موبائل فونز درآمد پر52 فی صد ڈیوٹی سے فروخت میں ستر فیصدکمی کا خدشہ

موبائل فونز درآمد پر52 فی صد ڈیوٹی سے فروخت میں ستر فیصدکمی کا خدشہ

لاہور( افضل افتخار) حکومت کی جانب سے موبائل فونز کی درآمد پرڈیوٹی 44 سے 52 فی صد کے نفاذ سے ان کی فروخت ستر فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ان کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوجائے گا جس سے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے موبائل فونز کا کاروبار کرنے والے دکانداروں نے حکومت کے اس اقدام کو مسترد کردیا ہے اس حوالے سے ہال روڈ جو موبائل فون کے فروخت کی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے کہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے موبائل فونز کی قیمتوں میں بے پنا ہ اضافہ ہوگا اور ان کی خرید میں واضح کمی ہوگی جس سے نہ صرف حکومت کو نقصان ہوگا بلکہ اس سے ہمارا روز گار بھی خطرہ میں پڑے جائے گا حکومت کو موبائل فونز کی قیمتیں کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ کاروبار ترقی کرسکے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری عارف ،رانا مبشر ،سہیل گجر،نعیم الرحمان نے کہا کہ درآمدی ڈیوٹی سے موبائل فونز کی فروخت میں نمایاں کمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے ڈیوٹی میں اضافہ سے مختلف اقسام کے سمارٹ فونز بیس ہزار روپے تک مہنگے ہوجائیں گے 20 ہزار روپے مالیت کا سمارٹ فون 11 ہزار روپے مہنگا ہوکر 31 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ تیس ہزار کا سمارٹ فون 14 ہزار روپے مہنگا ہوکر اس وقت 44 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے وفاقی حکومت نے موبائل فون پر ڈیوٹی جی ایس ٹی ڈلیوی اور انکم ٹیکس کی شرح بڑھادی ہے جبکہ ایف بی آر کی جانب سے غیر تصدیق شدہ موبائل فون پر ڈیوٹی اورٹیکس پر اضافہ جرمانہ بھی عائد گیا ہے اس حوالے سے منور حسین،کلیم علی،شجاعت حسین،شہیر نے کہا کہ حکومت نے ڈیوٹی بڑھاکرمشکلات میں اضافہ کردیا ہے اور اس سے موبائل فونز کی فروخت میں نمایاں کمی ہوگی اور حکومت کو ٹیکس کی مد میں بھی کم پیسے ملیں گے اور اس سے ملک میں بے روگاری میں بھی اضافہ ہوگا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس فیصلہ پر غور کرے اور موبائل انڈسٹری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لئے اقدامات بروئے کار لائے تاکہ یہ انڈسٹری ترقی کرسکے ملک میں اس وقت اس انڈسٹری سے بہت بڑی تعداد میں لوگ منسلک ہیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئیے۔

مزید : کامرس