سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کوانصاف کے کٹہرے میں لائینگے ، عثمان بزدار

سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کوانصاف کے کٹہرے میں لائینگے ، عثمان بزدار

اوکاڑہ(آن لائن)وزیر اعلیٰ پنجا ب عثمان بزدار نے کہاہے کہ ساہیوال واقعہ کے ذمہ داروں کوانصاف کے کٹہرے میں لائیں گے عوام کوانصاف ہوتا نظر آئے گا تحقیقات کے بعد ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اسے مثالی بنا دیں گے کوئی اس پر سیاست نہ چمکائے یہ حکومت کے لئے ایک چیلنج ہے ان خیالات کا اظہا رانہوں نے اوکاڑہ پہنچنے پر سابق صوبائی وزیر اور تحریک انصاف کے راہنما محمد اشرف خان سوہنا سے ملاقات کے دوران کی وزیراعلیٰ پنجا ب جب آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کے ہمراہ اوکاڑہ پہنچے تو محمد اشرف خان سوہنا نے ان کواستقبال کیا وزیر اعلیٰ پنجا ب کو ضلع افسران نے سانحہ ساہیوال کے بارے بریفنگ دی اور تمام تر صورت حال سے آگاہ کیا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہاہے کہ واقعہ سے رنجیدہ ہوں دودھ کادودھ اور پانی کا پانی کرنے کے لئے تمام تر سرکاری وسائل کو بروئے کار لیا جا رہا ہے تمام شواہد حقائق کاپتہ دیں گے اس واقعہ پر کسی کوسیاسی دکان نہیں چمکانے دیں گے ذمہ داران کسی طور بچ نہ پائیں گے اس واقعہ کومثالی بنا دیں گے بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے محمد اشرف خان سوہنا سے ون آن ون ملاقات کی جس میں انہوں اوکاڑہ کے مسائل سے آگاہ کیا جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے اشرف سوہنا کو ماسٹر پلان تیار کرنے کے لئے کہا جس میں اوکاڑہ کی تعلیم ، صحت اور دیگر ترقیاتی کاموں کو شامل کیا جائے اشرف خان کی نشاندہی پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے صفائی ستھرائی کے لئے جدید مشینری فراہم کرنے کے لئے تجاویز مرتب کرکے اوکاڑہ کے خصوصی پیکچ کا حصہ بنایا جائے ۔

عثمان بزدار

اسلام آباد(آن لائن) چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو کو ٹیلی فون کرکے ساہیوال واقعے کی تفصیلات دریافت کی ہیں ۔دونوں رہنماؤں نے واقعہ ساہیوال کی مکمل تفتیش کرنے، ذمہ داروں کا تعین کرکے قرار واقعی سزا دینے پر اتفاق رائے کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سینیٹر رحمان ملک کو واقعہ ساہیوال کی مکمل تفتیش و ذمہ داروں کا تعین کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اس موقع پر سینیٹر رحمان ملک نے واقعے پر پنجاب حکومت کے ابتدائی اقدامات کو سراہا اور کہا کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی کو واقعے پر بہت افسوس ہوا ہے، واقعہ کی شفاف ترین تفتیش کی جائے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے واقعہ ساہیوال پر آئی جی پولیس و ہوم سیکرٹری پنجاب سے جامع رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک کا کہناتھا کہ آئی جی پولیس و ہوم سیکرٹری پنجاب کمیٹی کو ایک ہفتے میں سانحہ ساہیوال پر جامع رپورٹ پیش کرے۔سانحہ ساہیوال کی تفتیش کرکے ذمہ داروں کا تعین کیاجائے تاکہ مجرموں کو عبرت ناک سزا ملے۔ آئی جی پولیس و ہوم سیکرٹری پنجاب کمیٹی کیطرف سے اٹھائے گئے 11 سوالات کے جوابات پر مشتمل رپورٹ جمع کرے۔ مقتولین و انکے خاندان کا مکمل پروفائل کمیٹی کو جمع کیا جائے۔ کیا مقتولین و خاندان کیخلاف کبھی کسی کیطرف سے کوئی ایف آئی آر درج ہوئی تھی یا نہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے مزید سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا مقتولین یا اسکے خاندان کا کسی سے کوئی دشمنی تھی یا خاندان کی اندر کوئی تنازعہ چل رہا تھا۔ جب مقتولین نے سی ٹی ڈی پولیس کے کہنے پر روڈ سائیڈ پر گاڑی کھڑی کی تو فائرنگ کیوں کی گئی۔ مقتولین کیطرف سے کسی مزاحمت و جوابی فائرنگ کے بغیر کیسے پولیس نے چار افراد کو قتل کیا۔ کیا 13 سالہ لڑکی کو اسلئے قتل کیا گیا کہ قتل کے عینی شاہد کو ختم کی جائے؟ ۔کیا مقتولین کیخلاف کوئی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا رپورٹ تھا اور اگر تھا تو کیاتھا۔ کیا مقتولین یا خاندان کا کسی بااثر شخصیت کیساتھ کوئی تنازع یا دشمنی تو نہیں چل رہا تھا۔ کیا پولیس مقابلہ قانون کے مطابق کسی سینئر پولیس افسر کے زیرنگرانی ہوا۔ پولیس مقابلے کے احکامات کیا کسی سینیر پولیس افسر نے دیئے تھے۔ رحمان ملک نے کہا کہ پولیس مقابلے دن دیہاڑے مین ہائی وے روڈ پر کیسے ہوا کرتے ہیں جسکو دنیا دیکھتی رہی۔

رحمان ملک

مزید : صفحہ اول