سر سے سایہ چھین کر پھر سرپرستی کی گئی!

سر سے سایہ چھین کر پھر سرپرستی کی گئی!
سر سے سایہ چھین کر پھر سرپرستی کی گئی!

  

ساہیوال میں ایک خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی، لیکن ان معصوموں پر جو افتاد پڑی اس کے لیے شاید قیامت کا لفظ بھی کم ہے۔ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے محو سفر خاندان سی ٹی ڈی کی حساس اداروں کے تعاون سے کی جانے والی کارروائی کا نشانہ بن گیا۔ شادی کا گھر ماتم کدہ بنا۔ رات گئے پنجاب کے وزیرِ اعلی پھولوں کے ساتھ ساہیوال پہنچے۔

وزیراعلی صاحب! پھولوں کے گلدستے عیادت کے لیے لے جائے جاتے ہیں یا قبروں پر رکھے جاتے ہیں۔ جن پھول سے بچوں کے ہاتھوں میں آپ یہ گلدستے تھما رہے ہیں، انہیں عیادت کا مطلب کیا معلوم؟ انہیں اس نئے تہذیبی تکلف کا کیا ادراک، انہیں کیا علم کہ ان کے پاس ایک بڑے صوبے کا بڑا عہدیدار 38 گاڑیوں کا قافلہ لے کر رات گئے عظیم مملکت کےُ اس وزیراعظم کی ہدایت پر پہنچا ہے جس نے اپنی پہلی تقریر میں حضرت عمرؓ کا یہ قول سنایا تھا کہ ریاستِ مدینہ میں دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو حاکمِ وقت ذمہ دار ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ صاحب! یہ گولیوں اور شیشوں سے زخمی بچے، زندہ بچے نہیں تھے جنہیں آپ نے پھول تھمائے، آپ تو قبروں پر پھول رکھنے آئے تھے اور رکھ کر چلے گئے۔ یہ وہ عمر ہے جب یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ موت کیا ہے اور یہ ماں باپ کو بھی دور لے جاسکتی ہے۔

بچوں کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ نے ماں باپ کواپنے پاس بلا لیا اور وہ بچے جو اللہ سے دعا مانگتے ہوئے اپنے ماں باپ کو ایک خیالی دنیا میں تصور کرتے ہیں، مزید تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی آنکھیں بجھ جاتی ہیں، دل راکھ ہو جاتے ہیں، جن میں وہم، خوف، شکایت، بے یقینی اور نفرت کے انگارے سلگتے رہتے ہیں۔ پھر اسی راکھ کے ڈھیر سے ایک دن ققنس کی طرح کوئی متشدد ہاتھ ابھرتا ہے جو ریاست پر اپنا غصہ نکالتا ہے۔۔۔ پھراس کے ساتھ کیا ہوتا ہے، ہم سب جانتے ہیں۔

طرفہ تماشا یہ ہوا کہ صاحبانِ اقتدار میں سے جس نے بھی زبان کھولی، اس نے ایک نئی قیامت ڈھا دی۔وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ’وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے حکم دیا بچوں اور لواحقین کو مالی معاوضہ دیا جائے گا اور ان کی سرپرستی کر کے ان اہلکاروں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی‘،ساتھ ہی یہ پخ بھی لگائی کہ’ وہ اگر دہشت گرد نہ ہوئے تو۔‘فواد چوہدری نے حسب روایت عجلت میں رنگا رنگ مائیک اپنے سامنے سجائے اوربغیر کسی تحقیق کے یہ فرمان جاری کر دیا’مارے جانے والی فیملی خطرناک دہشت گرد تھی‘ وزیراعظم عمران خان نے واقعہ کے بعد ایک ٹویٹ کیا اور فرمایا،’سہمے ہوئے بچوں کو، جن کے والدین کو انکی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا گیا ،کو دیکھ کر ابھی تک صدمے میں ہوں۔ اپنے بچوں کے بارے میں ایسی صدمہ انگیز صورت حال کے تصور ہی سے کوئی بھی والدین پریشان ہو جائیں گے۔ ریاست اب ان بچوں کا ذمہ لے گی اور ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی۔اگرچہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ دہشت گردی کیخلاف نمایاں خدمات سرانجام دے چکا ہے تاہم قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آتے ہی اس کی روشنی میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ اپنے تمام شہریوں کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔‘

