہلاک کرنا میرا فرض ہے۔‘‘
دوسرے ہی روز میں اپنے پھوپھی زاد بھایؤں محمود اور مسعود ایک اورملازم کو جیپ میں بٹھا کر گڑھی کی طرف چل دیا۔ ہم نے اپنے ساتھ کھانے پینے کا کافی سامان رکھ لیا تھا۔ ہم لوگ رائے سین میں دوپہر کو ٹھہرگئے اور عصر کی نماز وہیں پڑھی۔ رائے سین کے ایک معزز رئیس عبدالکریم خان روانگی سے ذرا دیر قبل مجھ سے ملنے آئے اور جب میں نے اُن کو بتایا کہ پالی پور کے آدم خور سے مقابلہ ہے تو وہ چند لمحے خاموشی سے کچھ سوچتے رہے۔ پھر نہایت مشفقانہ انداز سے رائے دی کہ میں گڑھی میں چیتل، سانبریا وہ ایک شیر مار کر واپس چلا جاؤں ۔ پالی پور کے آدم خور کی چالاکیاں ناقابل یقین حد تک تعجب خیز ہے۔ مَیں نے جواب دیا کہ وہ ارادہ ہی کیا جسے توڑ دیا جائے۔ غرضیکہ خان صاحب نے ہمیں بہت سی دعاؤں اور اچھی خواہشات کے ساتھ فی امان اللہ کہا اور اور ہم لوگ وہاں سے آگے چل پڑے۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 8 پرھنے کیلئے یہاں کلک کریں