سانحہ ساہیوال ،سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج ،ایف آئی آر میں دہشتگردی قتل کی دفعات شامل لاشیں ورثاء کے حوالے ،احتجاج ختم

سانحہ ساہیوال ،سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج ،ایف آئی آر میں دہشتگردی ...

لاہور ،ساہیوال (کرائم رپورٹر ،بیورو رپورٹ ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )ساہیوال واقعہ کا مقدمہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اہلکاروں کے خلاف درج کیے جانے کے بعد ورثا نے جی ٹی روڈ پر دیا جانے والا دھرنا ختم کردیا۔ اتوار کو مقتول خلیل کے بھائی جلیل احمد کی مدعیت میں ساہیوال واقعے کا مقدمہ تھانہ یوسف والا میں درج کرلیا گیا جس میں سی ٹی ڈی کے 16 نامعلوم اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 اور دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے کے بعد جی ٹی روڈ پر لاشیں رکھ کر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ دوسری طرف جاں بحق افراد کے لواحقین اور اہل علاقہ نے دوسرے روز بھی فیروز پور روڈ کی دونوں اطراف کو بند کر کے احتجاج کیا ،ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں ، مظاہرین کی جانب سے میٹرو بس سروس کے روٹ کو بھی بند کر دیا گیا ۔ایک موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم پولیس افسران اور مظاہرین میں شامل بزرگوں نے بیچ بچاؤ کرایا ۔خلیل کے بھائی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف چاہیے،جن لوگوں نے کہا تھاکہ ہم انصاف دلائیں گے آج وہ نظر نہیں آرہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو سامنے لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔بعد ازاں پولیس افسران کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کئے گئے جس پر احتجاج ختم کردیا ۔ جبکہ سی ٹی ڈی نے بھی ساہیوال میں مبینہ مقابلے کا مقدمہ تھانہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ لاہور میں بھی درج کر لیا گیا ۔سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں تین اہلکاروں کا نام بھی دیا گیا ہے جو کہ آپریشن میں شریک ہوئے۔سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق کارروائی میں کارپورول محسن،رمضان اور حسنین اکبر شریک ہوئے۔مقدمہ 302/324،353اور دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے ۔ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے اشتہاری مجرمان دہشتگرد شاہد جبار ، عبد الرحمن او ران کے دیگر ساتھی ایک موٹر سائیکل اور کار سوار فیملی کے کور میں ساہیوال کی طرف جارہے ہیں جس پر پیشگی ناکہ بندی کر لی گئی ۔موٹر سائیکل سواروں کے پاس ایک بڑ ا بیگ تھااو ران کے پیچھے ایک سفید رنگ کی آلٹو کار تھی۔ جب انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو تو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ شروع کر دی اور سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کے آفیشلز آپریشنل ٹیکنیکس کی وجہ سے محفوظ رہے اور دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کے لئے دفاعی حکمت عملی اپنائی ۔ اس دوران کار میں سے بھی ایک شخص نے فائرنگ کرنا شروع کر دی ۔موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے کار سوار ان کے اپنے ساتھی زد میں آ گئے۔ جب کار کو چیک کیا گیا تو دو اافراد ،ایک عورت اورایک بچی دہشتگردوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے تھے جبکہ ایک بچہ اور بچی زخمی تھے جنہیں سرکاری ہسپتال پہنچایاگیا دریں اثناساہیوال میں مبینہ مقابلے میں حصہ لینے والے کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کو لاہور منتقل کر دیا گیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی لاہور میں اہلکاروں کے بیانات قلمبند کرے گی ۔ عینی شاہدین سے معلومات لینے کے لئے بھی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔

