ملٹری کورٹس مدت ، میں توسیع کی حمایت نہیں کرینگے ،شاہد خاقان عباسی ،مولانا فضل الرحمن،فوجی عدالتوں کی ملک کو ضرورت ہے ،چودھری شجاعت

ملٹری کورٹس مدت ، میں توسیع کی حمایت نہیں کرینگے ،شاہد خاقان عباسی ،مولانا ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے مخالفت کردی جبکہ مسلم لیگ( ق)نے فوجی عدالتوں کو ملک کیلئے ضروری قرار دے دیا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے گوجرخان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کی مخالفت کی اور کہا فوجی عدالتوں کی پاکستان میں کوئی ضرورت نہیں، ہم فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے حق میں نہیں ہیں جبکہ اپوزیشن کا اتحاد کرپشن کیسوں کی وجہ سے نہیں ملکی مفاد میں ہوا، نااہل حکومت نے ملک کا ستیاناس کردیا ہے، ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انکا کہنا تھا سانحہ ساہیوال افسوسناک اور قابل مذمت ہے، حقائق سامنے لا کر ذمہ داروں کو نشان عبرت بنایا جائے۔جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ابھی تک نواز شریف اور زرداری کو قریب لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ،میڈیا کے ذریعے فضا بنا کر سیاسی قیادت کو چور لٹیرے مشہور کیا جاتا ہے بعد میں کسی بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،ریاست مدینہ کا مقدس نام سیاسی کھیل کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ،وزیر اعظم اور اس کی بہن نے ملک کے اندر بھی اور باہر بھی پیسے چھپائے ان کے نئے نئے اکاؤنٹس اور جائیدادیں سامنے آرہی ہیں،اپوزیشن میں بیٹھے لوگ ملکی معیشت سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں ، نیب ادارے کو سیاستدانوں کو پھانسنے کے لئے بنایا گیا تھا، میں اب بھی کہتا ہوں کہ عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ،اب پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دلائل دے رہے ہیں،وزیر اعظم کو ہدایات ابھی بھی جمائما گولڈ اسمتھ کی طرف سے آتی ہیں ، وزیر اعظم کے وہاں ابھی تک تعلقات برقرار ہیں ، ہم فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں ہیں اس کی حمایت نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر مجھے زرداری صاحب سے گلے ہیں مگر موجودہ حالات میں ہمیں ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا رول ادا کرنا ہوگا، عوام چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں اپنا عملی رول ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا چاہے کچھ بھی ہو جائے ،پرویز مشرف کے دور میں بھی (ن) لیگ اور پی پی نے آپس میں بیٹھ کر ملکی مسائل کے حل کے لئے چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کیا ، پاکستان کو اس وقت بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں،آئے روز نئے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں،انتخابات منصفانہ ہونے چاہئیں ،الیکشن میں دھاندلی پر سب کا اتفاق رائے ہے،شہباز شریف بھی تمام پارٹیز کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،شہباز شریف کے این آر او ڈھونڈنے سے متعلق میرے پاس کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں اس لئے اس معاملے پر میں کوئی بات نہیں کر سکتا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ چھوٹی بڑی تمام پارٹیاں مل کر ملکی مسائل کاحل نکالیں مولانا فضل الرحمان نے سانحہ ساہیوال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ حکمرانوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے پولیس کو’’غنڈہ فورس‘‘ میں تبدیل کردیا ہے۔۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پولیس کا ریکارڈ ہے کہ جب اسے حکمرانوں کی شہہ ملتی ہے تو وہ بے لگام ہوجاتی ہے، ساہیوال میں حادثہ اسی وجہ سے ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ راؤ انوار نے کراچی میں 440 بیگناہ شہریوں کو طالبان قرار دے کر قتل کیا، لیکن آج بھی وہ آزاد گھوم رہا ہے۔

شاہد خاقان

اسلام آباد (این این آئی)مسلم لیگ (ق)کے صدر چوھردی شجاعت حسین نے کہا ہے کہ فوجی عدالتیں آج بھی قوم کی ضرورت ہیں۔ اس لئے اس اہم معاملے کو بیان بازی کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوھرری شجاعت حسین نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ آج جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں کسی چیز کا ڈر ہے۔ فوجی عدالتوں میں فوجی ترجمان کے مطابق 4سال میں 717مقدمات سنے گئے۔ فوجی عدالتوں نے جس کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کے 648مقدمات کے فیصلے کئے اس کے نتیجے میں 345مجرموں کو سزائے موت ہوئی ۔ چوھرری شجاعت حسین نے مذید کہا کہ اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ 21نکاتی نیشنل ایکشن پلان کی منظوری میں ساری سیاسی اور فوجی قیادت کی حمایت شامل تھی ، 4سال گزر گئے نیشنل ایکشن پلان کے جو نکات افواج پاکستان سے متعلق تھے ان پر تو مکمل عمل ہو گیا لیکن افسوس یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان سے متعلق سویلین اداروں نے کام مکمل نہیں کیا۔ نیشنل ایکشن پلان کی تاسیسی میٹنگ میں، میرے سمیت تمام جماعتوں کے سربراہ بھی موجود تھے۔فوجی عدالتوں کے معاملہ میں نے کہا تھا کہ ان ماؤں سے پوچھیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو یونیفارم پہنا کرلنچ بکس کے ساتھ اے پی ایس سکول بھیجا تھا۔ کسی کو اپنے بچوں کے جسم کے ٹکڑے انہیں ملے ۔ اس ماں کو آئین اور قانون کا بھاشن نہیں چاہیے ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اے پی ایس سانحہ کے بعد سربراہی اجلاس میں نواز شریف ، آصف علی زرداری، موجودہ وزیر اعظم عمران خان، اسفندیارولی، آفتاب شیرپاؤ اور مجھ سمیت دیگر جماعتوں کے سربراہ اور جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔ سب نے اتفاقِ رائے سے نیشنل ایکشن پلان کو سپورٹ کیا تھا اور مولانا فضل الرحمن نے آخر میں دعائے خیر کرائی تھی۔ نیشنل ایکشن پلان پر دستخط کرنے والوں کو اب کسی قسم کی تنقید نہیں کرنی چاہیے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔

چودھری شجاعت

مزید : صفحہ اول