جامعہ عثمانیہ پشاور گلشن عمر کیمپس میں آرٹس اینڈ فوڈز فیسٹیول دوسرے روز بھی جاری

جامعہ عثمانیہ پشاور گلشن عمر کیمپس میں آرٹس اینڈ فوڈز فیسٹیول دوسرے روز بھی ...

پبی ( نما ئندہ پاکستان)جامعہ عثمانیہ پشاور گلشن عمر کیمپس میں آرٹس اینڈ فوڈز فیسٹیول دوسرے روز بھی جاری کمشنر پشاور شہاب علی شاہ، ایم این اے حاجی شوکت علی ، جمعیۃ علماء اسلام کے صوبائی امیرمولانا گل نصیب خان، چترال کے اقلیتی ایم پی اے وزیر زادہ ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹرقبلہ آیاز،ڈپٹی ہوم سیکرٹری طیب عبداللہ وفاق المدارس کے مرکزی نائب صدر مولانا انوار الحق ،سابق ایم این اے مولانا گوہر شاہ، مولانا غلام صادق نے نمائش کا خصوصی دورہ کیاتفصیلات کے مطابق معروف دینی درس گاہ جامعہ عثمانیہ پشاور کے گلشن عمر کیمپس میں آرٹس اینڈ فوڈز فیسٹول نمائش دوسرے روز بھی جاری رہا نمائش میں کثیرتعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔نمائش کے دوسرے روزمنعقدہ تقریب سے کمشنر پشاور شہاب علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ عثمانیہ تمام مدارس اور یونیورسٹیز کے لیے رول ماڈل ہے۔ جامعہ عثمانیہ پشاور نے آج جس طرح ثقافتی نمائش کاانعقاد کیا ہے ،عصری ادارے اس طرح نمائش کرنے سے قاصر ہیں۔ بلکہ میں کلچر ڈیپارنمنٹ والوں سے کہتاہوں کہ کلچر نمائش کرنا جامعہ عثمانیہ سے سیکھے۔ دینی مدارس میں اس طرح کی سرگرمیاں قابل تقلید ہے۔ معاشرہ اور مدارس آپس میں لازم وملزوم ہیں ۔آج معاشرے کو جامعہ عثمانیہ جیسے اداروں کی اشد ضرورت ہے۔ اہل مدارس کے لیے منفی پروپیگنڈے ے کاواحد حل ہم نصابی سرگرمیاں ہیں ۔ جامعہ عثمانیہ ایک روشن مینار ہے یہاں دین ودنیا کے درمیان ایک توازن ملتا ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے صوبائی امیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسٹر اوملا کے درمیان تفریق انگریز کا پیدا کردہ ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تفریق کو ختم کیا جائے۔ کیونکہ اس تفریق کے ختم کرنے سے ہی امن وامان قائم ہوسکتا ہے۔دینی مدارس میں اس قسم کی سرگرمیوں سے سے یہ تفریق ختم ہوسکتا ہے۔دینی مدارس میں ہم نصابی سرگرمیاں وقت کی اہم ضرورت ہے۔آج مسجد، مدرسہ اور داڑھی کو نفرت کی علامت بنا یا گیا ہے۔ تاہم جن لوگوں کو مدارس کے بارے شکوک وشبہات ہوں توان کو چاہیے کہ یہاں آکر دیکھے کہ مدارس میں کیا ہورہا ہے۔مدارس امن وسلامتی کے مراکز ہیں۔ جامعہ کے مہتمم مفتی غلام الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرہ اور عالم دین کا ایک گہرا تعلق ہے۔ ثقافت اور کلچر معاشرے کی ضرورت ہے۔ہم نصابی سرگرمیوں سے دینی مدارس کے طلبہ کوایک نئی سوچ دے رہے ہیں ۔دینی مدارس کے طلبہ ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے منفی پروپیگنڈے کاازالہ کریں۔مدارس میں ہم نصابی سرگرمیوں کافروغ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔پختون قوم کی ثقافت امن اور محبت بھائی چارے کا پیغام ہے۔وفاق المدارس کے سینئیر نائب صد مولانا انوار الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ دینی مدارس اسلامی معاشرے کی ضرورت ہے۔اور مدارس کے متعلق ایک محدود اور منفی سوچ ہے۔ ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد سے مدارس کا اصل چہرے سے لوگوں کو روشناس کراناہے۔ تقریب میں مولانا حسین احمد نے بھی خطاب کیا

مزید : پشاورصفحہ آخر