فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن کے ہرفیصلے کا خیر مقدم کرینگے ، سکندرشیر پاؤ

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن کے ہرفیصلے کا خیر ...

چارسدہ(بیرو رپورٹ) سابق سینئرصوبائی وزیر اور قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن کے ہر فیصلے کا خیرمقدم کرینگے ۔ ملک میں حقیقی جمہوریت کا دور دور تک نام نہیں بلکہ کنٹرول ڈیموکریسی کا نظام لایا جا رہا ہے جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں ،موجودہ حکومت نے انتخابی وعدوں کو وفا کرنے کے بجائے عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دیئے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے اپنی رہائش گا ہ پر پارٹی کے آن لائن ممبر سازی مہم کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس سے قبل سکندر خان شیرپاؤ نے آن لائن سسٹم کی ذریعے اپنی ممبر شپ فارم پر کرکے مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔ تقریب میں پارٹی کے صوبائی آرگنائزر حاجی غفران خان ،سابق صوبائی وزیر ارشد خان عمر زئی ،تحصیل تنگی ناظم یخیٰ جان مومند اور پارٹی کے دیگر صوبائی قائدین بھی موجو د تھے ،اس موقع پر اپنے خطا ب کے دوران سکندر خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور امریکہ مذاکرات میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے ،مذاکرات کو بامقصد بنانے کے لئے افغان حکومت کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانا چاہیے ۔ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات میں تعطل خو ش آئندامر نہیں اس لئے ان مذاکرات کو بامقصد بنانے کے لئے پاکستان بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ خطے میں دیر پا امن کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان حکومت کو بھی ان مذاکرات میں براہ راست شامل کیا جائے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری نظام یا جمہوری حکومت کا نام و نشان نہیں بلکہ کنڑول ڈیموکریسی کا نظام رائج کیا جا رہا ہے جن لوگوں کو زبردستی لا کر وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا گیا ہے ان لوگو ں کوملک کا نظام چلانا نہیں آتا اس لئے سال میں دو دو بجٹ پیش کئے جا رہے اور ملک میں مہنگائی اور ٹیکسزکا طوفان لا کر کھڑا کر دیا ہے جس سے غریب آدمی کا جینا محال ہو چکا ہے۔ ملک کی ترقی کا واحد حل اس ملک کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانے میں ہے ا سلئے ملک کے تمام اکائیوں کو یکجا کرکے کام کیا جائے جبکہ تمام ریاستی ادارے اپنے حدود میں رہ کرکام کرے۔سکندر شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ مہمند ڈیم کے رائلٹی سمیت نٹ پرافٹ پر سب سے پہلا حق قبائلی عوام کا بنتا ہے تاکہ وہاں کے لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے جبکہ صوبے کے عوام کی حالت بہتر بنانے کے لے وفاقی حکومت پن بجلی کے مد میں صوبے کے 120ارب سے زائد بقاجات کو فوری طور پر ادا کرے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر