محکمہ خوراک سال 2018ء کارکردگی رپورٹ جاری

محکمہ خوراک سال 2018ء کارکردگی رپورٹ جاری

پشاور (سٹاف رپورٹر)محکمہ خوراک خیبر پختونخواہ نے سال 2018 ء کی کاردکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے رپورٹ کے مطابق محکمہ خوراک نے خیبر پختونخواہ کے تمام اضلاع میں 71452دکانوں کا معائنہ کیا اور اس دورا ن سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر11892افراد کو 3کروڑ34لاکھ 48ہز ار 350روپے جرمانے عائد کئے اور 294افراد کو جیل بھیج دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق پشاور ڈویژن میں 1998افراد کوخلاف ورزی پر77لاکھ79ہزار400روپے جرمانہ کیا10071دکانوں کا معائنہ کیااور214افراد کو جیل بھیجا ۔مردان ڈویژن میں997افراد کو خلاف ورزی کرنے پر 38لاکھ36ہزار200روپے جرمانہ کیا،6911دکانو ں کا معائنہ اور25افراد کو خلاف ورزی پر جیل بھیجا گیا۔مالاکنڈ ڈویژن میں 3093افراد پر 60لاکھ32ہزار650روپے جرمانہ عائد کیا ،18693دکانوں کا معائنہ جبکہ4افراد کو جیل بھیج دیا گیا۔کوہاٹ ڈویژن میں1062افراد کو خلاف ورزی پر 20لاکھ17ہزار400 روپے جرمانہ وصول کیا،10204دکانوں کا معائنہ کیا اور14افراد کو خلاف ورزی کرنے پر جیل بھیجا گیا۔ اسی طرح ہزارہ ڈویژن میں3366افراد سے 95لاکھ54ہزار300 روپے جرمانے کی مد میں وصول کئے،کل12493دکانوں کا معائنہ کیا اور32افراد کو خلاف ورزی پر جیل بھیج دیا۔ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں689افراد سے جرمانے کے مد میں28لاکھ19ہزار500روپے وصول کئے، 7560دکانوں کا معائنہ کیا اور 5افراد کو جیل بھیج دیا گیا۔بنوں ڈویژن میں 687افرادکو خلاف ورزی کرنے پر14 لاکھ8ہزار900روپے جرمانہ وصول کئے جبکہ 5520دکانوں کامعائنہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق کاردکردگی کے لحاظ سے ہزارہ ڈویژن 95لاکھ54ہزار300 روپے کے ساتھ سرفہرست جبکہ پشاور ڈویژن 77لاکھ79ہزار400روپے کے ساتھ دوسرے اور مالاکنڈ ڈویژن 60لاکھ32ہزار650روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا جبکہ اضلاع کی کاردکردگی میں پشاور 49لاکھ89ہزار500روپے کے ساتھ پہلے نمبر جبکہ ایبٹ آباد30لاکھ58ہزار700روپے کے ساتھ دوسرے اور ہری پور 28لاکھ29ہزار روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر