ترقی یافتہ ممالک میں تنہائی وبائی صورت اختیار کر رہی ہے،ڈاکٹرمرتضی مغل

ترقی یافتہ ممالک میں تنہائی وبائی صورت اختیار کر رہی ہے،ڈاکٹرمرتضی مغل

کراچی(اسٹاف رپورٹر ) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ دنیا تنہائی کے نئے بحران کی لپیٹ میں آ گئی ہے جس سے عالمی معیشت کو سالانہ کم ازکم تین سو ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔اکیلے رہنے، شادی نہ کرنے یا اس میں تاخیر، موبائل فون کے زیادہ استعمال ، نقل مکانی اور خاندانی نظام کے مسلسل کمزور ہونے سے تنہائی کا عذاب وبائی صورت اختیار کر گیا ہے جس سے بڑی عمر کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سماجی رویوں میں تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے سیلاب سے پیدا ہونے والے ڈپریشن اور دیگر بیماریاں تمباکو نوشی اور مٹاپے سے زیادہ خطرناک قرار دی جا رہی ہیں جن کے علاج پر بھاری اخراجات اٹھ رہے ہیں۔تنہائی کی وجہ سے امریکی معیشت پر سالانہ سات ارب ڈالر کا بوجھ بڑھا ہے جبکہ برطانیہ میں ہر تنہا شخص پر حکومت کو چھ ہزار پاونڈاضافی خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پیرس میں پچاس فیصد اور سٹاک ہوم میں ساٹھ فیصد لوگ اکیلئے رہ رہے ہیں جبکہ برطانیہ میں اکتیس فیصد گھر صرف ایک فرد پر مشتمل ہیں۔برطانیہ میں پچھتر سال سے زیادہ کے افراد میں سے نصف اکیلے رہ رہے ہیں جن سے کوئی بات کرنے والا نہیں ہوتا۔امریکہ میں گزشتہ پندرہ سال میں فی کس قریبی دوستوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے جبکہ کوئی دوست نہ رکھنے والوں کی تعداد تین گنا بڑھ گئی ہے۔چین میں 1980 سے اب تک دیہی آبادی نصف سے کم رہ گئی ہے جس سے ذہنی مریضوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے جبکہ جاپان میں ہر چوتھا شخص بوڑھا ہے جن میں سے ساٹھ لاکھ معمر افراد اکیلے رہتے ہیں۔ ان میں تنہائی سے بچنے کے لئے جان بوجھ کر چھوٹے موٹے جرائم کا ارتکاب کر کے جیل جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے تاکہ تنہائی سے جان چھڑا ئی جا سکے۔انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک میں جہاں خاندانی نظام میں جان باقی ہے صورتحال بہتر ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر