برطانوی محکمہ صحت کا علاج سے انکار پاکستانی شہری کی زندگی خطرے میں پڑ گئی

برطانوی محکمہ صحت کا علاج سے انکار پاکستانی شہری کی زندگی خطرے میں پڑ گئی

لندن(آئی این پی) برطانوی محکمہ صحت نے دم توڑتے پاکستانی مریض نصر اللہ خان کا علاج کرنے سے انکار کردیا جس کے سبب پاکستانی شہری کی زندگی خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق برطانوی محکمہ صحت نے 38 سالہ پاکستانی شہری نصر اللہ خان کے علاج سے انکار کردیا جس کے سبب پاکستانی شہری کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے، نصر اللہ خان گزشتہ 9 سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں جہاں وہ دل کے عارضے کا شکار ہوگئے تھے۔نصر اللہ کے دل کا ٹرانسپلانٹ ہونا ہے لیکن برطانوی ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر ان کے علاج سے انکار کردیا کہ نصر اللہ کے پاس برطانیہ کا ویزا نہیں ہے۔38 سالہ نصر اللہ خان کی اہلیہ اور بچے پاکستان میں مقیم ہیں، نصر اللہ نے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں سے ملنا چاہتے ہیں لیکن برطانیہ کے نئے قوانین آڑے آگئے ہیں۔برطانیہ کے نئے قوانین کے تحت این ایچ ایس بغیر ویزے کے مقیم افراد کا علاج نہیں کرتا ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں نے برطانیہ کی وزارت داخلہ پر سخت تنقید کی ہے۔پاکستانی نژاد برطانوی شہری نصر اللہ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ اور پاکستانی ہائی کمیشن سے اپیل کی ہے کہ علاج معالجے میں مدد اور اہل خانہ سے ملاقات کروائی جائے۔واضح رہے کہ دو سال قبل بھارتی ریاست چندی گڑھ میں ڈاکٹروں نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتون مریضہ کا علاج کرنے سے انکار کردیا تھا۔

پاکستانی

مزید : علاقائی