وزیراعظم صاحب! آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ آپ وزیراعظم ہیں ۔آپ کو گھبرانا نہیں ہے بلکہ فیصلہ کرنا ہے اور عوام کو احساس دلانا ہے کہ اس بہیمانہ واردات کے پس پردہ محرکات کیا ہیں؟ اس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کابھی ملتا جلتا ٹویٹ سامنے آیامگرانہوں نے باقی حکومتی بیانات کے برعکس مرحومین کو شہدا قرار دیا۔بندہ کیا کرے اور کیا کہے۔۔۔تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو! وزیر مشیرجنہیں اغواکار ، دہشت گرد اور داعش کے سہولت کار قرار دیتے رہے ، صدر صاحب نے شہید کہہ دیا! یعنی یہ سب آپس میں بھی ایک پیج پر نہیں! اور عجیب ریاست ہے جو بچوں کے سر کا سایہ چھین کر انہیں سرپرستی دے گی! عمران خان نے پچھلے دورِ حکومت میں جب وہ حزبِ اختلاف میں تھے، یہ بیان دیا تھا کہ’ پولیس کا کوئی قصور نہیں ہوتا، حکم تو اوپرسے آتا ہے۔

چھوٹے چھوٹے پولیس والوں کو نہ پکڑا جائے!اور سب اعلی عہدیدار استعفا دیں!‘سوال یہ ہے کہ کیا خان صاحب اس بات پر اب بھی قائم ہیں؟ کیا حکومتِ وقت سے کوئی پوچھنے والا ہے کہ وردی والوں کو اطلاع کس نے دی اور اس کاروائی کا حکم کہاں سے آیا۔ جب سے اس واقعہ کی خبر ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا پر چل رہی ہے، ان ذمہ داران کو سامنے لانے کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ درجنوں ویڈیوز کی موجودگی میں بھی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف ہی درج ہوئی۔

یہ بھی اپنی نوعیت کا منفرد وقوعہ ہے۔ ایک اور خبر کے مطابق ایک ایف آئی آر سی ٹی ڈی نے بھی درج کروائی ہے! اس کا تو شمار کرنا محال ہے کہ سی ٹی ڈی نے کتنے مختلف بیانات جاری کیے۔ پہلے بیان میں 4دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی گئی۔

پھر یہ بتایا گیاکہ کارسوار تو موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں، یعنی اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کی زد میں آئے۔جب یاد آیا کہ مرنے والوں میں ایک عورت اور ایک 13 سال کی بچی بھی تھی تو بیان جاری کیا کہ دہشت گردوں نے خاندان کو انسانی ڈھال بنایا۔یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ نہ ہی نیا تماشا ہے ۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ دہائیوں سے دنیا بھر میں کبھی دہشت گردی یا کسی اوربہانے ’کولیٹرل‘ نقصان کے پردے میں کس کس کو مارا جا رہا ہے اوراس کے نتیجے میں کیا کچھ چھپایا جا رہا ہے؟ساہیوال میں ہونے والے سانحے کی کہانی میڈیا تک پہنچ گئی ہے تو ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ بس ایک واقعہ ہو گیا۔ کیا کوئی یہ بھی سوچے گا کہ جن علاقوں سے ہمیں خبریں تک مشکل سے موصول ہوتی رہی ہیں، وہاں کیا کچھ ہوتا ہو گا۔ اس صورت حال پراپنا ایک تازہ شعر:

زندگی خیرات تھی کوئی ہمیں جو دی گئی

سر سے سایہ چھین کر پھر سرپرستی کی گئی

مزید : رائے /کالم