مقدمہ درج

لاہور ،اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،فلم رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ساہیوال میں ' مبینہ' مقابلے کے دوران پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کے ہاتھوں اپنے والدین اور عزیز و اقارب کے قتل کے مناظر دیکھنے والے بچوں کی ذمہ داری ریاست اٹھائے گی۔وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ 'ان بچوں کو دیکھ کر ابھی تک صدمے میں ہوں، جنہوں نے اپنے سامنے والدین کو قتل ہوتے دیکھا اور وہ صدمے کا سامنا کررہے ہیں'۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کے بارے میں ایسی صدمہ انگیز صورتحال کے تصور ہی سے کوئی بھی والدین پریشان ہوجائیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان بچوں کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے ایک اور ٹوئٹ کیا کہ سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا لیکن قانون کے سامنے سب جوابدہ ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آتے ہی ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ شہریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جبکہوزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے موقف کے مطابق ساہیوال میں گزشتہ روز آپریشن 100 فیصد انٹیلی جنس، ٹھوس شواہد اور مکمل معلومات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا۔ ساہیوال مقابلے سے متعلق میڈیا بریفنگ میں وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ گاڑی کو چلانے والے ذیشان کا تعلق داعش سے تھا۔انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے خلیل کے اہلِ خانہ کی درخواست پر واقعے کا مقدمہ ساہیوال تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے سپروائزر کو بھی معطل کردیا گیا ہے اور مقابلے میں حصہ لینے والے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خلیل کے لواحقین کے لیے 2 کروڑ روپے کی مالی امداد اور بچوں کے لیے مفت تعلیم کا اعلان کیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بچوں کے علاج کے مکمل اخراجات بھی اٹھائیں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مالی امداد انسانی زندگی کا مداوا تو نہیں کرسکتی لیکن حکومت اپنی ذمہ داری نبھائیگی۔ان کا کہنا تھا کہ مقابلے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے جو 2 دن میں پنجاب حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔راجہ بشارت نے کہا کہ ذیشان کے کچھ عرصے سے داعش کے ایک خطرناک نیٹ ورک سے تعلقات تھے، یہ نیٹ ورک ملتان میں آئی ایس آئی کے افسران کے قتل، علی حیدر گیلانی کے اغوا اور فیصل آباد میں 2 پولیس افسران کے قتل میں ملوث ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے ملتان میں آئی ایس آئی افسران کے قتل میں سلور رنگ کی ہونڈا سٹی کار استعمال کی جس کی تلاش پولیس اور ایجنسیوں کو تھی۔صوبائی وزیر قانون کے مطابق 13 جنوری کو ہونڈا سٹی کار دہشت گردوں کو لے کر ساہیوال گئی،اس حوالے سے سیف سٹی کیمروں کا معائنہ کیا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ ذیشان کی سفید رنگ کی آلٹو بھی دہشت گردوں کی گاڑی کے ساتھ تھی۔انہوں نے کہا کہ ذیشان کی گاڑی بھی دہشت گردوں کے استعمال میں تھی،ان کا مزید کہنا تھا کہ ایجنسی اہلکار 18 جنوری کو کیمروں کی مدد سے ٹریس کرکے ذیشان کے گھر پہنچے تھے۔راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ 13 سے 18 جنوری تک کیمروں کا معائنہ کیا گیا تھا جس دوران یہ تصدیق ہوئی کہ ذیشان دہشت گردوں کے ساتھ کام کررہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ذیشان کے گھر میں دہشت گرد بڑی مقدار میں گولہ بارود کے ساتھ موجود تھا، گھر گنجان آباد علاقے میں ہونے کی وجہ سے آپریشن کرنا مناسب نہیں تھا کیونکہ اس سے بے گناہ جانوں کو خدشہ لاحق تھا، اس لیے گاڑی کے علاقے سے نکلنے کا انتظار کیا گیا۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ 19 جنوری کو سیف سٹی کیمرے کی مدد سے سفید آلٹو کو مانگا کے مقام پر دیکھا گیا جس کی اطلاع ایجنسی کو دی گئی،گاڑی لاہور کی حدود سے باہر نکل چکی تھی اس لیے سی ٹی ڈی ٹیم کو گاڑی روکنے کا کہا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کے مطابق دہشت گرد گاڑی میں بارود لیکر جارہے تھے اور وہ کسی گنجان آباد مقام کی طرف گامزن تھے۔راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ جب ساہیوال میں گاڑی کو روکا گیا تو اس موقع پر فائرنگ ہوئی،گاڑی کے شیشے کالے تھے، پچھلی سیٹوں پر بیٹھے لوگ دکھائی نہیں دے رہے تھے اور گاڑی ذیشان خود چلارہا تھا۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ کیوں اور کیسے ہوئی اس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی جس کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔صوبائی وزیر قانون کے مطابق سی ٹی ڈی کے موقف کے مطابق پہلا فائر ذیشان نے کیا تھا جبکہ لواحقین کے مطابق فائرنگ سی ٹی ڈی نے کی جس کا تعین ہونا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے تحت یہ تحقیقات بھی کی جائیں گی کہ خلیل کا ذیشان کے ساتھ کیا تعلق تھا اور ان کا خاندان ذیشان کی گاڑی میں کیوں سوار تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ذیشان کی گاڑی سے 2 خودکش جیکٹ، 8 ہینڈ گرنیڈ،2 پستول اور گولیاں برآمد ہوئیں، اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ اسلحہ کہاں اور کیوں لے جایا جارہا تھا۔وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ آپریشن کی خبر میڈیا پر نشر ہونے کے بعد ذیشان کے گھر میں موجود 2 دہشت گردوں نے سوشل میڈیا پر خبر دیکھی اورگوجرانوالہ کا رخ کیا۔انہوں نے کہا کہ جب ایجنسی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ان دہشت گردوں کا پیچھا کرکے انہیں گھیرے میں لے لیا تو انہوں نے اپنے آپ کو خودکش جیکٹوں کے ذریعے اڑالیا۔راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ اگر ان دہشت گردوں کا پیچھا نہیں کیا جاتا تو وہ پنجاب میں بہت بڑی تباہی پھیلادیتے، اس حوالے سے دہشت گردی کا انتباہ بھی موصول ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن انٹیلی جنس بنیاد پر آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کی جانب سے مشترکہ طور پر کیاگیا لیکن اس میں خلیل کے خاندان کے جانی نقصان کی وجہ سے آپریشن کی حیثیت چیلنج ہوگئی۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی ہے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائیگا اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور تمام ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔وزارت داخلہ کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبائی حکام نے جے آئی ٹی بنانے سے متعلق وزارت داخلہ کو رپورٹ کیا تھا جس کے بعد غیرجانبدارانہ جے آئی ٹی وزارت داخلہ نے تشکیل دی تھی

وزیر اعظم

مزید : صفحہ اول