ضلع خیبر ، ہیڈکوارٹر ہسپتال میں 14گھنٹے سے تمام ڈیپارٹمنٹس متاثر

ضلع خیبر ، ہیڈکوارٹر ہسپتال میں 14گھنٹے سے تمام ڈیپارٹمنٹس متاثر

خیبر (عمران شنواری )ضلع خیبر ہیڈکوارٹرہسپتال بجلی کا مسئلہ کون حل کرے گا ؟چودہ گھنٹے لوڈشیڈ نگ سے تمام ڈیپا رٹمنٹس میں کام مشکل ہو گیا ہیں سخت سردی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے وارڈوں میں مریضوں کو داخل کر نا بند کر دیا ہیں جبکہ آپریشن تھیٹر میں سرجری بند ہو گئی ذمہ داروں نے ان تمام صورتحال پر خاموشی اختیار کی ہیں غریب مریض کہا جائے کوئی پوچھنے والا نہیں، ٹیسکوحکام کے مطابق کہ بجلی بل کی مد میں بقیا جات تقریبا آٹھ کروڑ بتیس لاکھ تک پہنچ گئے ہیں اس لئے لوڈشیڈ نگ کا دورانیہ زیا دہ کر دیا ہے ہسپتا ل انتظامیہ کے مطابق کہ بجلی بل کا مسئلہ ڈائریکٹریٹ اور ٹیسکو کے اعلی حکام مل بیٹھ کر حل کریں ہسپتال پر لودشیڈ نگ زیا دہ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ یہ مریضو ں اور عملے کے ساتھ ناانصافی ہیں گز شتہ دو ہفتو ں سے لنڈیکوتل ہسپتال پر ٹیسکو نے بجلی بل بقایا جات کی بناء پر لودشیڈنگ کا دورانیہ زیا دہ کرکے تقریبا سولہ گھنٹے کر دیا تھا لیکن سینٹر الحاج تاج محمد آفریدی کی ایم اور ڈاکٹروں سے ملاقات کے ٹیسکو کے اعلی حکام کے بعد لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرکے چودہ گھنٹے کر دیا چودہ گھنٹے لوڈشیڈنگ سے ہسپتال میں سخت مشکلات درپیش ہیں گز شتہ روز اے این ٹی کے بارہ آپریشن منسوخ کر دئیے گئے کیونکہ او ٹی میں بجلی کے بغیر کام نہیں ہو سکتا جبکہ آپریشن کے بعد مریض کو وارڈ میں داخل کر نا پڑتا ہیں اس لئے تمام مریضو ں کو بغیر آپریشن واپس کر دئیے گئے اسمیں وہ مریض بھی شامل تھی جو غربت کی وجہ سے پرائیویٹ علاج یا آپریشن نہیں کر سکتے اور انکوکوڈاکٹرنے دو یا تین ہفتے پہلے نمبر پر رکھ دیا تھا لیکن بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے تین ہفتے بعد نمبر آنے کے بعد انکی سرجری نہیں ہو سکی جبکہ دوسری طرف دو بجے کے بعد زیا دہ تر ڈاکٹرز پشاور جا تے ہیں جسکی وجہ سے دوپہر اور شام کے وقت پرائیویٹ مریضو ں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہیں لنڈیکوتل ہسپتال کی تقریبا سات سو اوپی ڈی مریض ہیں اسی طرح روازنہ سینکڑوں مریض دوپہر کے بعد پرائیویٹ کلینکس میں ڈاکٹروں سے علاج معالجہ کر نے آتے ہیں اس وقت سب سے زیا دہ تکلیف لیبرورم میں مریضو ں کو ہو تی ہیں کیونکہ ڈیلیوری کے بعد بچے کو گرم رکھنا پڑتا ہیں اور ماں کو بھی طبی امدا دینا پڑتاہیں لیکن چودہ گھنٹے لوڈشیڈنگ سے یہ ممکن نہیں ہیں ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کہ ہسپتال کا بجلی میٹر گریڈ اسٹیشن میں نصب کیا گیا ہیں انہیں پتہ نہیں کہ ہسپتال ماہانہ کتنے یونٹس خرچ کر تے ہیں اور انکا کتنا بل آتا ہیں اس لئے بجلی کا میٹر ہسپتال میں نصب کیا جائے اور بجلی بل کا جو مسئلہ ہیں وہ ٹیسکو کے اعلی حکام ڈائر یکٹر ہیلتھ کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں نہ کہ وہ ہسپتال پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیا دہ کریں جبکہ بجلی بل کا مسئلہ 1984سے چلا آرہا ہیں اسی طرح ٹیسکو حکام کے مطابق کہ بجلی بل مسلسل بڑھ رہا ہیں اوراس سلسلے میں ہسپتال انتظامہ کو نوٹس بھیجتے تھے لیکن ٹہس سے مس نہیں ہو رہے تھے مجبوری میں لوڈشیڈنگ دورانیہ زیا دہ کر دیا واضح رہے کہ تقریبا دو ہفتوں سے یہ مشکلات پیدا ہو گئے ہیں پرنٹ الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر مسلسل خبریں چل رہی ہیں لیکن ذمہ داروں نے مکمل خاموشی اختیار کی ہے انضما م کے بعد وزیر اعلی اور وزیر صحت کو فوری نوٹس لینا چاہئے تھا لیکن شاید انکو یہ پتہ نہیں کہ اب اضلا ع کے ہسپتال بھی انکے اختیا رمیں ہیں لیکن دوسری طرف گز شتی روز گورنر نے بھی شاہ کس باڑہ کا دورہ کیا جس میں تما م قومی مشران کو دعوت دی تھی اور شرکت بھی کیا تھا لیکن نہ کسی قومی مشر نے اس پر گورنر کو بتا یا اور نہ گورنرنے خود اس اہم مسئلہ پر بات کی کیونکہ گورنر تو میڈیا کے زریعے تمام صورتحال سے واقف ہو نگے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے غریب مریض کسی مسیحا کے منتظر ہیں کہ وہ یہ مسئلہ حل کر سکے

مزید : پشاورصفحہ آخر