پانی کی سطح کم ہوتی جا رہی ہے!

پانی کی سطح کم ہوتی جا رہی ہے!

پنجاب کے میدانی علاقوں میں میٹھے پانی کی گہرائی بڑھتی جا رہی ہے اور جلد ہی اس صورتِ حال پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں بہت مشکلات پیش آئیں گی۔پنجاب اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کی طرف سے اِس صورتِ حال پر زور دیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں پانی کی سطح290 فٹ تک گِر چکی ہے۔ صوبائی وزیر نے جواب میں بتایا اور کہا کہ لاہور میں گہرائی135 فٹ ہے اور صوبے کے دوسرے مقامات پر یہ مختلف ہے۔جہاں تک پینے کے قابل میٹھے پانی کا تعلق ہے تو اس کے زیادہ استعمال اور کم ہوتی سطح کے بارے میں مختلف رپورٹس میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ایک رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ لاہور میں پانی کی سطح ہر سال3.5فٹ تک کم ہو جاتی ہے،اس کے لئے ابھی سے سوچنا اور انتظام کرنا ہو گا،پنجاب اسمبلی میں حزبِ اقتدار کے درمیان نوک جھونک بھی اِسی حوالے سے ہوئی، حزبِ اختلاف کے رکن شیخ علاؤالدین نے تو یہ بھی کہا کہ اگر ہماری حکومت نے کچھ نہیں کیا تو موجودہ حکومت ہی کر لے۔قابلِ استعمال اور پینے کے قابل پانی کے حوالے سے عدالتِ عظمیٰ میں بھی رپورٹیں پیش ہوتی اور بات ہوتی رہی ہے۔پانی کی سطح ہی کم نہیں ہو رہی، بلکہ پانی کے آلودہ ہونے کی بھی شکایات ہیں، حتیٰ کہ جو فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے ان کے آلات اور فلٹر خراب ہو چکے،دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے حاصل کیا جانے والا پانی بھی صحت مند نہیں رہا۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ پانی کا استعمال بڑھتا اور اس کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں،جس کی وجہ نہ صرف بارشوں کی کمی،بلکہ زیر کاشت رقبہ بھی کم ہونا ہے کہ جو بھی بارش ہو اس کا پانی جذب نہیں ہوتا۔متعلقہ محکموں کی بھی غفلت ہے،جس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے،حکومت کی طرف سے نہ صرف پانی بچاؤ مہم شروع کی جائے،بلکہ شفاف پانی کے لئے آلات تبدیل کرنے کا مسلسل عمل بھی ہونا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