ہالینڈ کا سائیکل سوار وزیر

ہالینڈ کا سائیکل سوار وزیر
ہالینڈ کا سائیکل سوار وزیر

  

ایمسٹرڈیم میں قائم پاکستانی سفارتخانے میں کہرام مچا تھا۔ ہالینڈ کے وزیر زراعت نے اچانک 2دن قبل سفیر پاکستان کو پیغام بھیج دیا تھاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کو فروغ دینے کے لئے مختلف تجاویز پر بات چیت کے لئے آج سفارت خانے آرہے ہیں۔ سفیر محترم نے صبح سویرے اپنے سیکرٹری کو ہدایات دینا شروع کر دیں۔

اسے حکم دیا گیا کہ وہ وزیر محترم کے استقبال کیلئے مناسب انتظامات کرے۔ جب معزز مہمان کی گاڑی سفارت خانے کے احاطے میں داخل ہو تو اسے صدر دروازے پر کھڑا کر دیا جائے۔

پھر گاڑی کا دروازہ کھولا جائے اور وزیر محترم کو انتہائی ادب سے گاڑی سے اتار کر سفیر کے دفتر کے باہر لایا جائے۔ پھر سفیر کو مطلع کرنے کے بعد انتظار کیا جائے تاکہ عزت مآب بذات خود وزیر کا استقبال کریں اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہو۔سیکرٹری نے یہ احکامات ازبر کئے اور مقررہ وقت ملاقات سے 15منٹ پہلے ہی سفارتخانے کے صدر دروازے کے باہر کھڑا ہوگیا۔

سفارتخانے کے احاطے سے باہر سڑک مصروف تھی، گاڑیاں گزر رہی تھیں۔ سیکرٹری کو اس وقت شدید حیرت کا جھٹکا لگا جب اسے بتایا گیا کہ وزیر موصوف سفارتخانے میں پہنچ چکے ہیں اور سفیر پاکستان سے ان کی ملاقات شروع ہو چکی ہے۔

کوئی ایک گھنٹہ سفیر محترم کے دفتر میں بات چیت رہی پھر دونوں باہر آئے۔ سفیر نے قہر آلود نظروں سے سیکرٹری کو دیکھا۔ انہیں بتایا گیا کہ تقریباً آدھا گھنٹہ کے انتظار کے باوجود معزز مہمان کی گاڑی سفارتخانے کی عمارت میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ شاید ان کے ڈرائیور نے باہر سڑک پر ہی کھڑی کردی تھی تاہم سفیر محترم نے اپنے دفتر سے معزز مہمان کو الوداع کہا اور سیکرٹری کو بڑے سخت الفاظ میں ہدایت کی کہ وہ معزز مہمان کو باہر سڑک پر گاڑی تک چھوڑ آئے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ انہیں مکمل پروٹوکول دیا گیا ہے۔

سیکرٹری وزیر محترم کے ہمراہ باہر آیا۔ صدر دروازے پر گاڑی نہیں تھی۔ دونوں باہر سڑک پر آئے، سیکرٹری نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی۔ وزیر فٹ پاتھ پر بنے ایک بائیسکل اسٹینڈ کی طرف بڑھے اور ایک بائیسکل کے قریب جارکے۔

انہوں نے جیب سے ایک چابی نکالی اور بائیسکل کا تالا کھولا۔ اس سے پہلے کہ سیکرٹری صورتحال سمجھ پاتا، وزیر محترم بائیسکل کی گدی پر تھے۔ پیڈل پر پاؤں رکھتے ہوئے بولے ’’آج کی ملاقات انتہائی خوشگوار رہی۔ میری طرف سے اپنے سفیر کا شکریہ ادا کردیں‘‘ اور پھر سائیکل سڑک پر پھسلتی چلی گئی۔

ہر برس دنیا بھر کو کروڑوں ڈالر کے گل ہائے لالہ برآمد کرنے، ہوائی چکیوں سے کئی میگاوات بجلی پیدا کرنے اور یورپی اتحاد کی اقتصاد میں انتہائی قابل احترام مقام حاصل کرلینے والے ہالینڈ کی فی کس سالانہ آمدنی ہزاروں ڈالر ہے اوراس کا ہر کارکن ہر ماہ کم از کم 5ہزار ڈالر مشاہرہ وصول کرتا ہے۔ ہر برس کے موسم بہار میں جب ہالینڈ میں کیوکن ہاف کے مقام پر گل لالہ کی سب سے بڑی عالمی نمائش سجتی ہے تو 70لاکھ سے زیادہ مختلف خوش نما رنگوں کے پھول ہوا میں فخریہ سراٹھائے کھڑے ہوتے ہیں۔

تب دنیا کے تقریباً ہر کونے سے پھولوں کی محبت میں گرفتار لاکھوں دیوانے اس نمائش میں پہنچتے ہیں اور کروڑوں ڈالر کے سودے ہوتے ہیں۔ بھینی بھینی معطر ہوا گل لالہ کا سحر اپنی اٹھکھیلیوں میں اٹھائے سرگوشیاں کرتی ہے۔

ہالینڈ کی اقتصاد زقند بھرتی ہے اور ملک کے وزیر زراعت بائیسکل پر سوار مختلف سفارتخانوں کے دورے کرتے، ان کے ممالک سے اقتصادی تعاون وسیع کرنے کی بات کرتے رہتے ہیں۔ اربوں کی سودمند اقتصاد ۔۔۔ بائیسکل پر سوار وزیر !!! نو پروٹوکول!!

اب ذرا وطن عزیز میں واپس آتے ہیں۔

ایک مقروض ملک کے ارب پتی حکمرانوں کے طرز زندگی پر کیا بات کریں؟ باپ ایک سیاسی جماعت میں گھس بیٹھا ہے تو بیٹا دوسری جماعت کا رکن ہے ۔۔۔ چچا ایک تیسری جماعت کے ارکان میں شامل ہے تو ماموں کسی چوتھے گھوڑے پر اپنے آپ کو رہن رکھے ہوئے ہے۔ رسی ہر صورت گھر کی باندی ہی بنی رہے گی۔ لاکھوں کی چمچماتی گاڑیوں پر سوار نکلتے رہیں گے۔ ہٹو بچو کی آوازیں آتی رہیں گی۔ ٹریفک کے اژدہام بنتے رہیں گے۔ عذاب انہی کے لئے رہے گا جنہوں نے ووٹ دے کر اسمبلی پہنچایا تھا۔

گبڑا عجیب موازنہ ہے۔ وزراء ہیں جن کاخاموشی سے بائیسکل کا استعمال ان کے وطن کی فضاؤں کو لاکھوں گل ہائے لالہ کی الہڑ مہک سے معطر کر رہا ہے۔ ان کی اقتصاد کو نئی قوت عطا کر رہا ہے اور پھر ارب پتی وزراء ہیں جن کا دست حرص و آزپھیلتا رہا ہے اور جن کا وطن عسرت و افلاس کی اتھاہ گہرائیوں میں ہر روز مزید گرتا ہے۔

کیا کبھی آپ نے وطن عزیز میں کسی سیاسی اجتماع کے اختتام پر بھوکے تہی دست عوام کو کھانے بر جھپٹتے بے حسی سے ایک دوسرے کو نوچتے کھسوٹتے دیکھا ہے؟۔۔۔ یہ ہم ہیں ۔۔۔ یہ ہمارا آج ہے۔

مزید : رائے /کالم